یہ ہمارے تحفظ اور بقا کی جنگ ہے

بلوچستان میں پاک آرمی کے خصوصی دستوں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں دہشت گردوں کو کچلنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران کی جانے والی کارروائیوں میں صوبے کے طول و عرض میں دو سو کے لگ بھگ دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچا دیا گیا ہے۔ صوبے سے ملنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بھرپور آپریشن جاری ہے۔ مختلف علاقوں میں جنگ جیسی صورت حال ہے۔ دہشت گرد گروہ، فتنۂ ہندوستان کے ہرکارے اور ملک دشمنوں قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے نادان جنگجوؤںکو غالباً گھیر کر مارنے کی حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں انجام دی جانے والی کارروائیوں کا تجزیہ کیا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد جتھوں کو بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” کی پالیسی اور افغانستان سے ملنے والی ہدایات اور سہولت کاری کے نتیجے میں حرکت میں لایا گیا تاہم سیکورٹی فورسز اس نوعیت کے حملوں کے لیے شاید پہلے ہی سے تیار تھیں اس لیے بارہ شہروں پر ایک ساتھ کیے جانے والے حملے نتائج کے اعتبار سے ناکام رہے بلکہ الٹا کئی معروف دہشت گرد قتل یا گرفتار ہوگئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق دہشت گردوں کو انہی کی زبان میں جواب دیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت یا مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس قسم کے فتنو ں کا تدارک سیاسی نہیں بلکہ عسکری حل ہی درست علاج ہے۔

دفاعی و سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے جواب میں دہشت گردوں نے مختلف شہروں پر ایک ساتھ حملہ آور ہوکر اپنی قوت ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن یہ وار خود انہی پر الٹ گیا۔ دہشت گردوں کے حالیہ حملوں کا تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ چند مذموم مقاصد کے حصول کی ایک ناکام اور باعث ذلت ورسوائی کوشش کے سوا اور کچھ ثابت نہ ہوا۔ تو کیا دہشت گردی کا نیٹ ورک چلانے والوں کو پاک فوج کے جوابی ردعمل کا واقعی اندازہ نہیں تھا؟ کیا جعفر ایکسپریس پر حملے کے جواب میں پاک فوج کے خصوصی دستوں کی جوابی کارروائی کا مزہ چکھ لینے کے باوجود یہ دہشت گرد ایسے ہی سادہ ہیں کہ وہ چند ہتھیاروں کے ساتھ شہروں پر چڑھ دوڑے؟ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے عناصر اچھی طرح جانتے ہیں کہ گوریلا حملوں سے وہ پاک فوج کے دفاعِ وطن کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ لیکن وہ ان نوجوانوں کو اس گمراہ کن راستے پر اپنے مفادات کی خاطر دوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

دراصل ان حملوں کا بڑا مقصد بلوچستان کے صحراؤں اور پہاڑوں میں موجودگی، تسلط کی طاقت اور امن کے نفاذ میں ریاست کی کمزوری کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا تھا تاکہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی کاموں، بیرونی سرمایہ کاری اور حکومت کی ساکھ کو زک پہنچائی جا سکے۔ حالات و واقعات کے اس پہلو سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ بیرونی اشاروں پر کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف ایک دشمن ملک کے طورپر جنگ کے انداز میں استعمال ہو رہی ہے جوکہ انتہا درجے کی افسوس ناک صورت حال ہے۔ خود افغانستان ہی سے پاکستان کے خلاف ”گریٹر افغانستان” یا ”قبائلی نظام” کے نفاذ کے عزائم کے تحت بظاہر نفاذِ شریعت کے نام سے جو فتنۂ خوارج کے روپ میں مسلط کردہ جنگ بھی ایک بے مقصد اور لایعنی عمل ہے جس میں عسکری اعتبار سے ایک مستحکم مسلم ریاست کو نقصان پہنچانے، تخریب اور فساد پھیلانے اور فتنہ پھیلا کر دولت کمانے کے سوا کوئی بلند مقصد پیش نظر نہیں۔ اس فتنہ و فساد سے بہرصورت عام مسلمانوں ہی کو نقصان پہنچ رہا ہے لیکن جو عناصر کفار سے اپنی پگڑیوں کا سودا کر چکے ہوں، آخر انھیں عام مسلمانوں کے پہنچنے والے ضرر کی کیا فکر ہو سکتی ہے؟ اور اس قسم کی فساد ی نیت رکھنے والوں کا سوائے بندوق کی گولی کے، علاج ہی کیا ہے؟ مذاکرات یا افہام و تفہیم سے کامیابی وہاں متوقع ہو سکتی ہے جہاں سوجھ بوجھ کے حامل، سیاسی حل پر یقین رکھنے والے اور بندگانِ خدا کے نفع و نقصان کو سمجھنے والے لوگ قیادت میں موجود ہوں، لیکن جہاں قیادت کی فکر سوائے فتنہ و فساد کے، نہ کسی تشریعی گنجائش کو جگہ دیتی ہو اور نہ ہی اس کی نگاہ میں معاہدوں اور ایک مسلم ریاست کے دفاع اور تحفظ کے تقاضوں کو کچھ اہمیت ہو، وہاں مکالمے کی موت واقع ہو جاتی ہے اور انسانی جانوں کی حرمت اور لوگوں کے دین، عقائد، ایمان اور امن کو بچانے کے لیے عسکری حل ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔

بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات سے اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ سردیوں کی شدت میں کمی آتے ہی پڑوسی ملک کے فتنہ پرور عناصر قدیم روایات کے مطابق پہاڑوں سے اپنی جنگی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کے لیے پر تول چکے ہیں۔ ظلم کی انتہا ہے کہ اس سلسلے میں اب خواتین کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس نوعیت کی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ خواتین کو خودکش دھماکوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ حملے عام لوگوں پر بھی کیے جا سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت، اسرائیل، افغانستان اور بعض عرب ریاستیں پاکستان کی بہتر ہوتی اقتصادی صلاحیت، سی پیک اور دیگر معاشی منصوبوں کو اپنے لیے خطرناک سمجھتے ہوئے، کوئی بھی ایڈونچر کر سکتے ہیں۔ اس قسم کی اطلاعات میں کچھ بھی سچائی ہو تو یہ ریاست کے سیکورٹی اداروں کے لیے ایک حساس اور نازک مرحلہ ہے کہ وہ خواتین کے تقدس اور ان کی حرمت کا احساس رکھتے ہوئے کیسے عوام کو اندھے حملوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے جہاں تما م تر حفاظتی تدابیر کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے وہاں حق تعالیٰ شانہ کے سامنے اجتماعی و انفرادی دعاؤں اور استغفار کی کثرت بھی اہمیت رکھتی ہے تاکہ ہم من حیث القوم دہشت گردی، تخریب کاری اور فتنہ وفساد کے گرداب سے نکل سکیں اور ملک میں امن و سلامتی کا قیام عمل میں آ سکے۔

ہمیں من حیث القوم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس وقت پاکستان اپنی جوہری صلاحیت، میزائل ٹیکنالوجی، جدید عسکری وسائل اور جنگی مہارتوں میں اعلیٰ معیار رکھنے کی وجہ سے اسلام دشمن طاقتوں کی آنکھوں میں کانٹے سے بھی زیادہ اذیت کا باعث بن چکا ہے۔ اس ملک کا نقصان فی الواقع امت مسلمہ کا نقصان ہے لہٰذا پروپیگنڈاوار اور منفی اطلاعات کی وجہ سے طیش کا شکار ہوکر اپنے ملک کے خلاف کوئی قدم اٹھاکر اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کی حماقت کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔ اس وقت ملک کی افواج حالت جنگ میں ہیں اور ایک محب وطن اور ذی شعور فرد کے طورپر ہمیں اس جنگ میں اپنی افواج کا ساتھ دینے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کا کام کرنا چاہیے کیوں کہ یہ جنگ بہرحال ملک اور قوم کی بقا اور تحفظ کا مسئلہ ہے۔