صہیونی فوج،آبادکاروں کے مسجد،اسکول ،پناہ گزین کیمپ پر حملے،متعدد شہید

غزہ/مغربی کنارہ/برسلز/بیروت:قابض اسرائیلی افواج اور آبادکاروں کی کارروائیاں،طالب علم سمیت متعددفلسطینی شہید،درجنوں زخمی ہوگئے۔

غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں جمعرات کے روز ایک نوجوان شہید اور کئی زخمی ہو گئے ۔طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس کے جنوبی علاقے المسلخ میں قابض دشمن کے ایک ڈرون طیارے نے شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں نوجوان یحییٰ ابو شلوب شہید جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔

علاوہ ازیں خان یونس شہر کے مشرق میں بنی سہلا چوک کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص شدید زخمی ہوا۔یہ اسرائیلی بمباری شمالی غزہ کی پٹی کے قصبے بیت لاہیا پر کیے گئے اس حملے کے چند گھنٹوں بعد ہوئی جس میں تین بچوں سمیت 5 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔

قابض اسرائیل نے بیت لاہیا میں شہریوں کے ایک اجتماع پر وحشیانہ فضائی حملہ کیا تھا۔الشفاء ہسپتال کے طبی ذرائع نے تصدیق کی کہ پراجیکٹ بیت لاہیا کے علاقے میں قابض دشمن کی بمباری کے نتیجے میں 5 شہداء کی لاشیں لائی گئی ہیں جن میں 3 بچے شامل ہیں جبکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

غزہ کی پٹی میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ نشانہ بننے والے شہداء کے نام عبود محمود العابد، علاء نبل حسن بعلوشة، محمد بہاء نبل بعلوشة، انس اہاب ابو فول اور صلاح محمود العابد ہیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ڈرون نے علاقے میں واقع مسجد القسام کے صحن میں موجود فلسطینیوں کے اجتماع پر بمباری کی، جس سے جانی نقصان ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق میڈیکل سروسز کی ایمبولینسوں نے شہداء اور زخمیوں کو الشفاء ہسپتال منتقل کیا۔اسی تناظر میں قابض افواج نے غزہ کی پٹی کے وسطی گاؤں المصدر کے مشرقی حصے پر فائرنگ کی جبکہ شمالی غزہ کے حلاوہ کیمپ میں بھی قابض فوج کی فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔

وسطی غزہ میں البریج کیمپ کے مشرق میں قابض فوج کی گولیوں سے 4 پناہ گزین زخمی ہوئے جبکہ اسی دوران البریج اور المغازی کے علاقوں پر شدید گولہ باری بھی کی گئی۔جمعرات کی صبح قابض فوج کی بکتر بند گاڑیوں نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع شجاعیہ محلے کے مشرقی علاقوں پر اندھادھند فائرنگ کی جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

ادھرمغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے اسکول پر حملے میں طالب علم سمیت2فلسطینی شہید ہوگئے۔عرب ٹی وی کے مطابق مغربی کنارے کے ایک گائوں المغیر میں یہودی آبادکاروں نے اسکول پر دھاوا بول دیا اور وہاں موجود لوگوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس سفاکانہ حملے میں 14 سالہ طالب علم اوس حمدی النعسان اور 32 سالہ جہاد مرزوق ابو نعیم شہید ہوگئے جب کہ مزید دو افراد زخمی ہوگئے۔اسکول کے پرنسپل بسام ابو عصف نے بتایا کہ حملے کے وقت طلبا ماہانہ امتحانات دے رہے تھے کہ مسلح یہودی آبادکار زبردستی اسکول میں گھس آئے۔

دوسری جانب حماس نے عالمی برادری،اقوام متحدہ اور تمام متعلقہ فریقوں سے اپنے اس مطالبے کو دہرایا ہے کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں یکساں طور پر فلسطینی عوام کے خلاف قابض فوج اور دہشت گرد آبادکاروں کے روزانہ کے قتل و غارت اور مجرمانہ سلسلے کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدام کیا جائے۔

تحریک نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کو نسل کشی اور جبری بے دخلی کے اس خطرے سے بچایا جائے جو تاحال ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔

حماس نے جمعرات کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ مجرم صہیونی قابض فوج کا غزہ کی پٹی میں ہمارے عوام کے خلاف مسلسل جرائم کا ارتکاب جاری ہے جس کی تازہ ترین مثال المغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک سویلین گاڑی پر بمباری ہے جس کے نتیجے میں تین فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے۔

تحریک نے گذشتہ رات شمالی غزہ میں ہونے والے اس ہولناک قتل عام کی جانب بھی اشارہ کیا جس میں تین معصوم بچوں سمیت پانچ فلسطینی شہید ہوئے۔ادھربیت لحم میں سیکورٹی ذرائع کے مطابق قابض افواج نے شہر کے شمال مغرب میں واقع گاؤں الولجہ میں شہری ولید عطا رباح کا ایک زرعی کمرہ بغیر اجازت تعمیر کے بہانے مسمار کر دیا۔

شمالی اغوار میں قابض اسرائیل کے بلڈوزروں نے طوباس کے جنوب مشرق میں واقع گاؤں عاطوف میں پانی کی فراہمی کے زرعی نیٹ ورک اور پائپ لائنیں تباہ کردیں جس کی وجہ سے سینکڑوں دونم اراضی کو پانی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔

فلسطین انفارمیشن سینٹر (معطی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس نے آباد کاروں کے حملوں کے خلاف 6 دفاعی کارروائیوں کو دستاویزی شکل دی ہے جبکہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے 18 مختلف مقامات پر قابض دشمن کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور پتھراؤ کیا گیا۔

آباد کاروں کے خلاف دفاعی کارروائیاں عناتوت بستی اور بیت اکسا میں عمل میں لائی گئیں جہاں غیور نوجوانوں نے پتھراؤ کر کے آباد کاروں کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ دفاعی مزاحمت کے یہ واقعات المغیر، دیر دبوان، دیر نظام اور بیت عور الفوقا کے ساتھ ساتھ خلہ النحلہ کے علاقوں میں بھی پیش آئے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوگیاہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اردن وادی کے علاقے میں رہنے والے 29 سالہ قْصیٰ ابو القبش کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 13 مارچ کو درجنوں آبادکاروں نے ہماری بستی پر حملہ کیا ہمیں شدید تشدد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

اْنہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ناصرف ہمیں برہنہ کیا بلکہ دھمکیاں بھی دیں کہ اگر علاقہ نہ چھوڑا تو دوبارہ حملہ کریں گے، اس واقعے کے بعد شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہیں۔

بے دخلی کا سامنا کرنے والے 70 فیصد خاندانوں کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی دھمکیاں ان کے علاقے چھوڑنے کی بنیادی وجہ ہیں تاہم خوف اور سماجی دباؤ کے باعث بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

مختلف علاقوں میں خواتین اور بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر ہراسانی کا سامنا ہے جس کے باعث کئی لڑکیاں تعلیم چھوڑنے اور خواتین کام چھوڑنے پر مجبور ہوچکی ہیں۔

علاوہ ازیںغزہ کی پٹی حالیہ دنوں میں متعدی امراض کے پھیلاؤ میں غیر معمولی اضافے کی گواہ ہے جن میں چیچک (چکن پاکس) سرفہرست ہے جو خاص طور پر بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے انسانی اور طبی ماحول میں پیدا ہوئی ہے جسے کم از کم ”تباہ کن” ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق غزہ میں بچوں کے درمیان چیچک کا پھیلاؤ براہ راست ماحولیاتی اور طبی صورتحال کی ابتری سے جڑا ہوا ہے۔کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں اور سیوریج کے گندے پانی کے بہاؤ نے خاص طور پر پناہ گزینوں کے گنجان آباد مراکز میں جلدی اور متعدی امراض کی منتقلی کے لیے ایک مثالی ماحول پیدا کر دیا ہے۔

ادھریورپی ممالک کے درمیان اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور تعاون کا معاہدہ معطل کرنے کے معاملے پر شدید اختلاف سامنے آیا ہے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپین،آئر لینڈ اور سلووینیا نے معاہدہ معطل کرنے کی تجویز پیش کی ہے مگر جرمنی اور اٹلی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے روک دیا۔

