کویت میں شہریت کا بحران….

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
کویت خلیج کا وہ ملک جس کا شمار دنیا کی سب سے مالدار ریاستوں میں ہوتا ہے، ان دنوں ایک ایسے انسانی بحران کی زد میں ہے جو بظاہر خاموش ہے مگر اس کے اثرات گہرے، تکلیف دہ اور دیرپا ہیں۔
یہ بحران کسی جنگ، قدرتی آفت یا بیرونی پابندی کا نتیجہ نہیں بلکہ خود ریاستی پالیسیوں، شہریت کے قوانین اور انتظامی فیصلوں سے جنم لے رہا ہے۔ کویت میں ہزاروں افراد جن میں بچے، نوجوان، معمر شہری اور نامور شخصیات شامل ہیں، اچانک یا بتدریج بے وطن ہو رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اِسی سرزمین پر پیدا ہوئے، یہیں پلے بڑھے، اسی ریاست کے لیے خدمات انجام دیں مگر آج ان کی شناخت، قانونی حیثیت اور مستقبل سب مشکوک بنا دیے گئے ہیں۔ کویت میں 12 سالہ بچے علی خالد کی خودکشی نے اس بحران کو ایک چہرہ دے دیا۔ علی نے اپنے والد سے ایک کھلونا مانگا جس کی قیمت 12 کویتی دینار تھی مگر باپ کی مالی حالت اس کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ غربت، محرومی اور مستقل بے بسی کے احساس نے ایک حساس بچے کو اس نتیجے تک پہنچا دیا کہ وہ اپنے والد پر بوجھ ہے۔ علی نے زندگی ختم کر لی۔ یہ واقعہ اس ریاست میں پیش آیا جہاں فی کس آمدنی دنیا کے بلند ترین درجوں میں شمار ہوتی ہے۔ مگر علی خالد ’البدون‘ تھا۔
البدون کون ہیں؟
البدون عرب باشندے ہیں جو دہائیوں سے کویت میں مقیم ہیں۔ ان کے آباء و اجداد جزیرہ عرب، عراق اور اُردن کے خانہ بدوش قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ ریاستِ کویت کے قیام کے وقت یا اس کے بعد مختلف انتظامی وجوہات، قبائلی شناخت کے مسائل، مردم شماری میں عدم اندراج یا دستاویزات کی کمی کے باعث انہیں شہریت نہیں دی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ عارضی حیثیت مستقل محرومی میں بدل گئی۔ آج کویت میں اندازاً ایک لاکھ کے قریب البدون رہتے ہیں۔ ان کے پاس اکثر شہریت نہیں، مستقل شناختی کاغذات نہیں، تعلیم کی سہولت، سرکاری علاج اور باعزت و مستقل روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ نجی شعبے میں بھی انہیں کم اُجرت، غیرمحفوظ ملازمتوں تک محدود رکھا جاتا ہے جہاں تنخواہیں عموماً ڈیڑھ سو کویتی دینار سے آگے نہیں بڑھتیں۔ علی خالد اکیلا نہیں تھا۔ حمد عبید نامی ایک اور نوجوان بغیر پیدائشی سرٹیفکیٹ، بغیر تعلیمی ڈگری اور بغیر کسی واضح مستقبل کے زندگی کی تمام اُمیدوں سے محروم ہوچکا تھا۔
ریاستی نظام میں اس کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ اسکول میں داخلہ ممکن نہ تھا، ڈگری کے بغیر نوکری ممکن نہ تھی اور شناختی کارڈ کے بغیر کسی بھی قانونی عمل میں شامل ہونا ناممکن تھا۔ آخرکار اس نے بھی خودکشی کر لی۔ اس بحران کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کویت میں خودکشی کی کوشش کو فوجداری جرم سمجھا جاتا ہے۔ ایک اور نوجوان جو غربت اور مایوسی کے عالم میں چوتھی منزل سے چھلانگ لگا دی، مگر خودکشی کی کوشش میں ناکام رہا، اس کے خلاف علاج اور نفسیاتی مدد کے بجائے مقدمہ درج کیا گیا اور اسے جیل بھیج دیا گیا۔ انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق یہ طرزِ عمل مسائل کے حل کے بجائے انہیں مزید گہرا کرتا ہے۔
