وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ برفباری کے سبب ہر سال تیراہ میں نقل مکانی ہوتی ہے، اس بار بھی نقل مکانی سے قبل کے پی حکومت اور تیراہ کے عمائدین کے درمیان کامیاب جرگہ ہوا تھا جس کے بعد نوٹی فکیشن جاری کیا گیا۔ دوسری طرف خیبرپختو نخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اتوار کو پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ جمرود فٹ بال اسٹیڈیم میں بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ لوگوں کو برفباری کے موسم میں گھربار خالی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وادی تیراہ کے عوام کو انخلا کا حکم صوبے نے نہیں بلکہ وفاق کی طرف سے جاری کیا گیا۔
یہ صورتحال محض ایک انتظامی غلطی نہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق، وفاقی و صوبائی ہم آہنگی اور فیصلہ سازی کے پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ وادی تیراہ سے شدید سردی اور برفباری کے دوران لاکھوں افراد کا انخلا اور اس کے بعد وفاق اور صوبہ خیبرپختونخوا کے درمیان یہ بحث کہ انخلا کا حکم کس نے دیا، اس امر کی واضح علامت ہے کہ ریاستی سطح پر رابطوں، اعتماد اور مشترکہ حکمت عملی کا شدید فقدان ہے۔ یہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف عوام اپنے مال، مویشی، گھر بار چھوڑ کر برفانی راستوں پر دربدر ہیں اور دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں بلیم گیم جاری ہے۔ وادی تیراہ ایک پسماندہ، دشوار گزار اور دور افتادہ سرحدی علاقہ ہے جہاں کے باسی دہائیوں سے غربت، محرومی، بدامنی اور ریاستی بے توجہی کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ یہاں برفباری کے باعث موسمی نقل مکانی کوئی نئی بات نہیں، جیسا کہ وزیر دفاع نے کہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر سال کی طرح اس بار بھی صرف موسمی مجبوری کے تحت انخلا ہوا یا پس پردہ سکیورٹی فیصلے اور ممکنہ آپریشن نے اس عمل کو ناگزیر بنایا؟ اگر واقعی کئی مہینوں سے جرگے ہو رہے تھے، مذاکرات جاری تھے اور تیاری موجود تھی تو پھر شدید سرد موسم اور برفباری کے عین عروج پر اس فیصلے پر عمل درآمد کیوں کیا گیا؟ وزیر دفاع خواجہ آصف کا موقف ہے کہ یہ معمول کی موسمی نقل مکانی ہے، جس پر جرگے کے ذریعے اتفاق ہوا اور صوبائی حکومت نے اس کے لیے چار ارب روپے مختص کیے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اس تاثر کو رد کرتے ہیں کہ یہ محض معمول کی نقل مکانی تھی اور دعویٰ کرتے ہیں کہ لوگوں کو گھربار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ان متضاد بیانات نے عوام کو مزید کنفیوژن اور اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انخلا کا حکم وفاق نے دیا یا صوبے نے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ لاکھوں شہریوں کو شدید موسمی حالات میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ جب انخلا کے دوران معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کی تکلیف دہ ویڈیوز سامنے آئیں، تب سب نے جاگ کر وضاحتیں دینا شروع کردیں۔ یہ طرزِ عمل ریاستی سنجیدگی کے بالکل منافی ہے۔ فیصلے پہلے ہوتے ہیں، ذمہ داری بعد میں قبول کی جاتی ہے، نہ کہ بحران پیدا ہونے کے بعد ایک دوسرے پر الزام دھرا جائے۔ اگر بڑے آپریشن کا امکان تھا تو کم از کم موسم کے بہتر ہونے تک انتظار کیوں نہ کیا گیا؟ انخلا ویسے ہی ایک اذیت ناک عمل ہوتا ہے، مگر برفباری، شدید سردی اور دشوار گزار پہاڑی راستوں میں یہ اذیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ فیصلہ عوام پر دوہرا عذاب مسلط کرنے کے مترادف ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس تمام صورتحال کے بنیادی ذمہ دار وہ خارجی دہشت گرد ہیں، جو سرحدی علاقوں میں پناہ لے کر ملک میں بدامنی پھیلانے سے باز نہیں آتے۔ ان عناصر کیخلاف کارروائی ناگزیر ہے اور ان کیلئے کسی قسم کی رعایت کی گنجائش نہیں، تاہم دہشت گردوں سے نمٹنے کی قیمت اگر عام شہریوں کی اجتماعی سزا کی صورت میں ادا کی جائے تو اس سے ریاست کی اخلاقی اور سیاسی پوزیشن کمزور ہوتی ہے۔ عوام کو مشکلات میں ڈال کر دہشت گردی کیخلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی، بلکہ اس سے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی خلیج مزید گہری ہوتی ہے، جس سے دہشت گرد اور دشمن فائدہ اٹھاتے ہیں۔
بد انتظامی کے نتیجے میں ہزاروں خاندانوں کی اس بے گھری نے علاقے میں انسانی بحران پیدا کردیا ہے۔ بے گھری سے لوگوں کی رہائش، خوراک، صحت، تعلیم اور روزگار سب متاثر ہوتے ہیں۔ پھر جب انہیں یہ احساس ہو کہ حکومتیں ایک دوسرے سے جان چھڑا رہی ہیں تو ریاست سے بدظنی پیدا ہونا فطری ہے۔موجودہ حالات میں مناسب اور دانشمندانہ قدم یہی ہے کہ شدید موسمی صورتحال کے پیش نظر انخلا کے عمل کو باوقار انداز میں روکا جائے اور جن لوگوں کو نکالا جا چکا ہے انہیں محفوظ طریقے سے واپس گھروں کو پہنچایا جائے۔ آپریشنز کو بھی بہتر موسم تک مؤخر کیا جائے، جبکہ اس دوران انٹیلی جنس نگرانی کو مزید سخت کیا جائے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ یہ بحران ایک موقع بھی ہے کہ وفاق اور صوبہ سنجیدگی سے اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیں۔ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور الزام تراشی سے اجتناب کیا جائے۔اگر تیراہ کے عوام اس امتحان میں تنہا چھوڑ دیے گئے تو یہ ریاست کی ناکامی ہوگی اور اس سے خدانخواستہ دشمن کو ہی فائدہ ہوگا۔
یہ بے بسی کب تک؟
ملک کے میدانی علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں مسلسل برفباری نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ متعدد رابطہ سڑکوں کی بندش کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ متعدد علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کئی گاڑیاں مسافروں سمیت پھنس گئیں، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، مگر افسوسناک طور پر ایسے نازک موقع پر حکومتی مشینری کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ قدرتی یا موسمی شدت کے دوران عوام بے بسی کی تصویر بنے نظر آئے ہوں۔ سردی ہو یا گرمی، سیلاب ہو یا برفباری، ہر بحران میں یہی منظر سامنے آتا ہے کہ عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں حکومت اور انتظامیہ محض کاغذی اصطلاحات بن کر رہ گئی ہیں، جن کا عملی وجود ہنگامی حالات میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے کسی بڑے سانحے یا جانی نقصان کا انتظار کیے بغیر اپنی ذمہ داریاں خودکار اور بروقت انداز میں ادا کریں۔ ہنگامی حالات میں پیشگی منصوبہ بندی، فوری رسپانس اور فیلڈ میں عملی موجودگی ہی وہ عناصر ہیں جو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو بحال کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر ہر آنے والا موسم ایک نئے المیے کی نوید بنتا رہے گا اور عوام اسی طرح لاچار اور بے آسرا رہیں گے۔

