رپورٹ: علی ہلال
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد صورتحال میں نمایاں کشیدگی آ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر بحری ناکہ بندی ( Blockade Naval ) عائد کرنے کی دھمکی دی ہے جس کے مطابق ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق یہ ناکہ بندی خلیج فارس اور خلیج عمان میں واقع ایرانی بندرگاہوں تک محدود ہوگی جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ان جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایران کے علاوہ دیگر ممالک کی بندرگاہوں کی طرف جارہے ہوں گے۔ایرانی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات کیا ہوں گے؟ اس حوالے سے عرب میڈیا نے مختلف تحقیقاتی رپورٹوں میں بتایا ہے جس کے مطابق یہ ممکنہ ناکہ بندی صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں بلکہ ایران کی پوری ساحلی تجارتی پٹی کو نشانہ بناتی ہے، کیونکہ ایران کی 90 فیصد سے زیادہ تجارت انہی بندرگاہوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ایران کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
اہم ایرانی بندرگاہیں
اہم ایرانی بندرگاہیں اور ان کی اہمیت کیا ہے؟ اس حوالے سے معلومات کے مطابق سب سے سرفہرست نام بندر عباس (شہید رجائی بندرگاہ) کا ہے۔ یہ ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔ یہاں سے ملک کی تقریباً 85 فیصد کنٹینر ٹریفک گزرتی ہے۔ سالانہ کروڑوں ٹن سامان کی ترسیل کے ساتھ یہ بندرگاہ ایران کی نصف سے زائد تجارت کا مرکز ہے۔ اگر اس بندرگاہ کو بند کر دیا جائے تو نہ صرف ایران کی برآمدات و درآمدات متاثر ہوں گی بلکہ وسطی ایشیا اور بھارت کے درمیان تجارتی راہداری بھی معطل ہو سکتی ہے۔جزیرہ خارک کا نام دوسرے نمبر پر آتا ہے۔یہ ایران کی سب سے اہم تیل برآمدی تنصیب ہے جہاں سے تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل کے باعث یہ ایران کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر اس جزیرے کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کی تیل آمدنی تقریباً ختم ہو سکتی ہے۔
تیسرا نام بندر خمینی کا ہے۔ یہ بندرگاہ ایران کی غذائی درآمدات کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں سے 50 فیصد سے زیادہ ضروری اشیاء ملک میں داخل ہوتی ہیں۔ اس کی بندش سے خوراک اور مویشیوں کے چارے کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے جس سے مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ چوتھے نمبر پر بندر ماہشہر ہے۔ یہ بندرگاہ پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل برآمدات کے لیے اہم ہے۔ یہاں سے لاکھوں بیرل ریفائن شدہ تیل اور گیس مصنوعات برآمد ہوتی ہیں۔ اس کی بندش ایران کی پیٹروکیمیکل صنعت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بندر بوشہر بھی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ بندرگاہ علاقائی تجارت اور ماہی گیری کے لیے اہم ہے۔ یہاں سے لاکھوں ٹن سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کی بندش سے جنوبی ایران کی مقامی معیشت متاثر ہوگی۔
عسلوئیہ (پارس گیس کمپلیکس) ایران کا سب سے بڑا گیس اور پیٹروکیمیکل مرکز ہے جہاں ملک کی تقریباً نصف پیٹروکیمیکل پیداوار ہوتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ایران کی صنعتی پیداوار اور برآمدات کو شدید متاثر کرے گی۔رپورٹس کے مطابق اس بندرگاہ میں 15 برتھ (لنگر انداز ہونے کی جگہیں) موجود ہیں اور یہ 80 ہزار ٹن وزنی جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ سالانہ تقریباً 35 ملین ٹن پیٹروکیمیکل مائع برآمد کرنے کی گنجائش بھی رکھتی ہے۔ اپریل 2026ء میں اسرائیلی حملوں کے دوران اس کمپلیکس کو توانائی اور پانی فراہم کرنے والے تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ’زاغروس‘ اور ’مرجان‘ جیسی بڑی کمپنیوں کی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پیٹروکیمیکل شعبہ اس بندرگاہ کے ذریعے سالانہ تقریباً 13 ارب ڈالر کی آمدنی پیدا کرتا ہے جو ایران کی غیر تیل برآمدات کا 22 فیصد بنتی ہے۔ اس لیے عسلوئیہ کی بندش ایران کو اس شعبے کی تقریباً نصف آمدنی سے محروم کر سکتی ہے۔
