وینزویلا کے بعد امریکی فوجی مداخلت کی زد میں کون سے ممالک ہیں؟

رپورٹ: علی ہلال
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ وینزویلا پر امریکی افواج کے حالیہ حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر اکتفا نہیں کررہے، بلکہ انہوں نے نصف کرہ مغربی میں دیگر خودمختار ممالک کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی خواہش کا اعادہ کیا ہے۔
امریکی صدر کے اس جارحانہ رویے نے عالمی سطح پر ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے اور دنیا بھر کے عسکری تجزیہ کار اور ماہرین میں یہ بحث چل رہی ہے کہ امریکا اگلا اقدام کس ملک کے خلاف اٹھاتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہاہے کہ امریکا کے وینزویلا میں کارروائی نے کم از کم یہ ثابت کردیا کہ امریکا کی جنگ دہشت گردی یا کسی مخصوص مذہبی کے خلاف نہیں بلکہ اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ وسائل پر قبضہ ہے اور اسی اصول کی بنیاد پر امریکا اب تک متعدد ممالک پر حملے کرچکا ہے۔ امریکا کی دنیا کے وسائل پر قبضے کی یہ مفاد پرستانہ سوچ اب ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں مزید کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ڈونلڈٹرمپ نے لاطینی امریکا کے جن ممالک کے خلاف فوجی اقدام کا عندیہ دیا ہے اُن میں کیوبا، میکسیکو اور کولمبیا شامل ہیں۔
یہ تمام دھمکیاں اس پالیسی کے تحت دی جا رہی ہیں جسے ٹرمپ انتظامیہ ”ڈونرو اصول“ قرار دے رہی ہے جو دراصل 1823ء میں امریکی صدر جیمز منرو کے پیش کردہ منرو ڈاکٹرائن کی نئی تشریح ہے۔ اس اصول کو ماضی میں لاطینی امریکا میں امریکی فوجی مداخلتوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: ”ہماری نئی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے تحت اب کوئی بھی نصف کرہ مغربی میں امریکی بالادستی پر سوال نہیں اٹھا سکے گا، ہم اپنی طاقت کو پوری شدت کے ساتھ دوبارہ منوا رہے ہیں“۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ ماضی میں بیرونی جنگوں کے خاتمے پر فخر کرتے رہے ہیں اور امن کے نوبیل انعام کے خواہاں بھی رہے ہیں۔
کن ممالک کو امریکی فوجی مداخلت کا خطرہ ہے؟
ان ممالک کی فہرست میں پہلا نام کولمبیا کا ہے۔ کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو اُن اولین عالمی رہنماوں میں شامل تھے جنہوں نے وینزویلا پر امریکی حملے کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور لاطینی امریکا و کیریبین کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پیٹرو اس سے قبل بھی کیریبین میں امریکی فضائی حملوں پر تنقید کرچکے ہیں جن میں ایک کولمبیائی ماہی گیر کی ہلاکت بھی شامل تھی۔ اکتوبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے پیٹرو اور ان کے اہل خانہ پر منشیات کی غیرقانونی تجارت میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے ہوئے پابندیاں لگائیں، جنہیں پیٹرو نے سختی سے مسترد کیا اور منشیات کے خلاف اپنی کارروائیوں کا حوالہ دیا۔ ٹرمپ نے پیٹرو کے بارے میں کہا کہ اسے محتاط رہنا چاہیے۔ ایئرفورس ون پر صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ کولمبیا ایک بیمار آدمی کے ہاتھ میں ہے اور یہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ کولمبیا آپریشن مجھے اچھا لگ رہا ہے۔ اس کے جواب میں پیٹرو نے کہا: میں نہ غیرقانونی ہوں اور نہ ہی منشیات فروش۔ اگر میرے عوام کے منتخب صدر کو گرفتار کیا گیا تو عوامی ردعمل ایک خطرناک شکل اختیار کرسکتا ہے۔
امریکا کی ممکنہ جارحیت کا نشانہ بننے کے خطرے سے دوچار ممالک میں دوسرا نام میکسیکوا کا ہے۔ مادورو کی گرفتاری کے فوراً بعد ٹرمپ نے میکسیکو کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ اپنی پہلی مدتِ صدارت سے ہی ٹرمپ میکسیکو کی منشیاتی کارٹلز پر فوجی حملوں کی بات کرتے رہے ہیں، حتیٰ کہ ڈرون حملوں کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔2025ء  کے آغاز میں میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینباوم نے امریکی فوجیوں کو میکسیکو بھیجنے کی تجویز مسترد کردی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق فینٹانائل جیسی مہلک منشیات میکسیکو کے راستے امریکا پہنچتی ہیں جن کے خام اجزا چین سے آتے ہیں۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ میکسیکو کے ساتھ کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔ وہاں منشیات فروش ملک چلا رہے ہیں اور صدر ان سے خوفزدہ ہیں۔ میکسیکو کی حکومت نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اِس فہرست میں تیسرا نام کیوبا کا ہے۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وینزویلا کے بعد کیوبا بھی امریکی پالیسی کے دائرے میں آسکتا ہے۔ ان کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کیوبا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کیوبا کی حکومت ایک بڑا مسئلہ ہے، وہ شدید بحران میں ہے اور یہ کوئی راز نہیں کہ ہم کیوبا کے نظام کے حامی نہیں ہیں۔ فلوریڈا کے شہر مارالاگو میں پریس کانفرنس کے دوران روبیو نے کہا کہ: ”کیوبا ایسے لوگوں کے زیرِ انتظام ہے جو نااہل اور عمر رسیدہ ہیں۔“ تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا پر فوجی کارروائی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کولمبیا، میکسیکو اور کیوبا کو براہِ راست دھمکیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکا لاطینی امریکا میں اپنی بالادستی کو عسکری طاقت کے ذریعے دوبارہ مستحکم کرنے کے درپے ہے، جس کے اثرات پورے خطے کے امن پر گہرے ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے ایک بار پھر ڈنمارک کے خودمختار خطے گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے کا معاملہ اٹھایا ہے۔ وائٹ ہاوس کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم گرین لینڈ کے الحاق کے مختلف آپشنز پر غور کررہی ہے اور فوجی طاقت کا استعمال بھی ایک ”ہمیشہ دستیاب“ آپشن ہے۔ وینزویلا میں مادورو کی گرفتاری کے بعد گرین لینڈ کو آرکٹک میں امریکا کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے اہم مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں روس اور چین کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ وائٹ ہاوس کے ایک بیان میں کہا گیا’صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کا الحاق امریکا کی قومی سلامتی کی ترجیح ہے جو آرکٹک میں ہمارے مخالفین کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔‘ تاہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کی قیادت نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے دھمکی آمیز بیانات بند کرے۔ ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی بات سراسر بے معنی ہے۔‘ گرین لینڈ جو دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، اپنی جغرافیائی حیثیت، قدرتی وسائل اور نایاب معدنیات کی وجہ سے عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی جیو اسٹریٹجک کشمکش کا مرکز بنتا جارہا ہے۔