فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنے کی صہیونی مہم

اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں زمینوں کو ریاستی ملکیت قرار دینے کے ایک منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگر فلسطینی اپنی زمین کی ملکیت ثابت نہ کر سکے تو وہ زمین ریاست کے نام پر درج کی جا سکے گی، جس پر فلسطینی قیادت اور خطے کے کئی ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ 1967ء کی جنگ کے بعد پہلی بار اسرائیل کا بڑے پیمانے پر زمینوں کی رجسٹریشن شروع کرنے کا اعلان ہے۔ اقدام کا مقصد فلسطینیوں کی زمینیں چھین کر غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کے لیے قانونی راستہ ہموار کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت کسی بھی علاقے میں رجسٹریشن شروع ہونے پر زمین کا دعوی کرنے والوں کو ملکیت کے دستاویزی ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔ فلسطینی صدارتی دفتر نے اس اقدام کو سنگین اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ درحقیقت عملی الحاق (ڈی فیکٹو اینیکسشن) کے مترادف ہے۔حماس نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو ریاستی اراضی قرار دے کر قبضے کو قانونی شکل دینا چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت نے 2024 میں کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ اور مغربی کنارے میں بستیوں کا قیام غیر قانونی ہے اور اسے جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔

قابض و ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے حالیہ تاریخ کی بدترین ریاستی دہشت گردی اور نسل کشی کے ذریعے غزہ کو ملیامیٹ کردینے کے بعد اب مقبوضہ مغربی کنارے کی بچی کھچی فلسطینی اراضی پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش درحقیقت مشرق وسطی میں فلسطین نام کی کسی ریاست کے تصور کو ختم کرنے اور فلسطینی قوم کو ہمیشہ کے لیے غلام بنانے کی مجرمانہ ذہنیت اور مذموم منصوبے کا حصہ ہے اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی ایسا فورم ہی موجود نہیں ہے جہاں جاکر اس صریح ظلم اور برہنہ چنگیزیت کے خلاف داد رسی کی دہائی دی جاسکے۔ یہ امر سبھی کو معلوم ہے کہ اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے،اپنے ناجائز وجود کے بل بوتے پر نہیں بلکہ دنیا کی واحد سپر طاقت کہلانے والے ملک امریکا کی پشت پناہی پر کر رہا ہے۔ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ ادھر اسرائیل کا جنگی مجرم وزیر اعظم صہیونی دہشت گرد وزیر اعظم واشنگٹن میں امریکی صہیونی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے (ساتویں بار) ملاقات کرکے آتا ہے اور ادھر مغربی کنارے پر قبضے کی نئی مہم کا آغاز ہوجاتا ہے اور ساتھ میں غزہ پر دوبارہ جنگ مسلط کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ ماضی میں مغربی کنارے کے باضابطہ الحاق کی زبانی کلامی مخالفت کر چکے ہیں، تاہم ان کی انتظامیہ نے بستیوں کی تیز رفتار تعمیر کو روکنے کے لیے کوئی واضح اقدام نہیں کیا جیساکہ جنگ بندی کے باوجود صہیونی دہشت گرد فوج کی جانب سے غزہ میںدہشت گردی جاری رکھنے پر ٹرمپ انتظامیہ مہر بلب ہے۔

غزہ کی دوسالہ جنگ کے دوران دنیا میں اسرائیلی مظالم کا چرچا ہونے کے بعد ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے اور متعدد ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں۔ اسرائیل کی دہشت گرد حکومت اسے اپنی بہت بڑی شکست سمجھتی ہے اور وہ اس پر سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اسی بوکھلاہٹ کے عالم میں اس نے ایک جانب غزہ میں بچی کھچی عمارتوں کو بھی دھماکوں سے تباہ کرنا شروع کیا ہے اور دوسری جانب دیگر فلسطینی علاقوں میں بھی قبضے کی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ قابض اسرائیلی افواج نے پیر کے روز مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں بغیر لائسنس تعمیرات کا بہانہ بنا کر 60 گھروں اور تجارتی تنصیبات میں تعمیراتی کام روکنے اور انہیں مسمار کرنے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ صہیونی فوج نے فضائی حملوں، توپ خانے کی گولا باری اور غزہ کے مشرقی علاقوں میں نصب فوجی گاڑیوں سے فائرنگ کر کے کم از کم 14 شہری شہید کردیے ہیں، جب کہ اس کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیاں رکنے کا نام نہیں لے رہیں۔ ادھر کلب برائے اسیران نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے جاری جنگ کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں شہید ہونے والے ان اسیران کی تعداد 88 ہو گئی ہے جن کی شناخت ہو چکی ہے ان شہداء میں سے 52 کا تعلق غزہ کی پٹی سے ہے۔ تازہ اطلاعات بتارہی ہیں کہ صہیونی دہشت گرد ریاست کی جانب سے غزہ پر ایک بار پھر باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق صہیونی درندے نیتن یاہو کے قریبی معاون نے دعوی کیا ہے کہ حماس کے پاس اسلحہ ڈالنے کے لیے 60 دن ہیں بصورت دیگر اسرائیلی فوج کارروائی مکمل کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 60 روز کی یہ مہلت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ”درخواست” پر دی جا رہی ہے اور اسرائیل نے امریکی درخواست کا احترام کیا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ کی بھر پور مخالفت اور پوری دنیا میں انصاف پسند انسانوں کے احتجاج کا ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہورہا اور وہ فلسطینیوں کی منظم نسل کشی جاری رکھنے پر مصر ہے۔ اگر عالمی برادری کی جانب سے بے حسی اور لاتعلقی کارویہ جاری رہا تو اسرائیل فلسطینیوں کا قتل عام دوبارہ شروع کرنے اور غزہ اور مغربی کنارے پر مکمل قبضے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

یہاں یہ ایک بہت بڑاسوال ہے کہ کیا دنیا کے دو سو سے زائد ممالک اور آٹھ ارب انسانوں میں اتنی بھی سکت نہیں ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی ناجائز ،جارح، بدمعاش اور ولد الحرام ریاست کوانسانیت کے خلاف بدترین جرائم سے باز رکھ سکیں؟ کیا دنیا میں انصاف نام کی شے عنقا بن چکی ہے؟ کیا انسانیت کا ضمیر مرچکا ہے؟ اور کیا دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر محیط اور ستاون ممالک والی امت مسلمہ واقعتا مرحوم ہوچکی ہے؟ کیا عرب حمیت کا جنازہ نکل چکا ہے؟ کیا پاکستان،سعودی عرب،ترکیہ ،مصر جیسے ممالک فلسطینیوں کا وجود مٹانے کی صہیونی مہم پر ایک عدد مذمتی بیان جاری کرکے بری الذمہ ہوجائیں گے؟ جبکہ وقت کی پکار یہ ہے کہ عالم انسانیت صہیونی بدمعاشی کے خلاف اٹھ کھڑا ہو اور اپنے وجود کی افادیت کا ثبوت دے اور یہ ثابت کرے کہ واقعی اس وقت دنیا میں” عالمی برادری” نام کی کوئی شے بھی موجود ہے اور بین الاقوامی قانون کی بھی کوئی اہمیت ہے۔ عالم اسلام کم سے کم اب تو خواب غفلت سے بیدار ہوکر قبلہ اول بیت المقدس کے تحفظ اور فلسطینی مسلمانوں کی بقا اور حق خود ارادیت کے لیے موثر آواز بلند کرے۔