ملکی منظر نامے پر عمومی نظر دوڑانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم من حیث القوم ایک آتش فشاں کے دھانے پر موجود ہیں، سماجی انتشار بڑھتا جا رہا ہے۔ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے باوجود مہنگائی کا سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا، ہر چند کہ بعض اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں کچھ قدرے کمی دیکھی گئی ہے اور شماریات کے گراف میں مہنگائی کم ہوئی ہے لیکن عوام کی اکثریت تاحال کسمپرسی کے عالم میں ہے۔ ماہرین معیشت کے مطابق مہنگائی کسی بھی ملک کے طرزِ حکمرانی کی ایک علامت اور حکومتی کارکردگی کا بیرومیٹر ہوتی ہے۔ مہنگائی کی شرح کو دیکھ کر انداز ہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک پر کس طرزِ احساس اور کس قسم کی مہارتیں رکھنے والے لوگ حکمران ہیں۔ مملکتِ خداداد پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں عوام کے تحفظ سے زیادہ گروہی، سیاسی اور طبقاتی مفادات کا تحفظ کرنے والے عناصر اقتدار کے ایوانوں میں مقیم رہے ہیں۔ فی الوقت ملک کی معاشی فیصلوں کی ڈور عالمی مالیاتی اداروں کے ہاتھ میں ہے۔ پاکستان بھاری شرح سود پر عالمی مالیاتی اداروں اور چین کے بینکوں سے قرضہ اٹھانے پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔ یہ سود، اتنا زیادہ ہے کہ ماہرین معیشت کے مطابق اگر ملک میں معاشی اصلاحات آج مکمل طورپر نافذ کر دی جائیں تو بھی موجودہ گرداب سے نکلتے ہوئے تین سے پانچ سال لگ جائیں گے۔
ملک کو صرف مہنگائی، معاشی بحران اور اقتصادی بدحالی کا چیلنج ہی درپیش نہیں بلکہ دہشت گردی، سیاسی انارکی اور سماجی انتشار جیسے مسائل بھی لاحق ہیں۔ بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کی جانب بیک وقت 12مقامات پر منظم حملے حالات کی سنگینی اور مسئلے کی پیچیدگی کی واضح علامت ہیں۔ اگرچہ اس دفعہ ہمارے قومی سلامتی کے اداروں نے انتہائی موثر اور پیشہ وارانہ انداز میں ان مذموم حملوں کو منہ توڑ جواب دیا اور صوبے میں بڑی تباہی پھیلانے کی سازش ناکام بنادی تاہم جو یقینا ہمارے سیکیورٹی اداروں کی بڑی کامیابی بلکہ کارنامہ ہے تاہم دشمن قوتوں کو اتنی بڑی تعداد میں جنگجو افراد کا میسر آجانا اور اتنی دیدہ دلیری کے ساتھ ان کا حملہ آور ہونا بھی بجائے خود ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے سکیورٹی اداروں کے جوان اور افسران تو اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں تاہم ہم سیاسی اور ابلاغی محاذ پر بیانیے کی جنگ میں زیادہ آگے نہیں بڑھ پارہے اور ہماری سیاسی قیادت بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی سطح پر حل کرنے کی صلاحیت کا ثبوت نہیں دے پارہی۔ ہماری سیاسی قیادت بالخصوص قومی سطح کی بڑی سیاسی جماعتوں اور سیاسی،مذہبی او ر جمہوری سیاست کرنے والے قوم پرست رہنماؤں کوآگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بلوچستان کے عوام کودشمن قوتوں کے مذموم پروپیگنڈے کے اثرات سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ ایسے اقدامات جو بلوچستان کے حقیقی مسائل کا حل پیش کریں اور بلوچ عوام کے دل جیت سکیں۔ ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کے امن سے ملک کا مستقبل وابستہ ہے۔ سی پیک سمیت ملک کے گیم چینجر منصوبوں کی کامیابی کا مدار بلوچستان میںامن کی مضبوط ضمانت ملنے پر ہے۔
