یورپی ملک البانیہ میں اسلام (ڈاکٹر ساجد خاکوانی)

البانیہ، جنوب مشرقی یورپ میں مسلمان اکثریت کا ملک ہے، جغرافیائی طورپر البانیہ کی مملکت ’جزیرہ نما بلقان‘ کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ آج کل یہاں ایک منحرف عقائد کے مالک صوفی بکتاشی سلسلے کیلئے ویٹی کن طرز پر الگ ریاست بنانے کی خبریں چل رہی ہیں۔ ”تیرانہ“ اس ملک کا دارالحکومت ہے اور ملک کا سب سے بڑا صنعتی و تجارتی مرکز بھی ہے۔
البانیہ کا کل رقبہ گیارہ ہزار مربع میل سے کچھ زائد ہے۔ البانیہ کے مغرب میں سمندری موجوں سے بھرے ہوئے ساحل ہیں، جنوب میں یورپ کا قدیمی ثقافتی و تاریخی ملک یونان ہے، مشرق میں مقدونیا ہے، سربیا شمال مشرق میں ہے اور ”مونٹی نیگرو“ البانیہ کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ البانیہ کے اصل مقامی باشندے ”الیری“ قبل از تاریخ میں جزیرہ نما بلقان کے جنوبی حصے سے یہاں وارد ہوئے تھے۔ ساتویں اور چھٹی صدی قبل مسیح کے دوران اس خطے کو یونانیوں نے اپنی کالونی بنایا، تیسری صدی قبل مسیح میں جب یونانیوں کی گرفت کمزور پڑنے لگی تو اس علاقے کا شیرازہ بکھر گیا اور پانچویں سے دوسری صدی قبل مسیح تک ”الیریوں“ کے کئی گروہوں نے یہاں کے متعدد علاقوں پر بادشاہت اور حکمرانی کے مزے لیے، یہاں تک کہ سلطنت روم کی فوجیں یورپ کے اس خطے تک مار کرنے لگیں اور 168 عیسوی میں روم کی حکومت نے البانیہ کو مکمل طور پر اپنی قلمرو میں شامل کرلیا۔ اگلی کئی صدیوں تک یہاں رومی بادشاہ راج کرتے رہے اور انہوں نے اس علاقے کا نام بھی تبدیل کیا۔ 395عیسوی میں البانیہ بازنطینی سلطنت میں شامل ہوگیا۔ پانچویں صدی مسیحی تک مذہب عیسائیت بھی یہاں اپنے پنجے پوری طرح گاڑ چکا تھا اور رومن پوپ یہاں کا مذہبی پروہت قرار پایا۔ یہاں تک کہ چودھویں صدی کے وسط میں بازنطینی سلطنت کا سورج بھی غروب ہونے لگا اور 1388 میں البانیہ کی سرزمین مسلمان عثمانی ترک بادشاہت کی ٹھنڈی چھاو¿ں تلے آنا شروع ہوئی۔ اس علاقے کو ”البانیہ“ کا خوبصورت نام بھی عثمانیوں نے ہی دیا جبکہ اس سے قبل متعدد مشکل قسم کے نام رہے جو مختلف نسلوں کے اسماءسے ماخوذ تھے۔
1430عیسوی تک عثمانیوں نے اس علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے اسے اپنی انتظامی گرفت میں لے لیا۔ اس فساد زدہ علاقے کو مسلمان بادشاہوں نے اسلام کی تبلیغ سے پرامن بنا دیا۔ حالات میں واضح تبدیلی اور صدیوں کے بعد عدل و انصاف کی فراہمی کے باعث سترہویں صدی کے آخر تک البانیہ کی دوتہائی سے زیادہ آبادی اسلام قبول کرچکی تھی۔ البانیہ نے عثمانی دربار تک اس حد تک رسائی حاصل کرلی کہ دو درجن سے زائد البانوی باشندے ”پاشا“ اور ”بے“ کے سابقے اور لاحقے سے سلطنت عثمانیہ کے وزیر اعظم کے عہدے تک بھی پہنچے۔ اسلامی تعلیمات میں غیر مسلموں کو ذمی کہا گیا ہے اور ان کے متعدد حقوق متعین کیے گئے ہیں۔ ان حقوق کی وصولی کے بعد انہیں ایک قسم کا ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ عثمانیوں کے ہاں یہ قانون رائج رہا اور یہودیوں کے مذہبی راہنما ”رِبی“ اور عیسائیوں کے مذہبی راہنما اپنی اپنی ملت سے یہ ٹیکس اکٹھاکرکے جمع کرانے کے پابند تھے جبکہ یہ مذہبی ملتیں اپنے تعلیمی نظام، مذہبی رسومات اور باہمی و خاندانی معاملات میں آزاد تھیں اور انہیں کے مذہبی و خاندانی راہنما ان کے جھگڑوں کا بھی فیصلہ کرتے تھے اور عثمانی اقتدار ان کی توثیق کر دیا کرتا تھا۔ البانیوں کی علاقائی ثقافتی کہانیوں میں آج بھی عثمانی ترک زندہ ہیں۔
