رمضان المبارک کے تقاضے

رمضان کا مبارک مہینہ ایک بار پھر اپنے انوارات وبرکات کے ساتھ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے۔خلیج سمیت دنیا کے بیشتر حصے میں رمضان المبارک کا آج دوسرا دن ہے، جبکہ بدھ کی رات حرمین شریفین میں پہلی تراویح ادا کی گئی جس میں دنیا بھر سے آئے ہزاروں مسلمان بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوئے اور ماہ رمضان پانے پر شکر اور مغفرت کی دعائیں مانگیں۔ منگل کی شام سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عراق، یمن، لبنان، فلسطین اور افغانستان میں رمضان کا چاند نظر آیا جس کے بعد ان ممالک میں بدھ کو پہلا روزہ رہا۔ تادم تحریر باقی اسلامی دنیامیں پہلا روزہ آج ہونے کی توقع ہے۔

رمضان المبارک ایک بار پھر اپنی رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کے ساتھاآچکا ہے۔ یہ اللہ رب العزت کا بے پایاں فضل و کرم ہے کہ اس نے ہمیں صحت و سلامتی کے ساتھ ایک اور رمضان نصیب فرمایا اور اپنی رحمت کے سائے میں زندگی کو سنوارنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور نیکیوں کا سرمایہ جمع کرنے کا موقع عطا کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک مکمل روحانی تربیت گاہ ہے، جہاں انسان اپنے نفس کو قابو میں رکھنے، اپنی اصلاح کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط بنانے کی مشق کرتا ہے۔ رمضان المبارک اسلامی مہینوں کا سردار اور بے مثال عظمت والا مہینہ ہے۔ اس مہینے کو دین اسلام میں ایک منفرد مقام حاصل ہے، کیونکہ یہ قرآن کریم کا مہینہ ہے۔ اسی مہینے میں اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری کلام اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک اور قرآن کریم کا تعلق نہایت گہرا اور مضبوط ہے۔ اس مہینے میں قرآن کی تلاوت، اس پر غور و فکر اور اس کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح رمضان انسان کو اس کتابِ ہدایت سے جوڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ رمضان المبارک کی برکتوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی آمد سے پہلے ہی اس کی روحانی کیفیات ہر مسلمان کو محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ مساجد آباد ہونے لگتی ہیں، عبادات کا ذوق بڑھ جاتا ہے اور پورا ماحول ایک خاص سکون اور تقدس میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ مہینہ انسان کے دل میں نرمی، عاجزی اور خشوع پیدا کرتا ہے۔ بزرگانِ دین کا یہ قول کہ رحمتِ حق ”بہا” (قیمت)نہیں مانگتی بلکہ بہانہ تلاش کرتی ہے، رمضان کا آئینہ دار ہے۔ گویا یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو بخشنے اور نوازنے کا ایک عظیم موقع ہے۔

روایات میں آتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے استقبال کیلئے پہلے ہی سے تیاری فرمایا کرتے تھے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ رمضان کو محض ایک معمول کا مہینہ نہیں بلکہ ایک نعمت سمجھ کر اس کی قدر کرنی چاہیے۔ رمضان المبارک احساس اور مواسات کا مہینہ ہے۔ روزہ انسان کو بھوک اور پیاس کے ذریعے یہ سکھاتا ہے کہ معاشرے میں موجود محروم اور ضرورت مند افراد کی تکلیف کو محسوس کیا جائے۔ یہی احساس انسان کو دوسروں کی مدد اور خدمت کی طرف مائل کرتا ہے۔ روزہ محض بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، زبان اور اعمال کو قابو میں رکھنے کا عملی سبق ہے۔ بزرگان دین بتاتے ہیں کہ صبر، شکر، برداشت اور تقویٰ اس مہینے کے بنیادی اسباق اور تقاضے ہیں۔ رمضان المبارک میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، جس سے یہ مہینہ گویا نیکیوں کے موسم بہار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن، تراویح، ذکر و اذکار اور صدقہ و خیرات جیسے اعمال انسان کی روحانی ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس مہینے کی ایک بڑی برکت یہ بھی ہے کہ اس میں نیکیوں کی طرف رغبت بڑھ جاتی ہے اور برائیوں سے بچنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا ماحول بن جاتا ہے جو انسان کو خود بخود اصلاح کی طرف لے جاتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زندگیوں کو بہتر بنا لیتے ہیں، تاہم یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ جس طرح رمضان میں نیکیوں کا اجر بڑھ جاتا ہے، اسی طرح گناہوں کی سنگینی بھی بڑھ جاتی ہے، لہٰذا اس مہینے میں گالم گلوچ، جھگڑے، دھوکا دہی اور دوسروں کو تکلیف دینے جیسے اعمال سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔

رمضان المبارک کا ایک اہم پہلو سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ یہ مہینہ دوسروں کے بوجھ کو کم کرنے اور آسانیاں پیدا کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ ضرورت مندوں کی مدد، مساکین کی خبر گیری اور محتاجوں کی اعانت اس مہینے کی روح کے عین مطابق ہے۔ یہی وہ اعمال ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور معاشرے میں محبت اور ہمدردی کو فروغ دیتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں رمضان المبارک کو دنیاوی کمائی کا سیزن بنا دیا جاتا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری جیسے رویے اس مقدس مہینے کے احترام کے منافی ہیں۔ دنیا بھر میں مذہبی اور قومی تہواروں کے موقع پر لوگوں کو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں اس کے برعکس صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

تاجروں، صنعت کاروں اور مال دار طبقے کو چاہیے کہ رمضان المبارک میں خصوصی رعایتیں دیں، ملازمین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں اور ضرورت مندوں کی مدد کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ اسی طرح ہر فرد کو اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے خیر اور بھلائی کے کاموں میں حصہ لینا چاہیے۔ یہی وہ اعمال ہیں جو رمضان المبارک کو حقیقی معنوں میں بابرکت بناتے ہیں۔رمضان المبارک دراصل آخرت کی کمائی کا بہترین موسم ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جو انسان کو بار بار نہیں ملتا۔ اس مہینے کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اپنی زندگی کا جائزہ لے، گناہوں سے توبہ کرے اور آئندہ کیلئے بہتر انسان اور اچھا مسلمان بننے کا عزم کرے۔ جو لوگ اس مہینے کو غفلت میں گزار دیتے ہیں، وہ ایک عظیم نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ رمضان المبارک کو اس کی حقیقی روح کے مطابق گزارا جائے۔ عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق، معاملات اور سماجی رویوں میں بھی بہتری لائی جائے۔ یہی رمضان کا اصل پیغام ہے اور یہی اس مہینے کی برکتوں کو حاصل کرنے کا راستہ ہے۔ رمضان دعاؤں کی قبولیت کا بھی مہینہ ہے۔ اس لیے ہمیں رمضان کے مبارک لمحات میں دعاؤں کا بھی اہتمام کرنا چاہیے اور خاص طور پر غزہ کے مظلوم مسلمانوں کواپنی سحرگاہی دعاؤں میں ضرور یاد رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے، اس کی رحمتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