2000ء میں نافذ ہونے والا یہ معاہدہ اسرائیل کو یورپی منڈی تک آسان رسائی اور کم محصولات جیسی سہولتیں دیتا ہے،2024ء میں اسرائیل اور یورپی ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 42.6 ارب یورو رہا۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی جزوی معطلی سے اسرائیل کی تقریباً 5.8 ارب یورو کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔معاہدے میں انسانی حقوق کی پابندی شرط ہے اور اسی بنیاد پر اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق اختلافات کی بڑی وجہ یورپی ممالک کی مختلف تاریخیں اور سیاسی موقف ہیں، جرمنی دوسری جنگِ عظیم کے پسِ منظر میں اسرائیل کی حمایت کرتا ہے جبکہ آئر لینڈ فلسطینیوں کے حق میں ہے۔
معاہدہ معطل کرنے کے لیے تمام 27 ممالک کی منظوری ضروری ہے جو فی الحال ممکن نہیں۔

دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی جارحیت جاری ہے۔ جنوبی لبنان میں رہائشی عمارت پر بمباری میں ایک اور صحافی جاں بحق ہوگئیں۔خبر ایجنسی کے مطابق خاتون صحافی امل خلیل کی لاش تباہ عمارت کے ملبے سے ملی۔

ساتھی رپورٹر زینب کوزخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا۔ پہلے حملے کے بعد امل خلیل نے قریبی گھر میں پناہ لیکر لبنانی حکام سے اپنی لوکیشن بھی شیئر کی تھی۔ریسکیو آپریشن کے دوران عمارت پر دوبارہ فضائی حملہ کیا گیا۔

وزیراعظم نے صحافی کے قتل کو جنگی جرم قرار دیااور بین الاقوامی عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔ اسرائیلی حملوں میں جاں بحق لبنانی صحافیوں کی تعداد 4 ہوگئی۔بیروت میں امریکی سفارتخانہ نے امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ لبنان سے فوری نکل جائیں، لبنان میں صورتحال پیچیدہ اور فوری تبدیل ہوسکتی ہے۔

لبنان کے نیشنل سینٹر فار سائنسی تحقیق نے ایک لبنانی عہدیدار کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف 6 ہفتوں پر محیط جنگ کے دوران قابض اسرائیل کی سفاک کارروائیوں کے نتیجے میں 62 ہزار سے زائد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے ماحولیاتی اثرات پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران نیشنل کونسل فار سائنسی تحقیق کے سیکرٹری جنرل شادی عبداللہ نے وضاحت کی کہ 45 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں 21 ہزار 700 رہائشی یونٹس مکمل طور پر زمین بوس ہو گئے ہیں جبکہ 40 ہزار 500 دیگر مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

گذشتہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے حزب اللہ اور قابض اسرائیل کے درمیان سیز فائر نافذ ہونے کے باوجود لبنانی حکام اور عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیلی افواج تاحال جنوبی لبنان میں گھروں کو منہدم کرنے اور دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق مختلف علاقوں میں قابض اسرائیلی افواج کے جنگی رویے کے تسلسل میں ایک بار پھر اسرائیلی میڈیا نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کے دوران قابض فوجیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کے واقعات کا انکشاف کیا ہے۔ یہ مناظر خطے میں اسرائیلی جنگوں کے ساتھ جڑی انسانی حقوق کی پامالیوں اور لوٹ کھسوٹ کی طویل تاریخ کو ایک بار پھر زندہ کر رہے ہیں۔

جنوبی لبنان میں زمینی جارحیت میں شامل اسرائیلی فوجیوں اور افسران نے اعتراف کیا ہے کہ باقاعدہ فوج اور ریزرو فورسز کے اہلکار لبنانی شہریوں کے گھروں اور دکانوں سے بڑے پیمانے پر سامان لوٹ رہے ہیں۔ اس لوٹ مار میں موٹر سائیکلیں، ٹیلی ویڑن سیٹ، فن پارے، صوفے اور قالین تک چوری کیے جا رہے ہیں۔