وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے برآمد کنندگان کے لیے ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح 7.5 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کرنے ، بجلی کے ٹیرف میں چار روپے چار پیسے مزید کمی، ویلنگ چارجز میں 9 روپے کی کمی سمیت نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بڑے برآمد کنندگان کے لیے دو سال تک بلیو پاسپورٹس کی مراعات کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں صنعتی شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں اور شخصیات کو ایوارڈز دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہمارے لیے بڑا چیلنج تھا، حکومت کی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔ آج مستحکم معیشت سے پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے، مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی آرہی ہے، پالیسی ریٹ22فیصد سے کم ہوکر ساڑھے 10 فیصد تک آچکا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دینے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے، برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ہماری توجہ کا محور ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تاجر برادری کو کاروباری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی جانب سے صنعتی شعبے کے لیے مراعات کا اعلان اور تاجر برادری کو کاروباری سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اظہار خوش آیند ہے۔ توقع رکھی جانی چاہیے کہ ان اقدامات سے ملک میں تجارتی و صنعتی ترقی کی رفتار میں تیزی آئے گی اور بالخصوص ملکی برآمدات میں اضافے کی راہ ہموار ہو جائے گی جوکہ اس وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ابھی چند روز قبل پاکستان کی درآمدات اور برآمدات میں شدید عدم توازن سے متعلق میڈیا میں رپورٹیں چھپی ہیں جن کے مطابق ملک کو اس وقت 20ارب ڈالرز سے زائد کے خوفناک تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے شاید اسی تناظر میں کہا ہے کہ ترقی کا سفر آگے بڑھانے کے لیے ہمیں برآمدات و درآمدات میں توازن لانا ہوگا۔ ان کے مطابق سفارتی و عسکری کامیابی کے بعد معاشی کامیابی اہم چیلنج ہے، یہ ایک کٹھن سفر ہے جس کے لیے خون پسینہ بہانا ہوگا اور دن رات کام کرنا ہوگا۔
معاشی تجزیہ نگاروں کے مطابق برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانا، پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دینا، غیر پیداواری اخراجات پر قابو پانا اور قرضہ گیری کی بجائے قناعت وخود کفالت پر مبنی پالیسیاں بنانا ناگزیر ہے۔ پیداواری و صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ملکی صنعت کوضروری مراعات دینا ایک لابدی تقاضا ہے۔ پاکستان میں برآمدات کے شعبے میں گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ صنعتوں کے لیے یوٹیلیٹی سہولیات بالخصوص بجلی اور گیس کی گرانی اور لوڈ شیڈنگ بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں بجلی کی قیمتیں خطے کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں متعدد کمپنیوں کے پاکستان سے چلے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کا اعتراف خود وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی کرچکے ہیں۔ پھر کراچی جیسے صنعتی شہر میں چند ایک کو چھوڑ کر اکثر صنعتی علاقوں میں بجلی اور گیس کی طویل لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے صنعتوں کی پیداوار متاثر ہو جاتی ہے۔ کراچی میں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی چوری روکنے کے نام پر پوری پوری بستیوں کو اجتماعی سزا دینے اور موسم سرما میں بھی بارہ بارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنے کی ظالمانہ پالیسی کا بھی سب سے زیادہ اثران چھوٹی صنعتوں پر پڑ رہا ہے جو شہر کے مضافاتی علاقوں یا کچی آبادیوں پر قائم ہیں ۔ اس کی وجہ سے سینکڑوں کارخانے بند اور ہزاروں مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں۔ ملکی صنعت اور برآمدات کو پہنچنے والا نقصان اس پر مستزاد ہے۔ وفاقی حکومت اور مقتدر اداروں کو اس طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہیے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے قانون پسند شہریوں اور تاجروں کو ذہنی اذیت اور معاشی نقصان پہنچانے پر کے الیکٹرک کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
علاوہ ازیں حکومت کوغیر پیداواری اخراجات میں کمی اور خسارے میں جانے والے اداروں میں اصلاحات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ وزیر اعظم نے حکومتی اخراجات کم کرنے کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی اور یوٹیلیٹی اسٹورز کو کرپشن اور ناقص کارکردگی کے باعث بند کردیا گیا ہے، پاسکو کو بھی ناقص کارکردگی پر بند کردیا، اداروں میں بہتری کے لیے اصلاحات لارہے ہیں۔ یہ اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں اور شاید اب ہمارے پاس ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ وزیر اعظم نے بالکل درست کہا ہے کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔ پاکستان میں سرکاری کاروباری اداروں اورکارپوریشنوں کا تجربہ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوا، یہی وجہ ہے کہ بہت سے تحفظات کے باوجود بیشتر قومی حلقوں نے پی آئی اے سمیت متعدد سرکاری اداروں کی نجکاری کی حمایت کی ہے تاہم اس کے ساتھ یہ امر ناگزیر ہے کہ نجکاری کے بعد صارفین کے حقوق کی ضمانت حاصل کی جائے، ان اداروں کے ملازمین کو جائز تحفظ دیا جائے اور سب سے بڑھ کر قومی شناخت والے اداروں کے وقار اور ساکھ پر کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے۔
بھارت میں برہمن سامراج کی شر انگیزیاں
بھارت میں ہندوتوا نظریے سے وابستہ انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث اقلیتوں کو درپیش مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق مسلمانوں اور مسیحی برادری کو مختلف علاقوں میں تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اقلیتوں اور کمزور طبقات کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد بھارت میں سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہا ہے اور داخلی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔ بھارت میں اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کوئی اتفاقی امر نہیں ہے بلکہ بھارت کی ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی سوچی سمجھی پالیسی اور حکمت عملی کا شاخسانہ ہے۔ اس ہندو فسطائیت کا سب سے زیادہ نشانہ مسلمان بنتے ہیں تاہم مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتیں بھی برہمن سامراج کے شر سے محفوظ نہیں ہیں۔ انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کی علمبردار عالمی قوتوں کی نظریں برہمن سامراج کی بھارتی اقلیتوں کے خلاف شر انگیزیوں کی طرف کیوں نہیں اٹھتیں؟ یہ ایک سوال ہے۔

