غزہ کی تباہی اور فلسطینیوں کے نقصانات کا تاوان اسرائیل سے کیوں لیا جانا چاہیے؟

رپورٹ: علی ہلال
امریکی اور عرب ثالثی کے ذریعے فلسطینی مزاحمت اور اسرائیلی قبضے کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اور معاہدے کے پہلے مرحلے میں قیدیوں کے تبادلے اور امداد کی فراہمی کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی یہ سوال شدت سے زیرِ بحث آ گیا ہے کہ تباہ شدہ غزہ کی تعمیر نو کے اخراجات کون برداشت کرے گا؟
جنگ کے خاتمے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطی کے بعض ممالک غزہ کی تعمیر نو میں مدد کریں گے، تاہم انہوں نے ان ممالک کی وضاحت نہیں کی۔ امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو دیے گئے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ غزہ مستقبل میں ایک زیادہ محفوظ مقام بن سکتا ہے اور خطے کے بعض امیر ممالک تعمیر نو میں کردار ادا کریں گے، جبکہ امریکا اس عمل کو کامیاب بنانے اور امن برقرار رکھنے میں تعاون کرے گا۔تاہم بین الاقوامی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا موقف ہے کہ قانونی طور پر اسرائیل ہی وہ فریق ہے جسے غزہ کی مکمل تعمیر ِ نو کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے، کیونکہ وہ نہ صرف ایک قابض ریاست ہے بلکہ اسی نے حالیہ جنگ اور اس سے قبل گزشتہ 17برسوں کے دوران غزہ پر متعدد جنگیں مسلط کر کے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی۔
دو سال تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد غزہ شدید اور ہمہ گیر تباہی کا شکار ہو چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق غزہ کے 92 فیصد مکانات یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا شدید نقصان کا شکار ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں اسپتال، تعلیمی ادارے، پانی اور بجلی کا بنیادی ڈھانچہ بھی دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری بیان کے مطابق، اسرائیلی افواج نے دو سالہ جارحیت کے دوران غزہ پر دو لاکھ ٹن سے زائد بارودی مواد استعمال کیا، جس میں زمینی، فضائی اور بحری حملوں میں استعمال ہونے والے تمام اقسام کے ہتھیار شامل تھے۔ یہ مقدار توانائی کے اعتبار سے تقریبا 13 ایٹم بموں(ہیروشیما طرز)کے برابر بتائی جا رہی ہے، جس سے تباہی کے حجم، جانی و مالی نقصانات اور متاثرہ رقبے کے بارے میں سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور عالمی بینک کی جانب سے جاری ایک مشترکہ جائزے کے مطابق، غزہ کی تعمیر نو کے لیے آئندہ دس برسوں میں تقریباً 53ارب ڈالر درکار ہوں گے، جبکہ صرف بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات کی بحالی کے لیے 50ارب ڈالر سے زائد رقم کی ضرورت ہوگی۔رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ غزہ میں ہونے والی تباہی محض ایک انسانی بحران نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی قانونی مسئلہ بھی ہے، جس کی ذمہ داری قابض طاقت پر عائد ہوتی ہے۔بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق، قاعدہ نمبر 150 اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ کوئی بھی ریاست جو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرے، وہ ان خلاف ورزیوں سے ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔اسی طرح، 1907ء کی ہیگ کنونشن کی شق نمبر 3میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی فریق جنگی قوانین اور روایات کی خلاف ورزی کرے تو وہ معاوضہ ادا کرنے کا پابند ہوگا اور اپنی مسلح افواج کے افراد کے تمام اقدامات کا ذمہ دار بھی ہوگا۔ہیگ کنونشن کی شق نمبر 52کے مطابق شہروں، دیہات، رہائشی علاقوں اور عمارتوں پر کسی بھی ذریعے سے حملہ یا بمباری ممنوع ہے، جبکہ شق نمبر 53 میں واضح کیا گیا ہے کہ قابض طاقت کو املاک اور نقدی پر قبضے کا حق حاصل نہیں اور امن کے قیام کے بعد انہیں مالکان کو واپس کرنا اور معاوضہ ادا کرنا لازم ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود قتل عام
