رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ جنرل براد کوپر کے حالیہ بیانات نے مشرقِ وسطی کی صورتحال کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا ایران کے خلاف کوئی عسکری قدم اٹھاتا ہے تو وہ ایک ’مختصر، تیز اور صاف ‘آپریشن ہوگا۔ یہ جملہ بظاہر محدود کارروائی کا تاثر دیتا ہے مگر زمینی حقائق، عسکری نقل و حرکت اور خطے میں بڑھتے ہوئے تناو کو دیکھتے ہوئے ماہرین اسے ایک وسیع تر جنگی ماحول کی تیاری سے تعبیر کر رہے ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ہر گزرتا دن کسی بڑے تصادم کے خدشات میں اضافہ کر رہا ہے۔جنرل براد کوپر کی اسرائیلی چیف آف اسٹاف جنرل ایال زامیر سے ملاقات کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپشنز، دفاعی ہم آہنگی اور خطے میں میزائل حملوں کے خدشات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق امریکی موقف یہ ہے کہ اگرچہ ایران جیسے بڑے ملک کے خلاف مکمل جنگی تیاری وقت مانگتی ہے تاہم امریکا کسی بھی محدود یا ہدفی کارروائی کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
بعض اسرائیلی ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بات چیت میں ایران میں نظام کی تبدیلی جیسے حساس نکات بھی زیر بحث آئے جس نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔یہ تمام عسکری گفتگو ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے جب ایران خود شدید داخلی دباو کا شکار ہے۔ دسمبر 2025ء سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے ایرانی حکومت کو غیرمعمولی چیلنجز سے دوچار کردیا ہے۔ ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی، مہنگائی کی بلند شرح، اشیائے ضروریہ کی قلت، بے روزگاری اور پابندیوں کے اثرات نے عوامی غصے کو جنم دیا۔ صدر مسعود پزشکیان متعدد مواقع پر اس عوامی بے چینی کا اعتراف کرچکے ہیں۔ مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب ایران کی اسی داخلی کمزوری کو تزویراتی دباو¿ میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
امریکا کی عسکری سرگرمیاں محض بیانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ اس کی سب سے نمایاں مثال دنیا کے طاقتور ترین بحری اثاثوں میں شمار ہونے والے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کی خطے میں واپسی ہے۔ تادمِ تحریر امریکی بحریہ کے مطابق یہ بحری جہاز بحر جنوبی چین سے روانہ ہوکر بحرہند پہنچ چکا ہے اور اب بحرعرب کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ کم از کم 3 جدید گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر بھی شامل ہیں جس سے ایک مکمل کیریئر اسٹرائیک گروپ تشکیل پا چکا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق یہ محض ایک دفاعی تعیناتی نہیں بلکہ ایران کے لیے ایک کھلا اور واضح عسکری پیغام ہے۔یو ایس ایس ابراہام لنکن غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل ہے۔ اس کی مجموعی لمبائی 333 میٹر، چوڑائی 77 میٹر اور وزن 104 ہزار ٹن سے زائد ہے جو اسے دنیا کے سب سے بڑے جنگی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ یہ بحری جہاز دو ایٹمی ری ایکٹروں سے چلتا ہے جو اسے تقریبا 20 سے 25 سال تک بغیر ایندھن بھرے مسلسل آپریشن کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 30 ناٹس یعنی تقریبا 56 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ اس کا فلائٹ ڈیک تقریباً 18 ہزار 900 مربع میٹر کے وسیع رقبے پر محیط ہے۔
ابراہام لنکن ایک وقت میں 85 سے 90 جدید جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان میں ایف/اے -18سپر ہارنیٹ، ایف-35 سی اسٹیلتھ فائٹر، ای اے-18 جی گرولر الیکٹرانک وارفیئر طیارے، ای-2 ڈی ہاک آئی ریڈار وارننگ طیارے اور مختلف اقسام کے حملہ آور و نگرانی کرنے والے ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ ان طیاروں کی مدد سے یہ بحری جہاز روزانہ درجنوں فضائی حملے، نگرانی کے مشن اور دفاعی آپریشن انجام دے سکتا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ کی روزانہ فضائی کارروائی کی صلاحیت بعض چھوٹے ممالک کی مکمل فضائیہ کے برابر سمجھی جاتی ہے۔عملے کے اعتبار سے بھی یہ بحری جہاز ایک مکمل تیرتا ہوا شہر ہے۔ ابراہام لنکن پر موجود بحریہ اور فضائیہ کے اہلکاروں کی مجموعی تعداد تقریبا 5 ہزار 600 سے 5 ہزار 800 کے درمیان ہے۔ ان اہلکاروں میں پائلٹس، انجینئرز، ٹیکنیشنز، انٹیلی جنس ماہرین اور طبی عملہ شامل ہے جو اسے طویل عرصے تک خود کفیل رکھنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