کویت میں انسانی بحران اب صرف البدون تک محدود نہیں رہا۔ حالیہ مہینوں میں حکومت نے شہریت منسوخی کی ایک وسیع مہم شروع کی ہے جس کے تحت اب تک پانچ ہزار افراد سے کویتی شہریت واپس لی جا چکی ہے۔ یہ افراد اب دنیا کے تقریباً دو سو ممالک میں سے کسی ایک کے بھی شہری نہیں رہے۔ کویتی حکومت کا موقف ہے کہ ماضی میں بڑی تعداد میں شہریت غلط معلومات، جعلی دستاویزات یا غلط بیانی کی بنیاد پر دی گئی تھی۔ بعض افراد نے دوہری شہریت حاصل کی جو کویتی قانون کے خلاف ہے جبکہ شادی کے ذریعے دی گئی شہریت سے متعلق قانون (آرٹیکل8) کے غلط استعمال کے شواہد بھی سامنے آئے۔ ان نکات کی بنیاد پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے پرانی فائلوں کا ازسرنو جائزہ لیا اور شہریت منسوخی کے فیصلے جاری کیے۔ تاہم ناقدین اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق یہ عمل شفاف نہیں، متاثرہ افراد کو موثر اپیل کا حق نہیں دیا جارہا اور کئی کیسز میں دہائیوں پرانی شہریت اچانک ختم کردی گئی جس کے نتیجے میں لوگ مکمل طور پر بے وطن ہوگئے۔
اس مہم میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ کویت کی معروف اور بااثر شخصیات بھی شامل ہیں۔ ان میں معروف اسلامی اسکالر اور ٹی وی شخصیت ڈاکٹر طارق السویدان، فٹبالر مویدالحداد، بین الاقوامی فٹبال ریفری سعد کمیل الفضلی، معروف اداکار عبدالمحسن السہیل اور عبدالرازاق الخلیف، معروف ادیب عبدالعزیز السریعی، گلوکارہ نوال الکویتیہ، اداکار و میڈیا شخصیت داود حسین، سوشل میڈیا انفلوئنسر نہانبیل اور اپوزیشن لیڈر پروفیسر حکیم المطیری شامل ہیں۔ یہ تمام افراد اب قانونی طور پر کسی ملک کے شہری نہیں رہے۔ دلچسپ بات یہ کہ 1982ء کے فٹبال ورلڈ کپ میں کویت کی نمائندگی کرنے والے گول کیپر علی الطرابلسی 74 سال کی عمر میں بے وطن ہوگئے۔ کویت کے پہلے سرٹیفائیڈ ڈاکٹر یحییٰ الحدیدی جنہوں نے تین نسلوں کے ڈاکٹر تیار کیے، ان سے بھی شہریت واپس لے لی گئی۔ فوجی افسر ترکی المطیری جنہوں نے ملکی دفاع میں خدمات انجام دیں اچانک غیرکویتی قرار دیے گئے۔ حتیٰ کہ برطانیہ میں کویت کے سابق سفیر بدرالعوضی بھی شہریت سے محروم ہوگئے ہیں۔
یہ تمام واقعات اُس ملک میں ہو رہے ہیں جہاں یومیہ تیل پیداوار 26 سے 27 لاکھ بیرل کے درمیان ہے۔ معیشت کا تقریباً 90 فیصد انحصار تیل پر ہے، مجموعی قومی پیداوار تقریباً 175 ارب امریکی ڈالر ہے اور کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کے اثاثے ایک ہزار ارب ڈالر سے زائد بتائے جاتے ہیں۔ کویتی دینار دنیا کی سب سے قیمتی کرنسی ہے۔ اس کے باوجود ایک بچہ غربت کے احساس سے جان دے دے، یہ سوال محض معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی ہے۔
