رپورٹ: علی ہلال
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے جنوری میں غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود بھی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اسرائیلی قابض فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فضائی حملوں میں کم ازکم 31 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ یہ حملے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے جو 10 اکتوبر 2025ء سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا تسلسل ہیں۔ فلسطینی مرکز برائے اطلاعات کے مطابق ’قابض افواج نے ایک نئی مجرمانہ کارروائی کے تحت اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے شمال مغربی غزہ شہر کے علاقے شیخ رضوان میں پولیس مرکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 16 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ حتمی تعداد سامنے آنا باقی ہے۔‘رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کے مختلف علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے جن کے نتیجے میں شہادتوں کے علاوہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور ہدف بنائے گئے مقامات پر شدید مادی نقصان بھی ہوا۔طبی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق زیادہ تر فلسطینی ایسے علاقوں میں شہید کیے گئے جو نام نہاد ”زردلکیر“ (ییلولائن) سے باہر واقع ہیں، یعنی وہ علاقے جو اب بھی اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت متعین کی گئی ”زردلکیر“ اسرائیلی فوج کے علاقوں، جو غزہ کی مشرقی جانب تقریباً 53 فیصد رقبے پر مشتمل ہیں اور ان مغربی علاقوں کے درمیان حدِ فاصل ہے جہاں فلسطینیوں کو نقل و حرکت کی اجازت دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں :
بورڈ آف پیس میں شمولیت سے متعلق وضاحت
دریں اثنا جنوری کے وسط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ اس مرحلے میں اسرائیلی فوج کا مزید انخلا اور تعمیرِ نو کی کوششوں کا آغاز شامل ہے جن کی لاگت اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق تقریباً 70 ارب ڈالر ہے۔تاہم معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج 1450 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکی ہے جیسا کہ غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قائم کردہ غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس کے بارے عالمی میڈیا میں بڑی بحث جاری ہے اور کہا جارہا ہے کہ غزہ میں امن وامان کے قیام کو یقینی بنانے کے حوالے سے امریکی صدر کی کوششیں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ بلکہ غزہ میں قیام امن کے بجائے اس ادارے کا مقصد اقوام متحدہ کی جگہ لے کر خود کو ایک عالمی ادارے کے طور پر مقبول کروانا ہے۔
عالمی مبصرین اور تجزیہ کار اس پیس کونسل کو اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ خود اسرائیلی میڈیا بھی اسے اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قائم کردہ پیس کونسل دراصل تنازعات کے انتظام کے لیے اقوامِ متحدہ کے متبادل ایک امریکی میکانزم قائم کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس کی بین الاقوامی قانونی حیثیت محدود ہے اور اس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ حد درجہ مرکزی اور شخصی نوعیت کا حامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی جمہوری ریاستوں کا اس کونسل میں شمولیت سے گریز محض کسی عارضی یا حکمتِ عملی کے اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ کونسل کی قانونی حیثیت کو مسترد کیے جانے کا اظہار ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ اسے فلسطینی فریم ورک سے باہر کام کرنے کے لیے تشکیل دیا جارہا ہے۔ ادارے کے مطابق قلیل مدت میں یہ کمزوریاں غزہ میں بیس نکاتی منصوبے پر عمل درآمد میں کسی بڑے تعطل کا باعث بنتی دکھائی نہیں دیتیں، کیونکہ اس منصوبے کا انحصار بنیادی طور پر امریکا، علاقائی فریقوں اور عملی نفاذ کے میکانزم پر ہے۔ تاہم درمیانی اور طویل مدت میں بالخصوص کونسل کے شخصی کردار اور صدر ٹرمپ پر انحصار کے باعث اس کی قانونی حیثیت میں کمی اس منصوبے کی حمایت کے لیے آمادگی کو گھٹا سکتی ہے، نفاذ اور تسلسل کی صلاحیت کو کمزور کرسکتی ہے اور اس خطرے کو بڑھا سکتی ہے کہ کونسل کی ناکامی یا پسپائی کی صورت میں بتدریج غزہ کی ذمہ داری اسرائیل پر ڈال دی جائے، خواہ عملی طور پر ہو یا عالمی تاثر کی سطح پر۔
اسرائیلی ادارے کے مطابق پیس کونسل کے قیام کا مقصد غزہ کی جنگ کا خاتمہ تھا اور اسے پہلی بار ستمبر 2025ء میں ایک ایسے ادارے کے طور پر پیش کیا گیا جو منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی اور ہم آہنگی کرے۔ بعد ازاں اسی منصوبے کو نومبر 2025ء میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 میں شامل کیا گیا، جسے دنیا کے بیشتر ممالک بشمول مغربی ریاستوں کی وسیع حمایت حاصل ہوئی۔تاہم پیس کونسل کی تازہ ترین شکل جیسا کہ جنوری 2026ء میں ڈیووس میں منعقدہ اقتصادی سربراہی اجلاس میں پیش کی گئی، کو عالمی برادری کے کئی حلقوں کی جانب سے تحفظات بلکہ شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق اس مخالفت کی بنیادی وجہ کونسل کے لیے ابتدا میں متعین کردہ محدود دائرہ کار اور اس کے باضابطہ چارٹر میں طے کیے گئے عملی اختیارات کے درمیان واضح فرق ہے جو اصل تفویض سے تجاوز کرتے ہیں، اقوامِ متحدہ کے اداروں کے ساتھ تداخل بلکہ مسابقت کا سبب بن سکتے ہیں اور صدر ٹرمپ کو بحیثیت سربراہِ کونسل غیرمعمولی حد تک وسیع اور مرکزی اختیارات فراہم کرتے ہیں۔ لندن سے شائع ہونے والے عرب جریدے نے بھی اپنی رپورٹ میں اس پر روشنی ڈالی ہے جس کے مطابق فلسطینیوں کے حوالے سے بھی یہ صورتِ حال قابلِ توجہ ہے، اس کے علاوہ پیس کونسل میں اہم مغربی ممالک کی عدم موجودگی ایسی مو¿ثر بین الاقوامی قانونی چھتری کے قیام کو مشکل بنا دیتی ہے جو ان تنقیدات کو سمیٹ سکے یا ان کی شدت کم کر سکے۔
مزید پڑھیں :
عالمی استحکام فورس میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا، بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدےسےجوڑناغلط ہے، پاکستان
غزہ میں منصوبے پر عملی تعاون کے بارے میں اسرائیلی ادارے کے مطابق تصویر یک رُخی نہیں ہے۔ ایک طرف مغربی ممالک کا کونسل میں شامل نہ ہونا اس بات کا مطلب نہیں کہ وہ خود منصوبے سے کنارہ کش ہوگئے ہیں، کیونکہ ان ممالک کا واضح مفاد غزہ میں انسانی بحران میں کمی، استحکام کے قیام اور علاقائی کشیدگی کے پھیلاو کو روکنے میں ہے۔ دوسری طرف یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ قریبی تعاون کو پیس کونسل کے وسیع ماڈل کو قانونی جواز فراہم کرنے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جسے یہ ممالک کثیرالجہتی عالمی نظام سے انحراف تصور کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ غزہ میں کونسل کی کامیابی کو ایک مثال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جو اس کی حیثیت کو مضبوط کرے اور اس کی سرگرمیوں کو دیگر محاذوں تک وسعت دینے کا سبب بنے اور یہی وہ منظرنامہ ہے جسے یہ ممالک روکنا چاہتے ہیں۔
اسرائیلی انسٹیٹیوٹ کے مطابق امکان یہی ہے کہ مغربی شمولیت محدود اور انتخابی نوعیت کی رہے گی۔ یعنی انسانی ہمدردی کے منصوبوں اور ٹھوس بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں حصہ، اقوامِ متحدہ کے موجودہ چینلز کے ذریعے کام اور منصوبے کے وسیع نفاذ سے متعلق سرگرمیوں میں ضم ہونے سے گریز۔ تاہم قلیل مدت میں یہ توقع نہیں کی جاتی کہ پیس کونسل میں مغربی ممالک کی عدم شرکت غزہ میں منصوبے کے عملی اقدامات کے نفاذ کو کسی بڑے نقصان سے دوچار کرے گی، کیونکہ ابتدا ہی سے نہ تو ان ممالک کو نفاذی اداروں میں مرکزی کردار دیا گیا تھا اور نہ ہی بڑے پیمانے پر مالی اعانت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
البتہ درمیانی اور طویل مدت میں پیس کونسل کی نازک حیثیت غیریقینی صورتِ حال کو جنم دیتی ہے اور منصوبے کے نفاذ پر اضافی دباو ڈال سکتی ہے۔ اگر غزہ میں کونسل ناکام ہوئی تو غالب امکان ہے کہ بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہوگا اور اس کی حمایت کے لیے آمادگی مزید کم ہو جائے گی جبکہ اس کی کامیابی کی صورت میں بھی اسے جزوی قانونی حیثیت کا سامنا رہے گا جسے طویل مدت تک برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔چنانچہ اگرچہ بین الاقوامی مخالفت کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے، تاہم یہ عوامل پیس کونسل کی اس صلاحیت پر گہرے سائے ڈالتے ہیں کہ وہ غزہ میں ایک مستحکم اور پائیدار راستے کی قیادت کر سکے۔

