تہران/واشنگٹن/ لندن:خطے کی صورتحال سنگین،آبنائے ہرمز میں ایران امریکا جھڑپیں،مذاکرات کا مقام تبدیل،تہران نے بات چیت صرف جوہری پروگرام تک محدودکرنے کی شرط لگادی۔
غیرملکی خبررساں اداروں کے مطابق بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں تعینات امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان ہونے والی دو جھڑپوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ان تازہ جھڑپوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان متوقع سفارتی مذاکرات بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے قریب آنے والے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون نے اشتعال انگیز انداز میں بحری جہاز کی جانب پرواز جاری رکھی حالانکہ امریکی افواج نے تنائو کم کرنے کے اقدامات کیے تھے۔
ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بتایا کہ ایک F-35C لڑاکا طیارے نے دفاعی اقدام کے طور پر ڈرون کو نشانہ بنایا۔ واقعے میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی امریکی سازوسامان کو نقصان پہنچا۔دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بھی تصدیق کی کہ پاسدارانِ انقلاب کا ایک ڈرون عرب سمندر میں نگرانی اور فلم بندی کے مشن کے دوران لاپتا ہوگیا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ڈرون نے اپنی نگرانی کی فوٹیج کامیابی سے بیس تک منتقل کر دی تھی۔ڈرون سے رابطہ منقطع ہونے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر چند گھنٹوں بعدہی آبنائے ہرمز میں ایک اور کشیدہ صورتحال سامنے آئی جب ایرانی پاسداران انقلاب کی دو گن بوٹس نے امریکی پرچم بردار کیمیکل ٹینکر ایم/وی اسٹینا امپیریٹو کے قریب تیز رفتاری سے تین چکر لگائے اور ریڈیو کے ذریعے جہاز پر چڑھائی اور قبضے کی دھمکی دی۔
اس دوران ایک ایرانی ڈرون بھی امریکی پرچم بردار کیمیکل ٹینکر کے اوپر پرواز کرتا دیکھا گیاجس سے صورت حال کشیدہ ہوگئی۔امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر یو ایس ایس مک فال نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے ٹینکر کو علاقے سے بحفاظت نکالا جبکہ امریکی فضائیہ نے فضائی معاونت فراہم کی۔
امریکی کیپٹن ہاکنز نے ایرانی رویے کو غیر پیشہ ورانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں اس قسم کی اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائے گی۔یہ دونوں واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جمعہ کو اہم سفارتی مذاکرات طے تھے جن کا مقصد ممکنہ فوجی تصادم کو روکنا تھا۔
ذرائع کے مطابق ایران نے اچانک مذاکرات کے مقام، شرکاء اور ایجنڈے سے متعلق نئی شرائط رکھ دی ہیں۔ایران کا مطالبہ ہے کہ یہ مذاکرات استنبول کے بجائے عمان میں ہوں جس میں ثالثی ممالک کو شرکت نہ کرنے دی جائے اور بات چیت کا دائرہ صرف جوہری پروگرام تک محدود رکھا جائے۔
دوسری جانب امریکا کا موقف ہے کہ مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں کا معاملہ بھی شامل ہونا چاہیے۔وائٹ ہائوس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق مذاکرات تاحال شیڈول کے مطابق ہیں تاہم صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
ادھرعرب ذرائع کے حوالے سے امریکی صحافی نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کی درخواست منظور کر لی ہے کہ مذاکرات ترکی سے عمان منتقل کیے جائیں۔مذاکرات جمعہ کو متوقع ہیں۔مزید یہ کہ مذاکرات کے دوران یہ فیصلہ ابھی زیرِ غور ہے کہ علاقائی عرب اور مسلم ممالک عمان میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گے یا نہیں۔
ادھرایران کی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی نے بتایاکہایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ بات چیت جمعہ کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والی ہے جس میں تہران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت متوقع ہے۔
نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ مذاکرات بالواسطہ طور پر ہوں گے جس میں عمان میزبان کے طور پر کام کرے گا۔تسنیم نے کہا کہ توقع ہے کہ ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے جب کہ امریکا کی نمائندگی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کریں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، امید ہے یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے،ایران مڈنائٹ ہیمر جیسا آپریشن دوبارہ نہیں چاہے گا۔وائٹ ہائو س میں میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافی نے ایران سے مذاکرات سے متعلق سوال کیا جس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کسی پیش رفت کا خواہشمند نظر آتا ہے تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا واقعی کوئی نتیجہ سامنے آتا ہے یا نہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں لیکن اگلی ملاقات کہاں ہوگی، اس کا انہیں ابھی علم نہیں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں طے کیے جائیں گے۔اسماعیل بقائی نے ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا کہ عمان، ترکی اور چند دیگر ممالک نے ان مذاکرات کی میزبانی کیلئے آمادگی ظاہر کی ہے تاہم حتمی مقام جلد ہی طے کر لیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکیہ، اردن، عمان اور قطر کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عرب وزرائے خارجہ سے علاقائی صور تحال پر تبادلہ خیال کیا ۔

