فتنۂ خوارج کے خلاف ہمہ گیر اقدامات کی ضرورت

اطلاعات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں بالخصوص قبائل میں فتنہ ٔ خوارج کے دہشت گردوں کے خلاف گرم آپریشن جاری ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں پچاس سے زائد فسادیوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جاچکاہے ۔ دوسری جانب فتنہ ٔ خوارج کی سرگرمیاں بھی بدستورجاری ہیں ۔بنوں کے نزدیک امن کمیٹی کے ایک اجلاس پر حملہ کرکے سات ارکان کو شہید کردیا گیاہے۔ علاوہ ازیں مخالفین ،سیکورٹی ارکان اور شہریوں کے اغوااور بھتوں کی وصولی کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔ سیکورٹی اہل کاروں پر حملے بھی کیے گئے ہیں۔ ان اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فتنہ ٔ خوارج کو سیاسی جماعتوں یا دیگر مختلف افراد کی طرف سے مدد مل رہی ہے جس کا وہ فائد ہ اٹھا رہے ہیں۔ منشیات کی اسمگلنگ کے ساتھ دہشت گردی کا قریبی تعلق سامنے آنے کے بعد افغانستان میں موجود ان کی پناہ گاہیں اور افغان ،بھارت بڑھتے ہوئے تعلقات اس سے خطے کے امن کو لاحق خطرات کا اب عالمی سطح پر بھی ادراک کیا جارہاہے ۔ ڈنمارک کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دیے گئے بیان میں کہا گیاہے کہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے چھ ہزار سے زائد دہشت گرد علاقائی امن اور عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطر ہ ہیں۔

فتنہ ٔ خوارج کی سرگرمیوں کی اطلاعات اس حوالے ضرور تشویش ناک ہیں کہ مسلسل آپریشن، سیکورٹی اہل کاروں کی قربانیوںا ور ملک کے محافظ اداروں کی تمام تر مستعدی اور جانفشانی کے باوجود اس فتنے کی سرگرمیاں کسی نہ کسی صورت جاری ہیں۔ یہاں یہ امر خوش آئند ہے کہ مقامی قبائل اور شہریوں کو اس فتنے کی تباہ کاریوں ،ان کی جنگ کی بے مقصدیت ،قیادت کی بے سمتی اور بھارت کے ساتھ ان کے قریبی مراسم اور سازشی نظریات کا اچھی طرح ا دراک ہوچکاہے لہذا مختلف مواقع پر وہ پاک فوج کے شانہ بشانہ ان دہشت گردوں کے خلاف میدان میں دکھائی دے رہے ہیں البتہ اس امر پر توجہ دی جانی چاہیے کہ آخر اس فسادی گروہ کی سیاسی پشت پناہی کن مقاصد کے تحت کی جارہی ہے ؟یہ اطلاعات سامنے آنے کے بعد کہ معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کے باوجود ایک سیاسی جماعت کا سوشل میڈیا ونگ بھارتی سیاست دانوں سے رقوم کے بدلے پاک فوج پر تنقید اور کیچڑ اچھالنے کی مہم میں شریک رہا ، انتہائی افسوس ناک امر ہے اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ بھارت میں جس طرح طالبان حکومت کے نمائندوں کی پزیرائی جاری ہے ، اس کے بعد بھارتی سیاست دانوں سے رقم کے بدلے پاک فوج کے خلاف میڈیا مہم اور اسی تناظر میں فتنہ ٔ خوارج کی سیاسی سطح پر پشت پناہی کی کوششیں ایک ہی تصویر کے مختلف حصے معلوم ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں فتنہ خوارج سے برآمد اسلحے میں امریکی ساختہ بندوقوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کے شواہد اس فتنے کے پیچھے کچھ دوست نما دشمن عالمی قوتوں کے مشکوک کردار کو بھی اجاگر کرتے ہیں جن سے صرف نظر ممکن نہیں ہے۔