دوسری جانب ملک کو ایک اور خوفناک فتنے کا سامنا ہے۔ دین کے نام پر عالمی طاقتوں کے مفادات کا ایندھن بننے والے نوجوان سادہ لوحی یا دولت کی لالچ کی وجہ سے اپنی جانیں بے مقصد گنوا رہے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ملک کے مختلف حصوں بالخصوص خیبر پختونخوا میں فتنہ خوارج کے گماشتوں کی جانب سے قتل و غارت کا کوئی واقعہ پیش نہ آتا ہو۔ پاکستان میں کسی سنجیدہ اور فہمیدہ شخص کو اس امر پر ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ اس ساری شر انگیزی اور فتنہ پردازی کے پیچھے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے مگر المیہ یہ ہے کہ اس کے باوجود ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداداس سازشی جال میں پھنس چکی ہے اور مزید بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ سرحد کے اس پار قائم افغان حکومت بھی پاکستان کے خلاف بھارتی کھیل میں آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ چنانچہ بلوچ علیحدگی پسندوں اور فتنہ خوارج دونوں کو بھی افغانستان کے راستے سے کمک مل رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ بھارت اور افغان عبوری انتظامیہ کا گٹھ جوڑ دوطرفہ نہیں ہے بلکہ ان کے پیچھے بھی وہ عالمی قوتیں ہیں جو پاک افغان سرحدی خطے میں مستقل انتشار پیدا کرکے سی پیک کو ناکام بنانا چاہتی ہیں۔
پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے خلاف کی جانے والی ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے یہ امر ناگزیر ہے کہ تمام قومی طبقات اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اورپا کستان کی وحدت،سا لمیت، عزت و وقار اوراتحاد و یکجہتی پر کوئی سمجھوتا نہ کرنے کا پختہ عزم کرلیا جائے۔ اس وقت بدقسمتی سے سیاسی سطح پر پیدا ہونے والی تلخیاں معاشرے میں بدستور موجود ہیں۔ وفاق اور صوبے ایک پیج پر نہیں ہیں، مذہبی حلقوں میں بھی احساس ذمہ داری کے وہ مظاہر دکھائی نہیں دیتے جو وقت کی ضرورت ہیں۔ معاشرے کے مختلف طبقات باہم دست و گریباں ہونے کی کیفیت میں ہیں۔ معاشی تنگی، بے روزگاری، اشیائے ضرورت کی گرانی اور بے مقصدیت نے لوگوں کو شدید اکتاہٹ، بے زاری اور کوفت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان حالات میں ملک کے سیاسی قائدین، سماجی مصلحین، علماء کرام اور خاص کر مقتدر طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو مایوسی کے گرداب میں پھنسنے اور بے معنویت میں ڈوبنے سے بچائیں۔ معاشرے کے مایوس اور ناراض طبقات کی شکایات دور کرنے، غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے اور ان کا اعتماد بحال کرنے پر سنجیدہ محنت کی جائے۔ اصلاحِ احوال کے ضمن میں معاشی و اقتصادی اصلاحات، قوم کی عمومی تعلیم و تربیت، اعلیٰ اخلاق کی تلقین، صبر وتحمل، حسنِ سلوک، سادگی وکفایت شعاری، وسائل کے درست استعمال اور عدل و انصاف کے قیام کے ذریعے قوم کو اپنی اقدار و روایات پر گامزن رکھا جا سکتا ہے۔ سود، بے راہ روی، باہمی جدل، تنازعات اور اخلاقی انحطاط پر مشتمل رویے قوم کی مجموعی توانائی کے ضیاع، اس کے عمومی مزاج کی خرابی اور ہمت و حوصلوں کی توڑنے کا سبب بن رہے ہیں۔ دہشت گردی، شدت پسندی، سیاسی انارکی اور مذہبی تعصبات میں عدل سے تجاوز نیز معاشی بحران اور مہنگائی ایسے مسائل ہیں جن پر موجودہ رویوں کے ذریعے ہم قابو نہیں پا سکتے۔ اگر ہمیں اپنی حالت کو بہتر بنانا ہے تو اس کے لیے ضبطِ نفس، تحمل و برداشت اور عدل و انصاف کو اختیار کرنا ہوگا۔

