دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی ضروری ہے

سیکورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف دو مختلف کارروائیوں کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 13 خوارج کو ہلاک کردیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیکورٹی فورسز نے ضلع لکی مروت کے علاقے پہاڑ خیل میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 10 خوارج مارے گئے اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو کلیئر کرتے ہوئے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر دوسری کارروائی ڈیرہ اسماعیل خان میں کی گئی جہاں سیکورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک دہشت گرد بھارت کی سرپرستی میں سیکورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔

پاکستان کی سیکیورٹی ادارے پوری جانفشانی اور رتندہی کے ساتھ ملک کی داخلی سلامتی کو محفوظ بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور ہماری مسلح افواج کے جوان اور افسران مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں اور اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر عوام کے جان ومال کے تحفظ کی اپنی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں ، اس کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں خوارج اور باغی عناصر کی جانب سے پے درپے دہشت گردی کی کارروائیوں سے انداز ہ لگایاجاسکتا ہے کہ ریاست کو جس ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے، اس میں شدت آچکی ہے ۔ جو قوتیں جنگ کو سیاست کا تسلسل سمجھتی ہیں ،ان کیلئے عام انسانوں کی جان ومال مفادات کے حصول کا ایک ذریعہ ہوتی ہیں اور اس وقت پاکستانیوں کے جان و مال انہی قوتوں کی سیاست کا ایندھن ثابت ہور ہے ہیں۔ عام آدمی ہر اعتبار سے عدمِ تحفظ کا شکار ہے۔ عبادت گاہوں سے لے کر مسافر گاڑیوں تک کسی بھی جگہ کوئی بھی نشانہ بن سکتاہے۔

ان حالات میں ملک کی داخلی سلامتی کے تحفظ کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت محتاج بیان نہیں ہے۔ ہمیں ان خطرات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط اور متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ایسے حالات میں ہر قسم کے باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ہمیں اپنی ریاست ، فوج اورقومی اداروں کی پشت پر کھڑا ہوجانا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کے خلاف دشمن قوتوں نے جو جنگ مسلط کررکھی ہے،وہ اس میں لڑے بغیر پاکستان کو شکست سے دوچار کرنا چاہتے ہیں اور اس حکمتِ عملی کو بہترین حربی چال تصور کیا جاتاہے۔ پاکستان پر اپنے ایجنٹوں،فتنہ خوارج کے مفسدین اور پڑوسی ملک کے متعصب اور بعض نادان دوستوں کی مدد سے دشمن قوتوں نے جو جنگ مسلط کی ہے اس کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا رہنے کے قابل نہ رہے۔ اس ناپاک منصوبہ بندی کا نشانہ اداروں کے جوان اور عام شہری بن رہے ہیں۔ سیاسی انتشار، مذہبی تشدد، لسانی تعصبات اور مرکز گریز تحریکوں کو دیکھتے ہوئے وطنِ عزیز کی حالت کا تجزیہ ابنِ خلدون کے ان الفاظ کی روشنی میں کیاجانا چاہیے کہ قومیں جب داخلی انتشار، معاشرتی زوال اور حکمرانوں کی نااہلی کا شکار ہوتی ہیں تو بیرونی دشمنوں کیلئے ان پر قابو پانا آسان ہوجاتاہے ،بد قسمتی سے پاکستان کے ساتھ یہی کھیل کھیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عام شہری یہ سوال اٹھانا چاہتاہے کہ آخر پاکستان کو جنگ کی اس آگ سے محفوظ رکھنے کے لیے مقتدر طبقات، اہلِ سیاست اور علماء کرام کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں سب سے زیادہ ذمہ داریاں ملک کے مقتدر طبقات پر عائد ہوتی ہیں۔ ہمارے مقتدرین اور پالیسی ساز اداروں کو اس نازک مرحلے پر ملک میں داخلی سیاسی و معاشی استحکام لانے کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔ایسے اقدامات اور کارروائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے جن سے قوم کے مختلف طبقات کے درمیان دوریاں بڑھ سکتی ہوں اور لوگوں میں اشتعال پھیل سکتا ہو۔ سیاسی معاملات کو سڑکوں پر اور عدالتوں میں لانے کی بجائے متعلقہ فورموں میں طے کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے معاملے کو میڈیا پر اچھالنے اور جلسوں میں موضوع بحث بنانے کی بجائے پارلیمنٹ میں مل بیٹھ کر طے کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔ امن و امان کے مسئلے پر سیاست کی بالکل گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ جمہوریت کا صرف راگ الاپنے سے ملک کو مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کو استحکام کے لیے جو بنیاد درکار ہے وہ چند افراد کا نہیں بلکہ عام آدمی کا تحفظ ہے۔ اگر ریاست میں لوگوں کی جان ومال ، عزت وآبرو، دین ومذہب کو خطرات لاحق نہ ہوں، نظامِ انصاف طاقتور طبقات کے ہاتھوں میں کھلونانہ بنا ہوا ہواور اشرافیہ کی حکمرانی کا منظر دکھائی نہ دیتا ہوتو ریاست از خود استحکام کی جانب بڑھے گی اور عوام ان کاموں میں مصروف رہیں گے جو مآلِ کار ریاست کو معاشی، سماجی ، سیاسی اور دفاعی اعتبار سے مضبوط بنا سکیں گے۔

یہ امر درست ہے کہ بدترین حالات کے باوجود مقتدر طبقات اور عوام نے مل جل کر ریاست کے دفاع پر کبھی سمجھوتا نہیں کیااور مئی کے مہینے میں برپا ہونے والے معرکہ حق کے بعد پڑوس میں موجود ریاست دشمن قوتوں کی یہ ہمت بہرحال نہیں کہ وہ دوبارہ ہلہ بول کر ملک کی آزادی کا چراغ بجھانے کا سوچ بھی سکیں لیکن ہماری یہ کامیابی خود ہمارے لیے کافی نہیں ہے کیوں کہ ہم تاحال ریاست کے قیام کے مقاصد کو پورا نہیں کرپائے بلکہ مزید یہ کہ ہم اس راستے سے بھی بہت دور ہیں جو ہمیں اپنے مقاصد کی جانب لے جاسکتاہے ۔ دشمن براہ راست جنگ میں شکست کھانے کے بعد ہمارے خلاف پراکسی جنگ تیز کرچکا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے درمیان ٹی ٹی پی اور ہماری مغربی سرحد پر طالبان حکومت کی صورت میں اسے بہترین پراکسی میسر ہیں۔ اس دوطرفہ بلکہ ہمہ جہت یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں فوجی اور غیر فوجی دونوں طرح کی سوچ و فکر اور حکمتِ عملیوں کی ضرورت ہے۔ قومی سطح پر اتحا د و اتفاق ہمارے لیے سانس کی مانند اہمیت رکھتا ہے اور داخلی اتحاد ہی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جو قوتیں ملک کی ریڑھ کی ہڈی پر ضرب لگانا چاہتی ہیں عوام کو ان سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے ۔ اس مسئلے کے حل کیلئے سیاسی جماعتوں کو مکالمے پر توجہ دینی چاہیے۔ بات چیت سے صرفِ نظرکرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ریاست حالتِ جنگ میں ہے اور ریاست کی بقا اس جنگ میں صرف فتح ہی سے وابستہ ہے لیکن اس جیت کا حصول قومی اتحاد کے بغیر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