آئینی عدالت کے بجائے سپریم کورٹ میں وکیل کی حاضری پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے آئینی عدالت برہم ہو گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت سب سے بڑی عدالت ہے، یہ طریقہ ٹھیک نہیں کہ وکیل یہاں کی بجائے سپریم کورٹ میں پیش ہو۔
جسٹس حسن رضوی نے ہدایت کی کہ وکلاء حضرات پہلے آئینی عدالت میں پیش ہوں، آئندہ وکیل پیش نہ ہوا تو مقدمہ خارج کر دیا جائے گا۔
جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پراپرٹی کیس میں ریمارکس دیے۔
کیس پراپرٹی تنازعہ سے متعلق تھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے ایڈووکیٹ نور اعوان کی غیر حاضری پر ریمارکس دیے۔

