ماضی کے دریچے سے جھانکتی یادیں

(مضمون: بنت ِافضل ہدیٰ)
میں نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جس کے بڑے نہ صرف اللہ والوں سے عقیدت بلکہ اِک مضبوط رشتہ اور تعلق بھی رکھتے تھے۔ الحمدللہ! میرے والد گرامی نوراللہ مرقدہ حضرت مولانا قاری عبدالحئی عابد (نوراللہ مرقدہ) سے بیعت تھے۔ حضرت قاری صاحب ہمارے علاقے میں جب بھی تشریف لاتے‘ چھوٹی ہونے کی وجہ سے والد صاحب کے ساتھ میں بھی حضرت سے پیار لینے جایا کرتی بلکہ والد صاحب بتایا کرتے تھے کہ میرے نام بھی حضرت قاری صاحب (نوراللہ مرقدہ) نے رکھا۔ بہت چھوٹی عمر میں ذہن کے نہاں خانے میں یہ یاد موجود ہے کہ ہم سب بہن بھائی والد صاحب کے ساتھ لاہور حضرت قاری صاحب (نوراللہ مرقدہ) کی خدمت میں حاضر ہوکر، حضرت قاری صاحب (نوراللہ مرقدہ) کی صحبت سے فیض یاب ہوتے۔ اللہ ربُّ العزت کی معرفت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق، عقائد کی درستگی، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت، شرک وبدعت سے دوری ہم سب بہن بھائیوں کو حضرت مولانا قاری عبدالحئی عابد صاحب (نوراللہ مرقدہ) کی صحبت سے نصیب ہوئی۔
حضرت مولانا قاری عبدالحئی عابد قادری سلسلہ میں حضرت مولانا احمدعلی لاہوری (نوراللہ مرقدہ) سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے حضرت لاہوری رحمةاللہ علیہ سے دست بدست بیعت کا شرف حاصل کیا اور اُن کے بیٹے حضرت مولانا عبیداللہ انور رحمة اللہ علیہ سے خلافت و اِجازت حاصل کی۔ حضرت قاری صاحب رحمةاللہ علیہ خطیب پاکستان مناظر اسلام حضرت مولانا ضیاءالقاسمی شہید رحمة اللہ علیہ کے چھوٹے بھائی تھے۔ اللہ ربُّ العزت کی طرف سے حضرت قاری صاحب رحمةاللہ علیہ کو گفتگو کرنے میں خاص ملکہ وکمال حاصل تھا، آپ بات کرتے تھے گویا دل موہ لیتے تھے۔ جب قرآن پڑھتے اور توحید کی ضرب لگاتے تو سامعین کے دل میں پیغام قرآن اُتر جاتا۔ آپ شان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ٰ نہایت خوبصورت انداز میں بیان کرتے۔ بیان کے دوران آپ کا اشعار پڑھنا ایمان کو گرما دیتا۔ عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوب کر جب پڑھتے
اُن جیسا کوئی اب تک نہ ہوا
اُن جیساکوئی ہوگا بھی نہیں
اُس کمبل پوش میں قربان
سیرت بھی حسیں صورت بھی حسیں
کیا اُس کا مقام و مرتبہ ہے
اِس بات سے اندازہ کرلو
آغاز ہیں اُن کی منزل کا
رُک جائیں جہاں جبرئیل امیں ؑ
تو مجمعہ جھوم اٹھتا۔ جب پڑھتے
درِ مصطفی پہ جو آتا ہے لوگو
وہ در در پہ سر کو جھکاتا نہیں
نبی کا ہے فرماں عبادت خدا کی
وہ مشرک کو اپنا بناتا نہیں
نبیوں نے توحید ہم کو سکھائی
جسم اپنا پتھروں سے زخمی کراکے
وہ کہتے لوگو !پڑھو لاالہ
خدا کے سوا کوئی داتا نہیں ہے
لااِلہ کی ضرب دل پر پڑتی، جذبہ ایمانی کو جلا ملتی اور روح سرشار ہوجاتی۔ ملک کے طول و عرض اور بیرون ملک سے بھی لوگ آپ ؒکو بلایا کرتے۔ آپ کے بیانات شوق سے سنے جاتے۔ آپ کی آواز میں نوجوانوں کی سی گرج تھی۔ 2009ء میں دادی جان کے انتقال کے کچھ دن بعد والد صاحب نے جلسہ کروایا۔ حضرت قاری صاحبؒ علالت کے باوجود تشریف لائے۔ بیان ہوا، ہم گھر کی چھت پر بیٹھ کر بیان سن رہے تھے۔ کزن کہنے لگیں کہ آواز سے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی نوجوان ہو، حالانکہ حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ کا اُس وقت دل کا بائی پاس ہوچکا۔ (دل کے مریض تھے اور جوانوں کی سی آواز تھے، اللہ کے پیارے بندے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔)
