تہران/واشنگٹن:ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاج ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے، جہاں حکومت مخالف مظاہرین اور حکومت کے حامی سڑکوں پر آمنے سامنے آگئے ہیں اور خانہ جنگی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
تہران اور ملک کے دیگر شہروں میں ہونے والی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی غیرتصدیق شدہ تعداد سیکڑوں میں ہوچکی ہے جبکہ 2600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔مظاہرین نے مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر حکومت کی سختی کے خلاف آواز بلند کی جس کے نتیجے میں متعدد جگہوں پر سڑکیں خون سے سرخ ہو گئیں اور اسپتالوں میں لاشوں پر ماتم کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔
تہران کے جنوب میں واقع کہریکز کے علاقے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جہاں لندن میں واقع خبر رساں ادارے ایران انٹرنیشنل کے مطابق 400 افراد ہلاک ہوئے اور 100 سے زائد مسلح افراد کو گرفتار کیا گیا۔
دریں اثنا سپریم لیڈر خامنہ اِی نے پاسداران انقلاب کو مظاہرین پر کریک ڈان کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے ملکی دفاع کو سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی املاک اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ ایرانی فوج نے بھی عوام اور حکومتی تنصیبات کی حفاظت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل کا مقصد حالیہ 12 روزہ جنگ کے ذریعے ملک کو افراتفری کی طرف دھکیلنا تھا۔ایرانی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ لوگ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک تربیت یافتہ ہیں، کچھ دہشت گردوں کو باہر سے ملک میں داخل کیا گیا، مساجد کو آگ لگائی گئی اور رشت میں بازاروں کو جلایا گیا۔
ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ کچھ لوگ جو عوام میں سے نہیں ہیں اور اس ملک سے تعلق نہیں رکھتے نے لوگوں کو رائفلوں اور مشین گنوں سے قتل کیا۔ انھوں نے کچھ کے سر قلم کیے، کچھ کو آگ لگا دی۔ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل ان فساد بپا کرنے والوں کو کہہ رہے ہیں کہ آگے بڑھو، ہم تمھارے ساتھ ہیں۔مسعود پزشکیان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ محلوں میں جمع ہوں اور افراتفری کو روکیں۔
سابق شاہِ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا شاہ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران پر قابض حکومتی ٹولہ اب لاکھوں مظاہرین کے مقابلے کے قابل نہیں رہا اور سیکورٹی فورسز کے بہت سے جوان عوام پر گولی چلانے سے انکار کر چکے ہیں جس کے بعد خامنہ ای کے ساتھ اب صرف چند پرتشدد عناصر رہ گئے ہیں۔
ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے جس میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات شامل ہیںتاہم امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ایران پر حملے کے منصوبے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ عمل غیرقانونی ہوگا اور کانگریس اس کی حمایت نہیں کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکا مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے اور ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔
ایران میں جاری مظاہروں نے عالمی سطح پر بھی ردعمل پیدا کیا ہے۔ لندن میں ایرانی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا گیا جہاں مظاہرین نے سرکاری پرچم اتار کر ایران کے انقلاب سے پہلے کا پرچم لہرا دیا جس پر پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا جبکہ تیسرے کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب امن و انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور نوبیل انعام یافتہ شیرین عبادی نے خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ بندش کے دوران حکومت مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کر سکتی ہے۔
بی بی سی کے مطابق ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ ایک ایران نواز ہیکر نے ایسے 600 افراد کی شناخت کی ہے جن کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ موساد کے ایجنٹ ہیں اور ایران میں احتجاج کو بھڑکانے میں ملوث ہیں۔
رپورٹ کے ساتھ ایک پی ڈی ایف دستاویز بھی تھی جس میں ایران، برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور اسرائیل سمیت کئی ممالک کے ناموں اور فون نمبروں کی فہرست موجود تھی۔ اس فہرست میں عبرانی میں لکھے گئے کچھ نام اور انگریزی میں لکھے گئے کئی ایرانی نام شامل تھے۔
حنظلہ(ہنڈالہ) جو خود کو سائبر مزاحمتی گروپ کے طور پر بیان کرتا ہے نے 8 جنوری کو دعویٰ کیا کہ اس نے مظاہرین سے اسرائیلی موساد کے روابط کا پردہ فاش کیا ہے۔
علاوہ ازیںایران میں ممکنہ امریکی مداخلت کے پیشِ نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا مداخلت کی دھمکیوں اور ایرانی حکومت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کرنے کے بعد اسرائیلی سیکورٹی اداروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
ادھرایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں تہران اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو جوابی کارروائی کا جائز ہدف سمجھے گا۔
یہ وارننگ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران دی۔محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی تو ایران اس کا بھرپور جواب دے گا اور اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