اسی تناظر میں بعض ذرائع یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں دہشت گردی ،اسمگلنگ،سیاسی پشت پناہی اور بدعنوانی کی پشت پناہی ایک نیٹ ورک کررہاتھاجس پرتقریباً قابو پالیا گیا ہے لیکن اس نیٹ ورک کے بعض حصے اس وقت بھی قانون کی گرفت میں نہیں آسکے ہیں ۔ ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے دی گئی ایک درخواست پر عالمی مالیاتی ادارے نے ایک رپورٹ پیش کی ہے جو ملک کے داخلی ڈھانچے میں موجود بعض خرابیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس رپورٹ میں اگرچہ یہ تسلیم کیا گیاہے کہ حکومت کی کوششوں سے ملک کے مالیاتی مسائل کم ہوئے ہیں اور معاشی نمو کی امید پیدا ہوئی ہے تاہم اس رپورٹ میں ملک میں ہونے والی کرپشن اور بدعنوانی کو معاشی مسائل کی ایک بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ کرپشن پاکستان کے لیے ایک مسلسل چیلنج ہے۔ جاری شدہ تفصیلات میں بہت سے اہم اسباب و سائل کی نشان دہی کی گئی جو کرپشن اور بدعنوانی کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی اس رپورٹ کے مندرجات کو اعلیٰ ترین سطح پر انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور کرپشن میں ملوث تمام عناصر اور ان کے نیٹ ورک کے گرد گھیرا تنگ کیا جاچکاہے جس کے بعد آنے والے دنوں میں مزید قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان تمام عناصر کو ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت یا ریاستی ادارے اور اور محکمے سے ہو، قانون کے دائرے میں لایا جائے گااور لوٹ مار کے ذریعے اکھٹی کی گئی دولت کو ملک میں واپس لانے کی کوشش کی جائے گی۔

مذکورہ تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی، اسمگلنگ،منشیات فروشی، بدعنوانی اور کرپشن کسی نہ کسی سطح پر ایک دوسرے کے معاون ثابت ہورہے ہیں۔ لہذا اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ملک کو محفوظ رکھنے اور تباہی و بربادی سے بچانے کے لیے ان تمام جرائم کی مکمل طورپر سرکوبی کی جائے اور امن کو استحکام بخشا جائے ۔ اس حوالے سے فتنہ ٔ خوارج اور فتنہ ٔ ہندوستان کی مکمل بیخ کنی از حد ضروری ہے کیوں کہ یہ عناصر امن کے کھلے دشمن ہیں اور نظم اجتماعی کو تباہ کرنے کی کوششوں میں سب سے آگے ہیں۔ بھارت کی سہولت کاری، سیاسی پشت پناہی اور بعض مذہبی عناصر کی جانب سے ان کے نظریات کو تقویت فراہم کرنااس فتنے کے مفاسد کو مزید پھیلا رہاہے ۔مصلحت عامہ کا تقاضا یہی ہے کہ ملک کے نظم اجتماعی کو مستحکم کیا جائے ۔مسلح دھڑوں ، شرپسندگروہوں اور فتنہ و فساد کے سرچشموں کاخاتمہ کیا جائے اور لوگوں کو ضرر اور نقصان سے محفوظ رکھا جائے ۔

اس سلسلے میں افغان مہاجرین کی جو کہ بدقسمتی سے اب اس ملک کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں ، واپسی بھی اہمیت رکھتی ہے تاہم اس موقع پر ارباب ِ اختیار کو یہ امر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جانے والے غریب اور مساکین کو اتنی امداد ضرور فراہم کی جائے کہ وہ افغانستان کی شدید سردی اور سخت موسمی حالات میں اپنی بقا کا کچھ سامان کرسکیں۔ جہاں تک طالبان حکومت کا تعلق ہے تو وہ اپنے ملک کی تعلیمی نظام کے انہدام، تجارت کی تباہی اور پڑوسیوں سے مخاصمت جیسے جذباتی اور غیر منطقی اقدامات کے بعد شاید اپنے عوام کو بے کسی غیباور بے بسی میں چھوڑ کر کے اپنے فرائض سے گویا عملا سبک دوش ہوچکی ہے ۔محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کا واحد مقصد فتنہ ٔ خوارج کی سرپرستی ہی رہ گیا ہے ۔ ان حالات میں پاکستان کو کسی ایسے اقدام سے گریز ہی کرنا چاہیے جس کی وجہ سے عام افغان باشندوں کا دشمن تصور کیا جائے ۔سر دست سب سے اہم امر یہ ہے کہ ملک کی داخلی صورت حا ل مستحکم ہو جس کے لیے مفسدین کا خاتمہ پہلی ضرورت ہے۔