ہمارے ہاں آپ رحمة اللہ علیہ کی شخصیت آج بھی آئیڈیل مانی جاتی ہے۔ لوگ اپنے بچوں کا نام آپ کے نام پر رکھتے ہیں۔ بڑے بوڑھے آج بھی آپ کے اخلاق کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔ آپ رحمة اللہ علیہ آخردم تک جامع مسجد مدنی غازی آباد لاہور کے خطیب رہے۔ آپ نے اپنے اردگرد جہاں کئی مساجد مدارس تعمیر کروائے، وہیں اپنے دو ذاتی ادارے جامعہ رحیمیہ تعلیم القرآن اور مدرسہ رحیمیہ تعلیم البنات بھی قائم کئے۔ کئی مسجدوں کی بنیاد آپ رحمة اللہ علیہ کے ہاتھ سے رکھی گئی۔ ہمارے گاوں ’لوہاری والا‘ کی جامع مدنی مسجد کی بنیاد بھی آپ رحمة اللہ علیہ نے رکھی۔ آہ! دنیائے خطابت کا یہ بے تاج بادشاہ، لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تبدیل کرکے، اللہ اللہ سے ناواقف لوگوں کو اللہ ربُّ العزت کی معرفت کا سبق دے کر 8 فروری بروز جمعہ صبح بوقت فجر (2013ء) اس فانی دنیا سے رخصت ہوا۔ (اناللہ وانا الیہ راجعون! اللہ ربّ العزت آپ کی قبر مبارک پر کڑوروں رحمتیں نازل فرمائے اور آپ کو علیین میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آپ رحمة اللہ علیہ کے بیٹے حضرت مولانا طلحہ عابد (دامت برکاتہم العالیہ) اور حضرت مولانا زبیر عابد ( دامت برکاتہم العالیہ) ہیں، جو آپ آپ کے علمی و نسبی جانشین ہیں۔
والد صاحبؒ رات سونے سے پہلے مجھے کہتے: بیٹا! قاری صاحب کی تقریر لگادو۔ میں پوچھتی ابوجی! کون سی؟ ابوجی فرماتے: وہ پشاور میں جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان میں کانفرنس ہوئی۔ والد صاحب حضرت قاری صاحب کے دوبیان بہت زیادہ شوق سے سنتے؛ ایک شان عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور دوسرا شان امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا۔ حضرت قاری صاحب رحمةاللہ علیہ کی ہی صحبت کا اثر تھا کہ والد صاحب عالم نہیں تھے لیکن عالم لگتے تھے۔ کبھی دائی حلیمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں شعر سناتے، کبھی صحابہ ؓ کا مقام بتاتے۔ والد صاحب نے اپنی زندگی کے آخری دن ظہر کے بعد آدھا گھنٹہ مجھ سے علمی گفتگو فرمائی۔ مجھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عمریں بتاتے رہے۔ بتانے لگے کہ صحابہ کرام ؓمیں آخر میں وفات پانے والے حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی عمر 1300 سال تھی (علیٰ اختلاف الاقوال)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 63سال کی عمر میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔
گفتگو کے دوران میں نے پوچھا: ابوجی! آپ کی عمر کتنی ہے؟ والد صاحب نے اپنی پیدائش کا سنہ بتایا تو میں حساب لگا کر بولی: ابوجی! آپ کی عمر 57 سال ہوچکی ہے۔ کہاں معلوم تھا کہ اپنے مشفق باپ کے ساتھ یہ میری آخری گفتگو ہے۔ والد صاحب حضرت قاری صاحب ؒکی صحبت میسر ہونے کی وجہ سے اللہ والوں سے بہت محبت رکھتے تھے۔ والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہماری چھوٹی سی بستی بہت خوش قسمت ہے کہ اس میں اللہ والے بہت زیادہ آتے ہیں، جماعتیں آتی ہیں، نیک لوگوں کی صحبت میسر آتی ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری زندگیاں تبدیل ہوتی ہیں۔ تو یہ اللہ والوں سے محبت ہمیں اپنے بڑوں سے ورثہ میں ملی۔ اللہ ربُّ العزت ہمیں اِس ورثے کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ربّ العزت اپنے پیاروں کی محبت سے ہمارے دلوں کو لبریز فرمائے۔ جو ہستیاں جو بزرگ ہم میں موجود ہیں ہمیں اُن کی قدردانی نصیب فرمائے اور جو ہم سے رخصت ہوئیں اُن کو علیین میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین!