ٹرمپ امن منصوبے کی سلامتی کونسل سے منظوری

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ میں قیامِ امن کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کے حق میں قرارداد منظور کر لی ہے۔ سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرارداد میں غزہ میں مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل ‘بین الاقوامی استحکام فورس’ کا قیام بھی شامل ہے۔ اس فورس میں جن ممالک کی افواج شامل ہوں گی، تادم تحریر اُن کے نام سامنے نہیں آئے ۔

اقوام متحدہ سے منظور شدہ قرارداد کے مطابق بین الاقوامی استحکام فورس اور اسرائیل اور مصرسے نئی تربیت یافتہ فلسطینی پولیس فورس سرحدی علاقوں کی سکیورٹی اور حماس سمیت ریاست مخالف گروہوں کو غیر مسلح کرنے میں مدد کرے گی۔ سکیورٹی کونسل نے اپنی قرارداد میں غزہ میں ‘بورڈ آف پیس’ (امن) کے نام سے عبوری حکومت کے قیام کی منظوری دی ہے، جس کا کام فلسطینی ٹیکنوکریٹک پر مشتمل غیر سیاسی کمیٹی کی گورننس کی نگرانی کرنا اور غزہ کی تعمیر نو اور انسانی امداد کی فراہمی پر نظر رکھنا ہے۔ غزہ میں دو سال تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے لیے معالی معاونت، عالمی بینک کی حمایت سے بننے والے ٹرسٹ فنڈ سے کی جائے گی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی استحکام فورس اور بورڈ آف پیس، فلسطینی کمیٹی اور پولیس فورس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ سلامتی کونسل میں پیش کردہ اس قرارداد کے حق میں برطانیہ اور فرانس سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ پاکستان نے بھی حق میں ووٹ دیا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتھونی گرتیس نے کہا کہ یہ قرارداد جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

دوسری جانب فلسطینی مقاومتی تنظیم حماس نے سلامتی کونسل کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرارداد فلسطینی عوام کے حقوق اور مطالبات کو پورا نہیں کر تی۔ حماس نے تجویز پیش کی ہے کہ بین الاقوامی امن فورس اقوام متحدہ کی نگرانی میں تعینات ہونی چاہیے اور اس کو صرف فلسطینیوں کو غیر مسلح کرنے کی بجائے اسرائیلی مظالم روکنے کی ذمہ داری دی جانی چاہیے۔ روس اور چین نے سلامتی کونسل سے منظور کرائی جانے والی قرار داد پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے اور امن منصوبے میں فلسطینیوں کو شامل نہ کرنے اور امن عمل کی قیادت امریکا کو دینے پر تنقید کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق امن منصوبے کے جو خط و خال سامنے آئے ہیں،ان سے یہ امر بالکل عیاں ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی ہدف اور مقصداسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانا، فلسطینی مقاومتی تنظیموں کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی تعمیر نو کے نام پرامیر خلیجی ممالک کے سرمائے سے غزہ کو ایک سیاحتی مرکز بنانے کی امریکی صدر ٹرمپ کی خواہش کی تکمیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے سفاک قاتل اور بین الاقوامی عدالت انصاف سے سزا یافتہ جنگی مجرم وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس قرار داد پر مسرت و اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے، حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ میں مرضی کی انتظامیہ لانے کے اسرائیلی اہداف کے عین مطابق ہے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو اپنے امن منصوبے میں شریک نہیں کیا تاہم وہ اسرائیل کی جانب سے مکمل نمایندگی کا حق ادا کر رہے ہیں جبکہ وہ عرب و اسلامی ممالک جن کو ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے میں بظاہر شامل رکھا ہوا ہے، فلسطینی عوام کا ایک بھی جائز مطالبہ قرار داد میں شامل نہیں کرواسکے۔ صدر ٹرمپ کے اس نام نہاد امن منصوبے پر کئی ہفتوں سے کام ہو رہا تھا، اس دوران عرب واسلامی ممالک کی جانب سے بار بار اس تجویز کا اعادہ کیا گیا کہ قرار داد میں فلسطینی عوام کو حق خود ارادیت دینے اور آگے چل کر ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست جس کا دار الحکومت القدس ہو، کے قیام کے وعدے کو بھی شامل کیا جائے تاکہ اس قرار داد کو فلسطینی عوام کے لیے بھی قابل قبول بنایا جاسکے مگر جو قرار داد سلامتی کونسل سے منظور کرائی گئی ہے،اس میں ایسی کوئی یقین دہانی شامل نہیں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس طرح یہ قرار داد فلسطینی عوام کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی مقاومتی تنظیموں نے اسے مسترد کردیا ہے، فلسطینی عوام کی رضا مندی اور شمولیت کے بغیر کوئی بھی منصوبہ غزہ میں امن لاسکتا ہے نہ قضیہ فلسطین کے حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ایسے کسی بھی منصوبے میں اسلامی ممالک کی شمولیت غزہ کے مظلوم و مقہور مسلمانوں کے لیے خوشی کی نوید نہیں بن سکتی بلکہ اس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ امریکا اسرائیل کی ناکامی کے بعد اسلامی ممالک کی افواج کو فلسطینی مقاومت کو کچلنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امن منصوبے کے نام پر غزہ والوں کو دھوکا دینے کی امریکی کوشش کا روس اور چین جیسے غیر اسلامی نے بجا طور پر ادراک کیا ہے اور دونوں ملکوں نے اس منصوبے کی بنیادی خرابی کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی ہے جبکہ عرب و اسلامی ممالک نے نجانے کن مصلحتوں کی بنا پر اور کن یقین دہانیوں کے بھروسے پر اس مبہم اور متنازع منصوبے کو قبول کرلیا اور اس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

عوامی حلقے،سوشل میڈیا صارفین اور بین الاقوامی امور کے ماہر مبصرین پاکستان کی جانب سے اس قرار داد کی حمایت پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں ، قانون دان ریما عمر نے ایکس پر لکھا کہ سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی قرارداد میں پاکستان وفد کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو شامل نہیں کیا گیا ، جیسے خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح سیاسی راستے متعین نہیں کیا گیا جبکہ بورڈ آف پیس اور بین الاقوامی استحکام فورس کے بارے میں وضاحت نہیں دی گئی ہے تاہم اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کا بنیادی مقصد ‘غزہ میں فوری طور پر خونریزی روکنا، جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور علاقے سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کو یقینی بنانا ہے البتہ انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ سلامتی کونسل سے جو قرار داد منظور ہوئی ہے، اس سے مذکورہ مقاصد کا حصول کیونکر ممکن ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو اس معاملے کی مکمل وضاحت کرنی چاہیے اور اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ پاکستان کسی ایسے منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا جس کا مقصد صرف فلسطینیوں کو دبانا اور قابض و غاصب ریاست اسرائیل کو تحفظ دلانا ہو۔ توقع رکھی جانی چاہیے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس اہم اور حساس معاملے پر قوم کی امنگوں اور امت مسلمہ کے مفاد کے مطابق پالیسی اپنائے گی۔