مقامی ویکسین کی تیاری ضروری ،ورنہ اربوں ڈالر کا خرچہ؟

اسلام آباد:وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ حکومت شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں ہوتی۔

مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو2031ء تک سالانہ لاگت 1.2ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جو قومی معیشت پر ایک بڑا بوجھ ہوگا۔وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً24 کروڑ ہے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے،یہاں ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان یہ ویکسین عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کرتی ہے جس پر سالانہ تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر لاگت آتی ہے۔ ویکسین پر آنے والی لاگت کا 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار ادا کرتے ہیں جبکہ 51 فیصد حکومت خود برداشت کرتی ہے جس کے باعث حکومت پر مالی بوجھ نسبتاً کم رہتا ہے۔

مصطفی کمال نے خبردار کیا کہ سال 2031 ء کے بعد انٹر نیشنل پارٹنرز کی امداد ختم ہو جائے گی، مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو 2031 تک سالانہ لاگت 1.2ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جو قومی معیشت پر ایک بڑا بوجھ ہوگا۔

ہم نے 2031 ء کا انتظار کیے بغیر کام شروع کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران ویکسین پاکستان آنا رک گئی تھی۔ مستقبل قریب میں پاکستان اس قابل ہوگا کہ خود ویکسین تیار کرے گا۔ سعودی عرب 10 سال سے ویکسین پر کام کر رہا ہے اور انڈونیشیا سالانہ دو ملین ڈوز بنا رہا ہے۔وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ہم نیوکلیئر پاور ہیں، ہم نے جے ایف 17 بنائے تو ہم ویکسین بھی بناسکتے ہیں۔