پیڈرو سانچیز، یورپ میں ٹرمپ کے شدید مخالف اور غزہ کی توانا آواز

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز (Pedro Sánchez) آج یورپی سیاست میں ایک ایسے رہنما کے طور پر سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف یورپی یونین کے اندر طاقت کے روایتی توازن کو چیلنج کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر خارجہ پالیسی کے ایک نئے، نسبتاً خودمختار اور ’پروگریسو‘ زاویے کو بھی نمایاں کیا ہے۔ بین الاقوامی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق وہ اس وقت یورپ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے واضح، مستقل اور موثر ناقدین و مخالفین میں شمار کیے جارہے ہیں جبکہ غزہ جنگ پر اُن کا موقف انہیں یورپی سیاست میں ایک غیرمعمولی اخلاقی و سیاسی مقام دیتا ہے۔ انہیں یورپ میں غزہ کی سب سے توانا آواز قرار دیا جاتا ہے۔
ٹرمپ مخالف بیانیہ
سانچیز اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات محض سیاسی بیانات یا میڈیا بیانیے تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کا اثر عملی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات تک پھیل چکا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اسپین نے متعدد مواقع پر امریکی دباو کے باوجود آزاد موقف اختیار کیا، خاص طور پر نیٹو کے دفاعی اخراجات میں اضافے، مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری حکمت عملی اور ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے حوالے سے۔یہی نہیں بلکہ بعض معاملات میں اسپین کے فیصلوں نے واشنگٹن میں شدید ناراضی کو جنم دیا، خصوصاً اُس وقت جب میڈرڈ نے اپنی فوجی تنصیبات کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور دفاعی سطح پر تناو کے آثار بھی نمایاں ہوئے۔ مبصرین کے مطابق سانچیز نے دانستہ طور پر ایک ”خودمختار یورپی خارجہ پالیسی“ کا تصور مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے جو امریکی اثر و رسوخ کے مقابل نسبتاً آزاد ہو۔
غزہ جنگ پردوٹوک موقف
پیڈرو سانچیز کا سب سے زیادہ نمایاں اور عالمی سطح پر زیرِ بحث آنے والا موقف غزہ میں نسل کشی کی اسرائیلی جنگ کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ وہ ان چند یورپی رہنماوں میں سرفہرست ہیں جنہوں نے غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں پر نہایت سخت اور دوٹوک زبان استعمال کی۔ انہوں نے مختلف مواقع پر غزہ کی صورت حال کو ’شدید انسانی تباہی‘ اور بعض بیانات میں ’نسل کشی‘ جیسے الفاظ کے ذریعے بیان کیا جس نے یورپی سفارتی حلقوں میں شدید بحث کو جنم دیا۔سانچیز کا موقف روایتی یورپی احتیاط سے ہٹ کر ایک واضح سیاسی لائن کی نمائندگی کرتا ہے جس میں شہریوں کے تحفظ، فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو بنیادی ترجیح دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں یورپ میں ان چند رہنماوں میں شمار کیا جاتا ہے جو اسرائیلی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے کی سیاسی جرات رکھتے ہیں۔ ستمبر 2025ء کے اوائل میں پیڈرو سانچیز نے وہ اعلان کیا جس نے یورپ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ارتعاش پیدا کردیا۔ آٹھ ستمبر کو انہوں نے اپنے ملک کی طرف سے اسرائیل پر اسلحے کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے، اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے لیے ایندھن لے جانے والے جہازوں کو ہسپانوی بندرگاہوں میں لنگرانداز ہونے سے روکنے اور غزہ میں جاری ”نسل کشی“ کو بند کرانے کے لیے ایک سلسلہ وار اقدامات کی منظوری دی۔ سانچیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ ”میڈرڈ کے پاس نہ ایٹمی ہتھیار ہیں، نہ طیارہ بردار جہاز اور نہ ہی وسیع تیل کے ذخائر، اس کے باوجود ہمیں کوشش جاری رکھنی چاہیے کیونکہ کچھ مسائل ایسے ہیں جو محض طاقتوروں کی جنگ نہیں بلکہ انسانیت کی جنگ ہیں۔“
غزہ کیلئے ’سب سے توانا آواز‘
مختلف تجزیہ کاروں کے مطابق پیڈرو سانچیز اِس وقت یورپ میں غزہ کے شہریوں خصوصاً بچوں کے لیے ایک علامتی اور عملی سیاسی آواز کے طور پر اُبھرے ہیں۔ اُن کی تقاریر میں انسانی ہمدردی، اخلاقی ذمہ داری اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا عنصر نمایاں رہتا ہے۔ وہ مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جنگی حکمت عملیوں کے درمیان عام شہریوں کو نشانہ بننے سے ہر صورت روکا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے ایک علامتی مگر اہم واقعہ بھی اکثر بین الاقوامی میڈیا میں زیرِ بحث آتا ہے کہ سانچیز نے اپنے سرکاری دفتر میں غزہ کے ایک بچے کی جانب سے لکھا گیا خط اپنی میز پر رکھا ہوا ہے۔ یہ خط اُن کے لیے محض ایک یادگار نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی یاد دہانی کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو اُن کی پالیسی سازی اور بیانات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ علامت انہیں دیگر یورپی رہنماوں سے مختلف بناتی ہے کیونکہ وہ انسانی بحران کو محض سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے سانچیز کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے دفتر کی میز پر ایک یادگار چیز رکھی ہوئی ہے جو مجھے روزانہ غزہ کے بچوں کی تکلیف اور مصائب یاد دلاتی ہے۔ یہ ایک بوتل ہے جس کے اندر غزہ کے ایک بچے کا لکھا ہوا پیغام محفوظ ہے۔
یورپی سیاست میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
سانچیز کی خارجہ پالیسی نے اسپین کو یورپی یونین کے اندر نسبتاً زیادہ فعال اور بااثر ملک بنا دیا ہے۔ وہ بائیں بازو کی عالمی سیاست کے ایک ابھرتے ہوئے نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جس میں برازیل کے لولا دا سلوا (Lula da Silva)، جنوبی افریقہ کے سیرل رامافوسا (Cyril Ramaphosa) اور میکسیکو کی کلاوڈیا شینبام (Claudia Sheinbaum) جیسے رہنما شامل ہیں۔ یہ اتحاد ایک ایسے متبادل عالمی سیاسی بیانیے کو فروغ دے رہا ہے جو روایتی مغربی طاقتوں کے مقابل نسبتاً زیادہ سماجی انصاف، انسانی حقوق اور کثیر قطبی (multipolar) عالمی نظام کی بات کرتا ہے۔ اس تناظر میں سانچیز کو ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو یورپی یونین کے اندر نئی سیاسی سمت متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
داخلی سیاست: حمایت اور تنازع ایک ساتھ
اگرچہ سانچیز کی خارجہ پالیسی نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے لیکن اندرونی سیاست میں وہ مسلسل دباو کا سامنا کررہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں ان پر الزام لگاتی ہیں کہ وہ خارجہ پالیسی خصوصاً غزہ اور ٹرمپ مخالف بیانیے کو داخلی سیاسی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ مزیدبرآں، اُن کے قریبی سیاسی حلقوں اور بعض اہلِ خانہ سے متعلق کرپشن تحقیقات نے بھی اُن کی حکومت کے لیے سیاسی پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔ تاہم ان کے حامیوں کا موقف ہے کہ سانچیز نے اسپین کو عالمی سطح پر ایک واضح اور بااُصول شناخت دی ہے جو محض اقتصادی یا دفاعی مفادات تک محدود نہیں بلکہ انسانی اصولوں پر مبنی ہے۔
ایک نیا یورپی سیاسی ماڈل؟
مجموعی طور پر پیڈرو سانچیز اس وقت یورپی سیاست میں ایک ایسے رہنما کے طور پر ابھر رہے ہیں جو روایتی سفارتی توازن کے بجائے واضح سیاسی و اخلاقی موقف اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں اور دوسری طرف غزہ کے انسانی بحران پر یورپ کی سب سے نمایاں اور مستقل آوازوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ سانچیز کی سیاست نے انہیں ایک موثر عالمی رہنما بنا دیا ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں نہ صرف یورپی یونین بلکہ عالمی سیاسی نظام کی سمت پر بھی گہرے طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پیڈرو سانچیز کا سیاسی سفر 1993ء میں شروع ہوا جب انہوں نے ہسپانوی سوشلسٹ ورکرز پارٹی (PSOE) میں شمولیت اختیار کی۔ بعدازاں یورپی پارلیمان اور اقوامِ متحدہ میں بطور سیاسی مشیر خدمات انجام دیں۔ 2004ء میں میڈرڈ سٹی کونسل کے رکن بنے اور 2009ء میں پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔ 2011ء میں سیاست کے ساتھ ساتھ علمی میدان میں بھی قدم رکھا اور معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 2014ء میں پارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے۔ اس وقت وہ ایک نسبتاً غیرمعروف شخصیت تھے لیکن جلد ہی اپنی انتھک محنت اور غیرمتوقع کامیابیوں کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ اکتوبر 2016ء میں انہیں عارضی طور پر قیادت سے ہٹا دیا گیا، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ اپنی گاڑی میں اسپین بھر کا سفر کیا، 40 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، عوام سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور بالآخر سات ماہ بعد دوبارہ اپنی پارٹی کی قیادت حاصل کرلی۔ جون 2018ء میں انہوں نے پارلیمان میں تاریخی عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے قدامت پسند حکومت کا تختہ الٹ کر وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔ یہ اسپین کی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ کسی وزیراعظم کو پارلیمان نے اس طرح معزول کیا۔