پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری سے قومی پیغام امن کمیٹی نے جنرل ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) میں ملاقات کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فتنہ الخوارج کالعدم ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے تناظرمیں داخلی سلامتی پرجامع گفتگو ہوئی اور مشترکہ موقف مزید مضبوط ہوا جبکہ ملاقات میں کشمیر اور غزہ پر اصولی موقف کی توثیق کی گئی۔ این پی اے سی نے فتنہ الخوارج اورافغان طالبان کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی کا کوئی جوازنہیں۔ این پی اے سی نے منبر ومحراب سے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی، آئینی برابری کا پیغام ملک گیرسطح پرپھیلانے کا اعلان کیا جبکہ نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری بیانیے کے خلاف زیروٹالرنس پالیسی اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔ این پی اے سی نے ریاستی بیانیے کی ترویج کیلئے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی نشستیں بڑھانے کی تجویز دی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کیلئے عوامی شعور،سچائی پرمبنی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیارہے۔
ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر جب اسلامی جمہوریہ پاکستان بیک وقت اندرونی و بیرونی دباؤ، معاشی مشکلات اور سلامتی کے سنگین خطرات سے دوچار ہے، قومی سطح پر فکری و عملی یکسوئی وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔ وطنِ عزیز آج محض ایک محاذ پر نہیں بلکہ چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے۔ ایک طرف معیشت کو سنبھالنے کی جدوجہد ہے، دوسری طرف سفارتی محاذ پر بدلتے عالمی و علاقائی حالات اور تیسری جانب اندرونی سلامتی کو لاحق وہ خطرات ہیں جو ریاست کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ بدقسمتی سے انہی حالات میں مغربی سرحد سے انتہاپسند عسکری گروہوں کی دراندازی اور دہشت گردی نے ایک بار پھر پاکستان کو سنگین چیلنج سے دوچار کر رکھا ہے۔ 2021 میں دوحہ معاہدے کے نتیجے میں افغانستان سے امریکی و غیر ملکی افواج کے انخلا کے وقت پاکستان سمیت خطے کے اکثر ممالک میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ افغانستان میں طویل جنگ کا خاتمہ ہوگا اور اس کے ساتھ ہی پورے خطے، بالخصوص پاکستان میں دہشت گردی، عسکریت پسندی اور بدامنی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ اس امید کی بنیاد یہ تھی کہ گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان میں جو بدترین عدم استحکام پیدا ہوا، وہ براہِ راست امریکی و نیٹو افواج کی موجودی اور پراکسی نیٹ ورکس کا نتیجہ تھا، جن کے اثرات پاکستان کے قبائلی علاقوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان تک پھیلے ہوئے تھے۔
یہ حقیقت ہے کہ افغانستان میں امریکی موجودی کے دوران سی آئی اے، بھارتی را اور اس وقت کی افغان انٹیلی جنس کے گٹھ جوڑ نے پاکستان میں شورش اور دہشت گردی کو منظم انداز میں ہوا دی۔ ان قوتوں کا مقصد پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا، اس کی سلامتی کو غیر مستحکم رکھنا اور اسے خطے میں دفاعی پوزیشن پر دھکیل دینا تھا۔ امریکیوں کے پاس اس سب کیلئے یہ ”جواز” موجود تھا کہ ان کے بقول پاکستان ان کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے، جبکہ بھارت اور افغانستان اپنی دیرینہ دشمنی میں پاکستان کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ دوحہ معاہدے کے بعد طالبان کی واپسی پر پاکستان میں کھلے دل سے خوشی کا اظہار کیا گیا۔ سرکاری سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی یہ تاثر غالب تھا کہ اب وہ تمام کیمپس اور مراکز ختم ہو جائیں گے جہاں سے پاکستان کیخلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی ہوتی رہی ہے مگر افسوس یہ امید بہت جلد ایک تلخ حقیقت میں بدل گئی۔ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی میں کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا، جو پاکستانیوں کے لئے نہ صرف حیران کن بلکہ شدید تشویش کا باعث تھا۔ ابتدا میں سکوت اور انتظار کے بعد پاکستان نے نئے افغان حکمرانوں کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کرائی۔ سفارتی ذرائع استعمال کیے گئے، علماء کے وفود بھیجے گئے، مگر ہر کوشش بے سود ثابت ہوئی۔ طالبان حکومت نے پاکستان کے جائز تحفظات کو سنجیدہ لینے کی بجائے مسلسل نظرانداز کیا۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ جھڑپیں ہوئیں اور کشیدگی مستقل صورت اختیار کر گئی، جو آج بھی برقرار ہے۔
اس دوران افغان طالبان کا رویہ کھل کر بے نقاب ہو چکا ہے۔ دوحہ، استنبول، سعودی عرب اور دیگر مقامات پر مذاکرات ہوئے۔ چین، روس اور ایران جیسے اہم علاقائی ممالک نے بھی افغان حکومت کو سمجھانے کی کوشش کی، مگر نتیجہ صفر رہا۔ عالمی و علاقائی سطح پر اتفاقِ رائے موجود ہے کہ پاکستان کی شکایات اور تحفظات جائز، معقول اور منصفانہ ہیں، لیکن افغان حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ وہ پاکستان کے خلاف دراندازی روکنے پر آمادہ نہیں، مگر پاکستان سے تجارتی مراعات کا تقاضا بھی کر رہی ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے پاس کوئی چارہ نہیں رہتا سوائے اس کے کہ وہ اپنی ریاستی خودمختاری اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے طاقت کے ساتھ جواب دے۔ دہشت گردی کا جواب ہر خوددار ریاست کا حق ہے۔ دنیا کی کوئی بھی ریاست ایسی دراندازی، دہشت گردی اور عسکریت پسندی کو برداشت نہیں کر سکتی۔
اس معاملے کا اس سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے اندر آج بھی ایسا طبقہ موجود ہے جو حقائق کے باوجود شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ یہ طبقہ افغانستان سے آنے والے خطرات کو تسلیم کرنے کی بجائے الٹا اپنے ہی ملک کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی روش اپنائے ہوئے ہے۔ افغان حکومت کی پاکستان دشمنی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے انکار، پاکستانی علاقوں پر بے بنیاد دعوے، دہشت گردوں کی سرپرستی اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات یہ سب کھلی حقیقتیں ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ خطے کے کسی اور ملک کے ساتھ افغان طالبان کے تعلقات اتنے خوشگوار کیوں نہیں جتنے بھارت کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں قومی پیغامِ امن کمیٹی (این پی اے سی) کے علمائے کرام کا پاک فوج کے ساتھ کھل کر اظہارِ یکجہتی اور ریاست دشمن بیانیے کیخلاف دوٹوک موقف اختیار کرنا بروقت، قابلِ تحسین اور حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری قوم افغانستان کے معاملے پر یکسو ہو، کسی اگر مگر یا تاویل کا شکار نہ ہو اور ریاست کے ساتھ کھڑی ہو۔

