دہشت گردی کے خلاف ہمہ جہت اقدامات ناگزیر

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کیخلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کرلیا۔ یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ملکی سلامتی کے پیش نظر اعلی سطح کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں داعش کی پاکستان میں ممکنہ موجودگی کا خدشہ بھی زیر غور آیا، جبکہ کالعدم تنظیموں کے سلیپر سیلز کے خلاف کارروائیوں کی حکمت عملی پر مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی روشنی میں حتمی اقدام طے کیا جائے گا۔

امن و امان کسی بھی معاشرے کی بنیاد اور ریاستی استحکام کا اولین تقاضا ہے۔ ایک فرد کی روزمرہ زندگی سے لے کر ریاست کے اجتماعی معاملات تک ہر چیز کا دارومدار اسی پر ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں امن قائم ہو تو لوگ سکون کے ساتھ اپنی معاشی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، لیکن جب امن و امان کی صورت حال خراب ہو جائے تو زندگی کے تمام شعبے بری طرح متاثر ہو جاتے ہیں۔ خوف اور عدم تحفظ کی فضا میں نہ صرف ترقی کا عمل رک جاتا ہے بلکہ معاشرتی اعتماد بھی کمزور پڑنے لگتا ہے اور سماج میں ہر طرف بے چینی، بے سکونی اور بے یقینی کی فضا چھا جاتی ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے بیک وقت دو بڑے چیلنجز سے نبرد آزما ہے، ایک معاشی عدم استحکام اور دوسرا امن و امان کی غیر یقینی صورت حال۔ یہ دونوں مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ امن کے بغیر معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی، جب کہ ایک کمزور معیشت امن و استحکام کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔ سرمایہ کاری، تجارت اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے سب سے پہلی شرط یہی ہے کہ لوگوں کو اپنی جان و مال کا تحفظ حاصل ہو اور کاروباری ماحول میں خوف کا عنصر موجود نہ ہو۔اسی تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف ملک گیر کارروائی کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملکی سلامتی کے پیش نظر دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لیا گیا اور سلیپر سیلز کے خلاف حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کا حجم بہت بڑا ہے۔ جدید دنیا میں زیادہ آبادی کو بوجھ نہیں بلکہ ایک معاشی موقع سمجھا جاتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو ہنر اور تعلیم سے آراستہ کیا جائے تو یہی انسانی سرمایہ معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستانی نوجوانوں کی جانب سے آن لائن کاروبار اور فری لانسنگ کے ذریعے بڑی مقدار میں زرِ مبادلہ کمانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک کے انسانی وسائل میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم اس صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے لئے ایک پرامن ماحول ناگزیر ہے۔ بدقسمتی سے خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال نے پاکستان کے امن کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ افغانستان میں سیاسی تبدیلی کے بعد سرحدی علاقوں میں شدت پسند عناصر کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہ دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال کے اثرات بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی خونریز کارروائیوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں، جس سے شہریوں میں خوف اور بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی دہشت گردی کے سنگین بحران سے گزر چکا ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ قومی تاریخ کا ایک المناک باب تھا جس نے پوری قوم کو یکجا کر دیا۔ اس سانحے کے بعد قومی ایکشن پلان اور وسیع پیمانے پر آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔ یہ تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور عوام ایک پیج پر آ جائیں تو دہشت گردی کی کمر توڑی جا سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ریاست نہ صرف فوری کارروائی کرے بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی بھی اختیار کرے۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سرحدی نگرانی اور انتہا پسندی کے بیانیے کا توڑ ایسے اقدامات ہیں جو دیرپا امن کے لئے ضروری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اتفاقِ رائے بھی ناگزیر ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رہ سکے۔

امن و امان کی خرابی کا سب سے زیادہ اثر عام شہری پر پڑتا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں، سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور ریاست کو سیکورٹی اخراجات میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ نتیجتاً قومی خزانے پر دباؤ بڑھتا ہے اور معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کو صرف سیکورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی استحکام کی شرط کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔ساتھ ہی یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی جیسے پیچیدہ مسئلے کا حل صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں۔ مکالمہ اور سفارتکاری بھی ضروری ہے۔ مذہبی اور سیاسی قیادت کو بھی عسکریت پسندی کے خلاف واضح اور متفقہ موقف اختیار کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں برداشت اور اعتدال کا ماحول فروغ پا سکے، اسی سے پائیدار امن کی صبح پھوٹ سکتی ہے۔

ریلیف پیکیجز کے ساتھ سسٹم کو ٹھیک کرنے پر توجہ دی جائے

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ ماہِ رمضان کے دوران چالیس لاکھ گھرانوں کو چالیس ارب روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق رمضان نگہبان پیکیج کا مکمل نظام ڈیجیٹل اور شفاف ہوگا تاکہ امداد حقیقی مستحقین تک باوقار انداز میں پہنچ سکے۔ بلاشبہ یہ ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے، کیونکہ رمضان المبارک میں کم آمدنی والے طبقات کی ضروریات بڑھ جاتی ہیں اور ایسے میں حکومتی معاونت ان کیلئے بڑا سہارا ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی حکومت کی جانب سے بھی عوامی ریلیف کیلئے مختلف پیکیجز کا اعلان کیا گیا ہے، جو مجموعی طور پر خوش آئند بات ہے، توقع ہے کہ ان اقدامات سے بڑی تعداد میں لوگوں کو کسی حد تک ریلیف ملے گا، تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ وقتی امدادی پیکیجز کے ساتھ ساتھ نظام کی بہتری پر سنجیدگی سے توجہ دینا ناگزیر ہے۔ مہنگائی پر قابو پانا، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ کرنا اور مارکیٹ کو کنٹرول کرنا بنیادی ترجیحات ہونی چاہئیں۔ انتظامی معاملات کو جدید خطوط پر استوار کرکے انہیں زیادہ خودکار اور شفاف بنایا جائے تاکہ عوامی ریلیف وقتی اقدامات تک محدود نہ رہے بلکہ مستقل بہتری کی صورت اختیار کر سکے۔