شہریت کی منسوخی کے بعد متاثرہ افراد کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اب وہ کیا کریں اور کہاں جائیں۔ کویتی پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد یہ افراد قانونی طور پر کسی بھی ریاست کے شہری نہیں رہتے۔ ان کے سفر پر پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں، بینک اکاونٹس، ملازمتیں، جائیدادیں اور رہائشی حیثیت سب غیریقینی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کئی افراد ایسے ہیں جو پوری زندگی کویت میں گزار چکے ہیں، عربی کے سوا کوئی زبان نہیں جانتے، کسی اور ملک میں ان کا کوئی گھر، رشتہ یا قانونی حیثیت موجود نہیں۔ بہت سے متاثرین کے مطابق انہیں فیصلے سے قبل نہ مکمل نوٹس دیا گیا، نہ سنا گیا۔ بعض افراد کو صرف اتنا بتایا گیا کہ ان کی شہریت ’انتظامی وجوہات‘ کی بنیاد پر ختم کی جارہی ہے۔ اس کے بعد وہ عملاً بغیر شناخت کے ہوگئے۔بچوں کی تعلیم، علاج، ملازمت اور رہائش سب ایک لمحے میں ختم۔ جن افراد کی شہریت منسوخ ہوئی اُن کا عمومی موقف یہ ہے کہ انہوں نے کویت کے قوانین کے تحت ہی شہریت حاصل کی تھی، ریاست نے انہیں دہائیوں تک شہری تسلیم کیا، ان سے ٹیکس اور خدمات لیں اور اب اچانک انکار کردیا گیا۔
کئی متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی اُن کی شہریت غلط بنیادوں پر دی گئی تھی تو اس کی ذمہ داری بھی اسی ریاست پر عائد ہوتی ہے جس نے انہیں قانونی حیثیت دی۔ کچھ افراد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ کویت کے سوا کسی اور ملک کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ان کے مطابق وہ نہ سیاسی پناہ کے خواہاں ہیں اور نہ کسی اور ریاست کے شہری بننا چاہتے ہیں۔ وہ صرف اسی ملک میں قانونی اور باعزت زندگی چاہتے ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے اور جس کی خدمت کرتے رہے۔ قانونی طور پر متاثرہ افراد کو کویتی عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، مگر عملی طور پر یہ راستہ آسان نہیں۔ شہریت کے معاملات کویت میں ریاست کی خودمختاری کے دائرے میں آتے ہیں اور عدالتیں اکثر ایسے فیصلوں میں انتظامیہ کو وسیع اختیار دیتی ہیں۔ ماضی میں بھی شہریت منسوخی کے خلاف اپیلیں دائر ہوئیں مگر ان میں سے بہت کم کامیاب ہوسکیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت یہ دیکھ سکتی ہے کہ آیا طریقہ¿ کار درست تھا یا نہیں، مگر شہریت بحال کرنے کا حتمی اختیار پھر بھی ریاست کے پاس رہتا ہے۔ اس وجہ سے متاثرہ افراد کے لیے عدالتی راستہ امید اور غیریقینی کے درمیان معلق دکھائی دیتا ہے۔
اب تک اس بحران پر عالمی سطح پر محدود ردعمل سامنے آیا ہے۔ چند انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے بے وطنی کے عالمی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے بعض ذیلی اداروں نے بھی یاددہانی کرائی ہے کہ کسی شخص کو بغیر متبادل شہریت کے بے وطن کرنا انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے متصادم ہے۔ باقی ہر طرف خاموشی۔ شہریت کا یہ بحران ایک خاموش انسانی المیہ ہے جس کی بازگشت عدالتوں، سفارت خانوں یا عالمی فورمز سے زیادہ گھروں، دلوں اور ذہنوں میں سنائی دے رہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی اور سرزمین کے نہیں اور ان کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں۔ اس کہانی کا انجام ابھی لکھا نہیں گیا، مگر یہ طے ہے کہ بے وطنی کا زخم محض قانونی فیصلوں سے نہیں بھرتا۔