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ”بتسلیم“کے مطابق اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو جسمانی، نفسیاتی، مالی اور معاشی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضہ ادا کرنے سے انکار کرتی رہی ہے، حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ اس کی ذمہ داری ہے۔ یہ انکار مقبوضہ علاقوں کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق، خصوصا حقِ حیات، جسمانی تحفظ اور نجی ملکیت کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بتسلیم کی 2017ء میں شائع ہونے والی رپورٹ”بلا حسیب و نگران، اسرائیل نے فلسطینیوں کو معاوضہ دینے کی ذمہ داری کیسے ترک کی“میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل دعوی کرتا ہے کہ معاوضے کا مسئلہ کسی حتمی سیاسی حل کے بعد طے کیا جائے گا، تاہم یہ موقف قانونی طور پر بے بنیاد ہے، کیونکہ یہ کوئی دو ریاستوں کے درمیان جنگ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی قبضہ ہے جس میں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق روزانہ پامال ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی قوانین اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیرپورٹس کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ نے 2012ء میں ایک ترمیم نمبر 8منظور کی، جس کے تحت حکومت کو فلسطینی متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے سے استثنا دے دیا گیا۔ اس ترمیم کا مقصد اسرائیلی عدالتوں کے ذریعے فلسطینیوں کو انصاف اور ازالے سے محروم رکھنا تھا۔یہ قانون بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، کیونکہ کوئی بھی ریاست خود کو اس نقصان کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی جو اس نے دوسرے فریق کو پہنچایا ہو۔ ماہرین کے مطابق، مستقبل میں غزہ میں ہونے والی نسل کشی کے مقدمات، جن میں جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کردہ کیس بھی شامل ہے، اسرائیل کو نقصان کے ازالے اور معاوضے پر مجبور کر سکتے ہیں۔بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل اور اس کے جنگی شراکت دار غزہ کے گھروں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے اخراجات کے ذمہ دار ہیں۔ انسانی حقوق کے ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسرائیلی عدالتی نظام فلسطینیوں کو مثر قانونی چارہ جوئی کا موقع فراہم نہیں کرتا، کیونکہ قوانین کو دانستہ طور پر اس طرح ڈھالا گیا ہے کہ فلسطینی کسی بھی قسم کے انصاف سے محروم رہیں۔
1983 ءمیں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر 38/144 منظور کی، جس میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے قدرتی وسائل کے استحصال کی مذمت کی گئی، اور تمام ممالک، اداروں اور کمپنیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایسے کسی اقدام کو تسلیم نہ کریں۔ اس قرارداد میں اسرائیل سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطینی عوام کو پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرے، تاہم اسرائیل نے تاحال اس پر عمل نہیں کیا۔برطانوی ماہرِ معاشیات رچرڈ مرفی کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے زیرِ غور غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے میں دس سالہ بین الاقوامی سرپرستی، بیرونی نگرانی اور نجی سرمایہ کاری شامل ہے، جو درحقیقت فلسطینی خودمختاری کو محدود کر سکتی ہے۔واشنگٹن میں قائم عرب سینٹر نے اس منصوبے کو ملکیت سے محرومی کا خاکہ قرار دیا ہے، کیونکہ اس میں فلسطینیوں کو فیصلہ سازی سے باہر رکھنے اور بالواسطہ نقل مکانی کی گنجائش موجود ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر فلسطینی عوام کو تعمیر نو کے عمل میں مرکزی کردار نہ دیا گیا تو غزہ میں ایک نئی قسم کا ٹےکنوکریٹک قبضہ جنم لے سکتا ہے۔رچرڈ مرفی کے مطابق، تعمیر نو فلسطینی قیادت، مقامی اداروں اور سول سوسائٹی کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔ بیرونی مدد قابلِ قبول ہے، لیکن فیصلوں کا اختیار فلسطینیوں ہی کے پاس رہنا چاہیے۔آخر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر غزہ کی تعمیر نو معاوضے، فلسطینی خودمختاری اور حقیقی نگرانی کے بغیر کی گئی تو یہ امن کے بجائے انحصار اور قبضے کو مزید مضبوط کرے گی، جس سے مستقبل میں تنازع دوبارہ بھڑکنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