بندرگاہ چابہار بھی ایران کی اہم بندرگاہوں میں سے ہے۔ چابہار بندرگاہ صوبہ سیستان و بلوچستان میں خلیج عمان کے ساحل پر واقع ہے اور یہ ایران کی واحد بندرگاہ ہے جو براہ راست بحیرہ ہند تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ بھارت 2018ء سے اس بندرگاہ کی ترقی اور آپریشن میں شامل ہے۔ بھارتی وزارت بندرگاہوں کے مطابق یہاں اب تک 90 ہزار سے زائد کنٹینرز اور 8.4 ملین ٹن عمومی سامان کی ہینڈلنگ ہوچکی ہے جبکہ افغانستان کو 2.5 ملین ٹن گندم اور ہزاروں ٹن دالیں بھی اسی راستے منتقل کی گئی ہیں۔ 2024ء میں اس بندرگاہ کی کنٹینر ٹریفک میں 83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو بڑھ کر تقریباً 90,800 کنٹینرز تک پہنچ گئی۔ اگرچہ چابہار کا حجم بندرعباس کے مقابلے میں کم ہے تاہم یہ ایران کو آبنائے ہرمز سے باہر ایک متبادل تجارتی راستہ فراہم کرتی ہے اور بھارت، افغانستان اور یورپ کے درمیان راہداری کا اہم حصہ ہے۔ اس کی بندش سے نہ صرف متبادل راستہ متاثر ہوگا بلکہ غیرملکی سرمایہ کاری بھی کم ہو سکتی ہے۔
بندرگاہ جاسک بھی اہم ایرانی بندرگاہوں میں شامل ہے۔ بندرگاہ جاسک خلیج عمان کے ساحل پر آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے اور اسے ’گورہ، جاسک‘ پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل کے لیے متبادل راستے کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس بندرگاہ کی نظریاتی گنجائش 10 لاکھ بیرل یومیہ ہے اور اس میں 20 ملین بیرل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے، تاہم عملی طور پر اِس وقت صرف 3 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ کی سطح پر کام ہو رہا ہے۔مارچ 2026ءمیں ایران کی کل تیل برآمدات میں جاسک کا حصہ صرف 4.4 فیصد تھا جبکہ خارک جزیرہ بدستور 84 فیصد سے زائد حصہ سنبھالے ہوئے تھا۔ اس لیے جاسک ایک معاون راستہ تو ہے مگر مکمل متبادل نہیں۔اگر اسے بھی ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑے تو ایران کے پاس آبنائے ہرمز سے باہر تیل برآمد کرنے کا واحد متبادل راستہ بھی ختم ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر ایرانی جنوبی بندرگاہوں پر موثر ناکہ بندی نافذ ہوجاتی ہے تو اس کے اثرات صرف تیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا تجارتی نظام متاثر ہوگا۔ ایران کی سالانہ غیرملکی تجارت کا حجم تقریباً 110 ارب ڈالر ہے جو یومیہ تقریباً 300 ملین ڈالر بنتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر تجارت خلیج فارس اور خلیج عمان کی بندرگاہوں کے ذریعے ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ روزانہ تقریباً 270 ملین ڈالر کی غیرتیل تجارت متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم سب سے بڑا اور فوری نقصان تیل کی برآمدات میں رکاوٹ کی صورت میں ہوگا خاص طور پر جزیرہ خارک کی بندش کی صورت میں جو ایران کی معیشت کے لیے سب سے اہم ذریعہ آمدن ہے۔اس کے علاوہ پیٹروکیمیکل مصنوعات، ریفائنڈ تیل اور مائع گیس کی برآمدات بھی متاثر ہوں گی جو ملکی خزانے کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ فراہم کرتی ہیں۔بعض اندازوں کے مطابق اگر بحری تجارت اور تیل کی برآمدات تقریباً مکمل طور پر رُک جائیں تو ایران کو یومیہ 400 ملین ڈالر یا اس سے زیادہ کا نقصان ہوسکتا ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔

