پاکستانی سفارتی کوششیں خطرے میں، امریکا ایران سمندری محاذ گرم

اسلام آباد، واشنگٹن اور تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مشرقِ وسطی کی صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے، جہاں سمندری محاذ پر براہِ راست تصادم کے بعد جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر چھوٹی بڑی ایرانی کشتی کو فوری تباہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک دشمن کے 159 جہاز سمندر برد کیے جا چکے ہیں، تاہم انہوں نے کسی بھی مخصوص ٹائم فریم میں مذاکرات یا جنگ بندی کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
امریکی ناکہ بندی کے جواب میں ایرانی چیف جسٹس نے متنبہ کیا ہے کہ ان کے جدید زیرِ آب ڈرونز اور سمندری غاروں میں چھپا بحری بیڑا امریکی جہازوں کو عبرت کا نشان بنانے کے لیے تیار ہے۔
اس کشیدہ ماحول میں پاکستان اور چین امن کی بحالی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں امید ظاہر کی گئی کہ فریقین کو جلد مذاکرات کی میز پر دوبارہ بٹھا لیا جائے گا۔
برطانوی جریدے ‘فنانشل ٹائمز’ نے انکشاف کیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اس نازک عمل میں ایک غیر روایتی اور کلیدی سفارتی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسی دوران چین نے بھی امریکہ کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
جنگ کے اثرات امریکی انتظامیہ کے اندرونی ڈھانچے پر بھی گہرے پڑے ہیں، جہاں وار پالیسی پر اختلافات کی وجہ سے امریکی وزیرِ بحریہ جان سی فیلن اور آرمی چیف آف اسٹاف رینڈی جارج کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور 400 زخمی ہوئے ہیں۔
وائٹ ہائوس کے دعووں کے برعکس امریکی خفیہ حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کی 60 فیصد بحری اور میزائل طاقت اب بھی محفوظ ہے اور اس کی سیاسی قیادت کا حکومت پر مکمل کنٹرول ہے۔
سمندری حدود میں کارروائیاں تیز کرتے ہوئے امریکی فورسز نے بھارت اور ملائیشیا کے قریب 31 ایرانی جہازوں کا رخ موڑا ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی پہلی بار دو غیر ملکی جہازوں پر قبضے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کی صفائی میں کم از کم 6 ماہ لگ سکتے ہیں جس سے عالمی توانائی کی فراہمی شدید متاثر ہوگی۔ امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ایرانی صدارتی دفتر نے واضح کیا ہے کہ وہ ‘انصاف اور وقار’ کی بنیاد پر اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