بنگلادیش میں انتخابات کے بعد

بنگلادیش کے الیکشن میں بی این پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔ غیرسرکاری نتائج کے مطابقبی این پی اتحاد نے 299 میں سے 209 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جماعت اسلامی دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ نئی سیاسی پارٹی نیشنل سٹیزن پارٹی زیادہ متاثر کن نتائج حاصل نہ کرسکی۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلادیش میں انتخابات میں کامیابی پر نئی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے تعاون کا عزم کیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے طارق رحمن کو شاندار انتخابی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔

بنگلادیش میں عام انتخابات کا خوش اسلوبی سے انعقاد اور ان کا کامیاب اختتام نہ صرف اس ملک بلکہ پورے خطے کیلئے ایک مثبت پیشرفت ہے۔ الیکشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں نے دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے اور پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان، جو سابق بنگلادیشی صدر ضیاء الرحمن اور سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کے بیٹے ہیں، کے وزیرِاعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ انتخابی عمل ایک ایسے وقت میں مکمل ہوا ہے جب بنگلادیش گزشتہ چند برسوں سے سیاسی ہنگامہ خیزی، ادارہ جاتی بحران اور سیاسی بے یقینی کے دور سے گزر رہا تھا۔ اگست 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد کچھ عرصے تک سیاسی خلا پیدا ہوگیا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد ملک میں وقتی طور پر سکتے اور ڈیڈلاک کی کیفیت پیدا ہوئی، جس نے سیاسی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا۔ ایسے حالات میں انقلاب کی باگ تھامنے والے نوجوان کارکنوں نے فوجی مداخلت کا راستہ روکا اور بالآخر پروفیسر محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم کی گئی۔ عبوری حکومت کے قیام کے بعد سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ انتخابات کب اور کیسے ہوں گے۔ ایک طرف عوام جلد از جلد جمہوری عمل کی بحالی چاہتے تھے، جبکہ دوسری طرف عبوری حکومت کا موقف تھا کہ فوری انتخابات سے وہ مسائل حل نہیں ہوں گے جو طویل سیاسی کشمکش اور عوامی لیگ اور شیخ حسینہ واجد کی طویل فاشسٹ حکمرانی کے دوران پیدا ہوئے۔ عبوری حکومت کا خیال تھا کہ سابق حکمران جماعت کے اثرات ریاستی اداروں میں گہرائی تک موجود ہیں اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ انتخابات کے اعلان میں کچھ تاخیر ہوئی، جس کے باعث بے چینی بھی پیدا ہوئی اور یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ اگر انتخابی شیڈول نہ دیا گیا تو ایک نئی احتجاجی تحریک جنم لے سکتی ہے۔

بالآخر فروری 2026 میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا اور اس کے ساتھ ہی بنگلادیش کی سیاست میں نئی گہماگہمی شروع ہوگئی۔ یہ الیکشن نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن گئے۔ خاص طور پر پاکستان اور بھارت کی دلچسپی نمایاں تھی، کیونکہ بنگلادیش کی سیاسی سمت کا اثر پورے خطے کی سفارتی اور سیاسی حرکیات پر پڑ سکتا ہے۔ اس انتخابی معرکے میں دو بڑے اتحاد نمایاں رہے۔ ایک اتحاد کی قیادت بی این پی کے پاس تھی، جبکہ دوسرے اتحاد کی قیادت جماعت اسلامی بنگلادیش کر رہی تھی۔ ماضی میں یہ دونوں جماعتیں شیخ حسینہ کیخلاف سیاسی جدوجہد میں ایک دوسرے کی حلیف رہی ہیں، مگر اس بار عوامی لیگ کے انتخابی میدان سے باہر ہونے کے باعث ماضی کی ان دو حلیف جماعتوں کو حریف کے طور پر ایک دوسرے کے مدِ مقابل آنا پڑا۔ اب تک غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی نے واضح برتری حاصل کر کے حکومت سازی کی پوزیشن حاصل کرلی ہے، جبکہ جماعت اسلامی اس معرکے میں دوسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں وہ کل تک کالعدم تھی، اس کی صف اول کی قیادت پھانسیاں بھگت رہی تھی، آج وہ دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، جو جماعت اسلامی کی تاریخی کامیابی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بیرونی مداخلت ایک اہم موضوع رہا۔ سیاسی جماعتوں نے خودمختاری اور قومی مفاد کے نعروں کو اپنی مہم کا حصہ بنایا، جس کی وجہ ماضی میں بنگلادیش کی سیاست میں بھارت کا حد سے زیادہ غیر ضروری اثر و نفوذ ہے، چنانچہ انتخاب میں قومی خودمختاری اور متوازن خارجہ پالیسی کا تصور نمایاں رہا۔

بی این پی کی کامیابی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت داخلی استحکام اور ادارہ جاتی اصلاحات کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے گی۔ عوامی لیگ کے طویل دورِ اقتدار کے دوران کرپشن، بدانتظامی اور سیاسی تقسیم کے جو مسائل پیدا ہوئے، ان کا حل نئی قیادت کیلئے ایک بڑا امتحان ہوگا۔ نظمِ عامہ کی بہتری، سیاسی مفاہمت اور معاشی بحالی ایسے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنا ناگزیر ہوگا۔ پاکستان کی جانب سے بھی اس انتخابی عمل کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے بی این پی کی کامیابی پر مبارکباد اور بنگلادیش کے ساتھ تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک ماضی کی تلخیوں سے آگے بڑھ کر نئی شراکت داری کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔ بنگلادیش کیلئے خارجہ تعلقاتمیں توازن برقرار رکھنا اہم ہوگا۔ ایک طرف بھارت کے ساتھ ہمسائیگی کے تعلقات ہیں، تو دوسری طرف پاکستان کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتے بھی موجود ہیں۔ اس پس منظر میں ایک متوازن پالیسی بنگلادیش کیلئے ناگزیر ہے۔ خدا نخواستہ نئی حکومت بھی ”خود مختاری” کے نام پر پاکستان کی قیمت پر بھارت کی طرف جھک گئی تو بنگلادیش میں پھر سے حالات غیر یقینی کا شکار ہوجائیں گے۔

ماضی میں شیخ حسینہ واجد اور خالدہ ضیا کے درمیان شدید سیاسی محاذ آرائی نے بنگلادیش کی سیاست کو تقسیم در تقسیم کا شکار رکھا۔ اس بار سیاسی منظرنامے میں یہ مثبت پہلو سامنے آیا ہے کہ اپوزیشن کی صورت میں جماعت اسلامی پارلیمان میں موجود ہوگی، جس سے ایک تعمیری اور ذمہ دار اپوزیشن کی توقع کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخابات بنگلادیش کے جمہوری سفر کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہیں۔ اگر نئی حکومت سیاسی مفاہمت، معاشی اصلاحات اور اداروں کی مضبوطی پر توجہ دیتی ہے تو یہ کامیابی نہ صرف بنگلادیش بلکہ پورے جنوبی ایشیا کیلئے استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ انتخابی عمل بنگلادیش میں استحکام، ترقی اور قومی وحدت کو فروغ دے گا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بھی مزید مضبوط بننے کا سبب بنے گا۔ ایک مستحکم اور متوازن بنگلادیش نہ صرف اپنے عوام بلکہ پورے خطے کیلئے خیر و برکت کا سبب بن سکتا ہے۔