1912ءکی پہلی بلقان جنگ کے نتیجے میں عثمانیوں کو البانیہ سے ہاتھ دھونا پڑے اور اٹھائیس نومبر 1912 ءکو البانیہ نے اپنی آزادی کا اعلان کردیا۔ جنگ کے فوراََ بعد ایک کانفرنس میںعالمی سامراجی گروہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، اٹلی اور آسٹریا نے البانیہ کی آزادی کو تسلیم کر لیا اور 1920 میں البانیہ کو لیگ آف نیشنزکا رکن بھی بنالیاگیا، جو البانیہ کی بین الاقوامی آزادانہ شناخت کی طرف ایک فیصلہ کن قدم تھا۔ 1944 سے 1990 تک البانیہ اشتراکی نظام کی زنجیروں میں بری طرح جکڑا رہا اور اس سرزمین نے اپنی تاریخ کے بدترین ایام اس نظام کے تحت گزارے۔ اشتراکی دور میں البانیہ پورے یورپ میں غریب ترین ملک تھا اور نجی ملکیت کی کوئی اجازت نہ تھی۔ افغان جہاد کے باعث پوری دنیا کو جب اشتراکی استبداد سے نجات ملی تو 1991 ءسے البانیہ میں بھی ایک نئے جمہوری دور کا آغاز ہوا۔
البانوی شہری جنوب مشرقی یورپ کے سب سے قدیم ترین باشندے ہیں، جن کے آباءواجداد انڈو یورپین تھے۔ آج کے البانوی اپنے آپ کو ”شاہینوں کے بیٹے“ کہتے ہیں جو اس علاقے کے قدیم نام کا ترجمہ بھی ہے۔ ”البانوی“ یہاں کی قومی و سرکاری زبان ہے۔ آبادی کا اسی فیصد مسلمان، بیس فیصد عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ ہیں۔ اشتراکی حکومت نے مذہبی پابندیاں عائد کردی تھیں جس کے باعث عبادت گاہیں غیرقانونی قرار دے کر بند کر دی گئی تھیں۔
1944سے 1985 تک البانیہ میں مکمل طور پر اشتراکی طرز حکومت رہا، ایک ہی پارٹی مملکت کے سیاہ و سفیدکی مالک تھی اور خفیہ اداروں کے وسیع و عریض جال کے اندر ملکی عوام ایک بدترین گھٹن کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ 1985 میں البانیہ اس تنہائی سے نکلا، 1989ء میں یہاں سے اشتراکیت کا بستر گول ہوا اور 1991 ءمیں یہاں ایک عارضی دستور نافذ کیا گیا جس میں سیاسی و مذہبی آزادیوںکی آزادی کی ضمانت فراہم کی گئی۔ 1998 میں البانوی قوم نے کثرت رائے سے ایک باقائدہ آئین کی منظوری دی جس نے ملک کو پارلیمانی طرز جمہوریت میں داخل کردیا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد اشتراکی حکومت نے اسلام کا نام و نشان مٹانے کا بیڑا اٹھایا، 1945ءمیں تمام وقف املاک ضبط کرلی گئیں اور ہزاروں علماءکو دھر لیا گیا۔ اسلام پر سیکولرازم کا آخری وار اس وقت ہوا جب البانیہ کو یورپ کی پہلی ”کافر ریاست“ قرار دے کر ملک کی 530 مساجد کو نہ صرف یہ کہ بند کر دیا گیا بلکہ بعد میں ان مساجد کو عجائب گھروں، کلبوں اور ناچ گانوں کے ثقافتی مراکز میں تبدیل کردیا گیا۔ ایک طویل مدت کے بعد 23 نومبر 1990 ءکو البانیہ میں پہلی دفعہ نماز جمعہ ادا کی گئی۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ تبلیغی جماعت کا ایک گروہ البانیہ میں آیا اور انہوں نے مسلمانوں کو ان کا بھلایا گیا سبق دوبارہ یاد کرانے کی کوشش کی۔ اب وہاں اسلامی کتابیں کثرت سے پڑھی جاتی ہیں اور مسلمانوں کی متعدد تنظیموں نے اسلامی شعور کی آگہی کے لیے وہاں اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ اپریل 2011 ءمیں البانیہ کو اسلامی سربراہی کانفرنس (او آئی سی) کی رکنیت بھی دے دی گئی ہے اور وہاں کے مشہور شہر اور دارالحکومت ”تیرانہ“ میں ایک اسلامی یونیورسٹی کی بنیاد بھی رکھ دی گئی ہے۔