دفاعی نظام کے لحاظ سے ابراہام لنکن جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ اس پر نصب فیلانکس کلوز اِن ویپن سسٹم (CIWS) دشمن کے میزائلوں، ڈرونز اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف کو چند سیکنڈ میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ سی اسپارو اور آر آئی ایم-116 جیسے میزائل سسٹمز اسے فضائی حملوں سے محفوظ رکھتے ہیں جبکہ جدید ریڈار سسٹمز سیکڑوں کلومیٹر دور اہداف کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔اسی دوران امریکی فضائیہ نے بھی خطے میں اپنی موجودگی مضبوط کر دی ہے۔ سینٹکام کے تحت کئی روزہ فضائی مشقیں جاری ہیں جن میں ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل جیسے بھاری ہتھیاروں سے لیس لڑاکا طیارے شریک ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد مختلف ممالک میں موجود ہنگامی ہوائی اڈوں سے طیاروں کی فوری تعیناتی، رسد کی فراہمی، ایندھن کی ترسیل اور طویل المدتی فضائی آپریشنز کی عملی مشق ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں میزبان ممالک کی اجازت سے اور مکمل حفاظتی انتظامات کے تحت انجام دی جارہی ہیں۔
اس بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمی کے ساتھ اسرائیل میں بھی تشویش کی فضا پائی جاتی ہے۔ اسرائیلی عسکری قیادت یہ اعتراف کر رہی ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی تصادم کی صورت میں صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایران کے پاس سیکڑوں بیلسٹک میزائل ہیں جن کی رینج اسرائیل تک پہنچتی ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر اسرائیل نے آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ اور ایرو جیسے میزائل دفاعی نظام ہائی الرٹ پر رکھے ہیں جبکہ امریکا کے ساتھ دفاعی ہم آہنگی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
ایران نے بھی ممکنہ خطرات کے پیش نظر غیرمعمولی اقدامات کیے ہیں۔ تہران نے تین ماہ کے لیے تمام بصری پروازوں اور غیرتجارتی عمومی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت تربیتی طیارے، نجی طیارے اور عمومی ہوابازی معطل ہوچکی ہے جبکہ صرف فوجی، سرکاری اور ہنگامی نوعیت کی پروازوں کو خصوصی حالات میں آپریٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ فضائی ماہرین کے مطابق یہ اقدام کسی ممکنہ فضائی کارروائی یا اچانک عسکری صورتحال کے خدشے کا واضح اشارہ ہے۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات عالمی ہوابازی، توانائی اور تجارت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ متعدد یورپی اور ایشیائی ایئرلائنز نے ایرانی اور عراقی فضائی حدود سے گریز شروع کر دیا ہے جس کے باعث پروازوں کا دورانیہ اور لاگت دونوں بڑھ رہی ہیں۔ توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر خلیج میں کشیدگی بڑھی تو تیل اور گیس کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس کے اثرات عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔ایران کی جانب سے ردعمل نہایت سخت اور دوٹوک ہے۔ ایرانی حکام بارہا واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی امریکی حملے کو وہ مکمل جنگ تصور کریں گے۔ ان کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے، بحری جہاز اور اتحادی تنصیبات ایران کے لیے جائز اہداف ہوں گے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکا پابندیوں، سیاسی دباو اور داخلی احتجاج کو بنیاد بنا کر ایران میں نظام کی تبدیلی کی کوشش کررہا ہے جسے وہ اپنی خودمختاری کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیتی ہے۔
مختصراً امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی محض بیانات یا سفارتی دبا تک محدود نہیں رہی بلکہ اعداد و شمار، فوجی تعیناتیوں اور عملی تیاریوں کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ایک جانب ابراہام لنکن جیسے دیوہیکل بحری بیڑے کی خطے میں موجودگی ہے تو دوسری جانب ایران کی جانب سے سخت انتباہات اور دفاعی اقدامات۔ آنے والا وقت یہ طے کرے گا کہ یہ دباو مذاکرات کی میز تک محدود رہتا ہے یا مشرقِ وسطیٰ ایک نئی، وسیع اور غیریقینی جنگ کے دہانے پر داخل ہوجاتا ہے جس کے اثرات خطے سے نکل کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

