ایران کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے ممکنہ خطرناک مضمرات

ایران، روس اور چین نے شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقیں کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ مشقیں رواں ماہ منعقد کی جائیں گی جن میں تینوں ممالک کی بحری افواج حصہ لیں گی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ان مشقوں میں ایرانی بحریہ، پاسدارانِ انقلاب کی بحری یونٹس، چین اور روس کی بحری افواج شریک ہوں گی۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران سے متعلق اپنے سیاسی عزائم مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک کو آگاہ نہیں کرتا۔ امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے اور کوشش ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے۔

بحرِ ہند کے پانیوں میں ایران، روس اور چین کی مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان محض ایک معمول کی عسکری سرگرمی نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن، خطے کی حساس جغرافیائی سیاست اور امریکا و ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک معنی خیز اور الارمنگ پیشرفت ہے۔ یہ مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب مشرقِ وسطی میں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی، ایران کیخلاف دھمکی آمیز بیانات اور اسرائیل کی مسلسل جارحانہ پالیسیوں نے خطے کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ان مشقوں میں ایرانی بحریہ، پاسدارانِ انقلاب کی بحری یونٹس کے ساتھ ساتھ روس اور چین کی بحری افواج بھی شریک ہوں گی۔ بظاہر ان مشقوں کا مقصد سمندری سلامتی کو مضبوط بنانا اور مشترکہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری بتایا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق اور علاقائی و عالمی حالات اس اعلان کو صرف ایک معمول کی دفاعی سرگرمی سے کہیں آگے لے جاتے ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر ایک طرف ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی بات کرتے ہیں، مگر دوسری جانب فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ تاہم اس بار صورتحال مختلف ہے۔ اس بار ایران کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی راہ میں بڑی رکاوٹ خود خطے کے ممالک بن چکے ہیں۔ سعودی عرب، قطر، امارات، عمان اور ترکیہ جیسے امریکا کے روایتی اتحادیوں نے واضح طور پر یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ ایران کیخلاف کسی بھی فوجی مہم میں تعاون فراہم نہیں کریں گے۔ یہ ایک غیر معمولی پیشرفت ہے، کیونکہ ماضی میں امریکا اکثر انہی ممالک کی سرزمین، فضائی حدود اور سہولیات استعمال کرتے ہوئے خطے میں فوجی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔

اس تناظر میں آذربائیجان کا موقف بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ آذربائیجان نہ صرف ایران کا ہمسایہ ملک ہے بلکہ اس کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات بھی ہیں، جبکہ پڑوسی ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ اس کے تعلقات زیادہ ہموار نہیں رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان وقتاً فوقتاً کشیدگی بھی سامنے آتی رہی ہے۔ تاہم اس کے باوجود آذربائیجان نے اس نازک موقع پر امریکا اور اسرائیل کو ایران کیخلاف کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک اب اختلافات کے باوجود کسی بڑی تباہ کن جنگ کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں۔ ایران کا ایک اور اہم پڑوسی عراق ہے، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، مگر عملی طور پر عراقی حکومت ایران کے زیرِ اثر سمجھی جاتی ہے اور وہاں ایران نواز ملیشیائیں خاصی طاقتور اور منظم ہیں۔ ایسی صورت میں امریکا کیلئے عراق کو ایران کیخلاف لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرنا خطرناک اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عراق کی جانب سے بھی کسی گرین سگنل کی امید کم دکھائی دیتی ہے۔ ان تمام عوامل نے ٹرمپ کے جارحانہ اور دھمکی آمیز لہجے کو خاصا مدھم کر دیا ہے۔ ابتدا میں وہ مسلسل فوجی کارروائی کی بات کرتے نظر آ رہے تھے، مگر اب ان کے بیانات میں ایک قسم کی جھنجھلاہٹ اور مایوسی نمایاں ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ امریکا ایران سے متعلق اپنے فیصلوں پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیتا، اسی مایوسی کا اظہار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحادیوں کی مددکے بغیر مہم جوئی نہ صرف امریکا بلکہ اس کے پالتو اسرائیل کو بھی بھاری پڑ سکتی ہے۔

اسی پس منظر میں اب ایران، روس اور چین کی مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان سامنے آیا ہے۔ اگرچہ یہ مشقیں 2019 سے وقتاً فوقتاً ہوتی رہی ہیں، مگر موجودہ حالات میں ان کی ٹائمنگ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر یہ محض معمول کی مشقیں ہوتیں تو خطے میں کشیدگی کے پیش نظر انہیں موخر کیا جا سکتا تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس عین امریکی دھمکیوں کے دوران مشقوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ پیغام دراصل امریکا کو یہ باور کرانے کیلئے ہے کہ وہ خطے میں غنڈا گردی اور طاقت کے بے جا استعمال سے باز رہے۔ بحرِ ہند میں جہاں امریکا اپنی فوجی موجودی رکھتا ہے، وہیں اب ایران، روس اور چین کی مشترکہ مشقیں ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے ایران تنہا نہیں بلکہ اس کے پہلو میں دو بڑی عالمی طاقتیں بھی کھڑی ہیں۔ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک غیر تحریری اصول یہ ہے کہ جہاں بڑی طاقتوں کی فوجی موجودی قریب قریب ہو، وہاں اشتعال انگیزی سے گریز کیا جاتا ہے، کیونکہ نتائج بے قابو ہو سکتے ہیں۔

ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ روس اور چین جیسی طاقتیں کھڑی ہوں، امریکا کیلئے ایران کیخلاف کوئی بڑی فوجی مہم جوئی آسان نہیں ہوگی۔ امریکی انتظامیہ بخوبی جانتی ہے کہ ایسی کسی حماقت کے اثرات صرف مشرقِ وسطی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے ہر اس خطے تک پھیل سکتے ہیں جہاں یہ طاقتیں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ آج کی دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا اہم خطہ ہو جہاں امریکا، روس اور چین کے مفادات ایک دوسرے سے نہ ٹکراتے ہوں۔ ایسے میں کسی ایک جگہ سے بھڑکنے والا تصادم بہت جلد عالمی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کا مطلب تیسری عالمی جنگ کے خطرے کو دعوت دینا ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کیلئے ایران کیخلاف کسی بھی فوجی مہم جوئی سے باز رہے۔ دنیا بدل چکی ہے، نئی طاقتیں ابھر چکی ہیں اور اب امریکا اکیلا عالمی تھانیدار نہیں رہا۔ نئے حقائق کو تسلیم کرنا اور جنگی جنون کی بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہی عالمی امن کے لیے واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ بصورتِ دیگر کسی بھی احمقانہ اقدام کا انجام عالمگیر انسانی تباہی کی صورت میں نکل سکتا ہے، جس کی ذمہ داری تاریخ امریکا، ٹرمپ، اسرائیل اور نیتن یاہو پر عائد کرے گی۔