امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کی علیٰ الصبح جنگ بندی کے اختتام پر غیر متوقع طور پر اچانک جنگ بندی میں توسیع کردی۔ تاہم ایران نے مذاکرات کیلئے امریکی شرائط کو مسترد کر دیا۔ مشیر اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ ناکا بندی کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں اور اس کا جواب فوجی کارروائی سے دیا جانا چاہیے۔ مشیر ایرانی پارلیمنٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع کا اعلان وقت حاصل کرنے کی چال ہے تاکہ اچانک حملہ کیا جاسکے۔ دریں اثنا وزیر اعظم شہباز شریف نے جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست قبول کرنے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی میں توسیع ایک مثبت اور اہم قدم ہے جو جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے عمل کو مضبوط بنانے کیلئے نہایت ضروری ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی بظاہر ایک ایسے موڑ پر آ پہنچی ہے جہاں جنگ کے شعلے وقتی طور پر مدھم پڑتے دکھائی دیتے ہیں، مگر اس خاموشی کے پیچھے بے چینی اور ایک اعصاب شکن سرد جنگ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ جنگ بندی میں توسیع کے اعلان نے اگرچہ فوری خطرات کو کچھ حد تک ٹال دیا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ سکون عارضی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ اس کے پس منظر میں ایک پیچیدہ سفارتی شطرنج جاری ہے۔ ایرانی سرکاری موقف اس بات کا عکاس ہے کہ تہران اس جنگ بندی کو کسی حتمی پیش رفت کی بجائے دشمن کی ایک چال کے طور پر دیکھتاہے، جسے وہ قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ایرانی قیادت کی جانب سے امریکی شرائط کو مسترد کرنا اور جنگ بندی میں توسیع کو بے معنی قرار دینا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر کا یہ بیان کہ ہارنے والا فریق شرائط کا حکم نہیں دے سکتا، دراصل اس نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے جس میں ہر فریق خود کو بالا دست اور دوسرے کو دباؤ میں دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ادھر امریکی صدرکا کردار اس پورے بحران میں غیر معمولی حد تک متنازع رہا ہے۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے آنے والے پل پل بدلتے بیانات نے سفارتی روایت، سنجیدگی اور امن عمل کے تسلسل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بے حد افسوسناک ہے کہ پوری دنیا ٹرمپ کے جس سوشل اکاؤنٹ پر نگاہیں گاڑے امن عمل میں کسی پیشرفت کی منتظر ہے، وہاں سے ہر چند گھنٹے بعد ایک نئی بدلتی رائے، دھمکی آمیز بیان اور غیر متوقع اعلانات سامنے آتے ہیں۔ اس طرز عمل نے نہ صرف عالمی سطح پر غیر یقینی کی کیفیت کو بڑھا دیا ہے بلکہ مذاکرات کیلئے درکار اعتماد اور سنجیدگی کو بھی مجروح کیا ہے۔ اگرچہ بظاہر جنگ رکی ہوئی ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اب معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کی طرف بڑھیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ براہ راست مذاکرات کیلئے بھی دونوں فریقوں کے درمیان ایک نئی نوعیت کی سرد جنگ چھڑی ہوئی ہے اور اعصاب شکن مقابلہ جاری ہے۔ اس سے شاید دونوں فریقوں کو کوئی خاص فرق نہ پڑے، مگر اس پل پل بدلتی صورتحال اور سرد جنگ نے پوری دنیا کے اعصاب کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ عالمی منڈیاں غیر یقینی کا شکار ہیں، تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ اور عدم استحکام کا سامنا کر رہی ہیں اور سرمایہ کار مسلسل اضطراب میں مبتلا ہیں اور منتظر ہیں کہ اس جنگ کا جلد خاتمہ ہوجائے اور مستقل امن معاہدہ وقوع پذیر ہو۔ اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار اور متوازن ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کی عسکری قیادت نے جس تدبر، تحمل اور حکمت کے ساتھ امن کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، وہ لائق تحسین ہے۔ بدھ کی صبح پہلی جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی تھی اور خدشہ تھا کہ دوبارہ حملے شروع ہوجائیں گے، مگر پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکی صدر نے نہ صرف جنگ بندی میں توسیع کی بلکہ اس بار کسی مخصوص مدت کا تعین بھی نہیں کیا۔
یہ امر واضح ہے کہ امریکا کی جانب سے مسلسل دباؤ، یکطرفہ شرائط اور دھمکی آمیز رویہ امن عمل کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھول کر اپنی سنجیدگی اور مذاکرات کیلئے آمادگی کا عملی ثبوت دیا، لیکن اس کے بعد ایرانی بندرگاہوں کی ناکابندی جیسے اقدامات نے صورتحال کو پھر سے پیچیدہ بنا دیا۔ یہ طرز عمل اس بات کا مظہر ہے کہ امریکا مذاکرات کو دباؤ کے ذریعے اپنی شرائط منوانے کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔حالانکہ اسی جنگ میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایران کو کسی دباؤ کے ذریعے جھکانا آسان نہیں۔ ایران اگر ان حربوں سے دب کر جھک جاتا تو جنگ کے آغاز میں ہی تباہ کن امریکی و اسرائیلی حملوں میں صف اول کی روحانی، سیاسی اور عسکری قیادت کی ہلاکت کے بعد امریکا اور اسرائیل کامیاب ٹھہرتے، مگر اب تک ہر حربہ اور ہتھکنڈا استعمال کرنے کے باوجود نہ صرف ایران مزاحمت کر رہا ہے بلکہ اس نے اپنے نظام کا کامیاب دفاع بھی کیا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے امریکی پالیسی ساز سمجھنے میں ناکام رہے ہیں اور اسی وجہ سے دھمکیوں اور دباؤ کا تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔امریکی جتنی جلد اپنی غلط فہمی دور کریں اور ناکام تجربوں کو بار بار دہرانے سے باز آئیں، اس کے اور دنیا کیلئے اچھا ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک طرف امن، مذاکرات اور سفارتی حل کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف امریکا کی جانب سے عملی اقدامات اس کے برعکس ظاہر ہو رہے ہیں۔ پیشگی شرائط، اقتصادی ناکہ بندیاں اور عسکری دباؤ کے اقدامات مذاکراتی عمل کیلئے شدید نقصان دہ ہیں۔ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ دونوں فریق اپنی پوزیشن میں لچک پیدا کریں اور دباؤ کے حربے اختیار کرنے کی بجائے سنجیدہ سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ دنیا اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں کسی بھی غلط قدم کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکا اور ایران دونوں اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کو پس پشت ڈال کر مذاکرات کی میز پر آئیں۔ اگر یہ موقع ضائع ہو گیا تو اس کے اثرات محض دونوں فریقین اور خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا ایک طویل اور تباہ کن عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ لمحہ دانش مندی، بردباری، دور اندیشی، تحمل اور امن پسند سوچ کا تقاضا کرتا ہے۔اس کے بغیر کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور نقصان پوری دنیا اٹھائے گی۔

