شام میں کرد عسکری گروپوں کو پسپائی کا سامنا

رپورٹ: علی ہلال
شام میں سابق صدر بشار الاسد کے ریجیم چینج ہونے کے بعد احمدالشرع کی قیادت میں بننے والی حکومتی فورسز کو ملک کے متعدد علاقوں میں نئی کامیابیاں ملی ہیں۔
شام کے صوبہ حلب میں گزشتہ دنوں اٹھنے والی کرد ڈیموکریٹک فورسز کی بغاوت کے بعد ہونے والے آپریشن میں سرکاری فورسز کو نمایاں کامیابی ملی ہے اور دریائے فرات کے مغربی میں کئی اہم اسٹرٹیجک مقامات پر فورسز نے کنٹرول قائم کرلیا ہے۔ اتوار کو شام کی فوج نے صوبہ الرقة میں دریائے فرات کے کنارے واقع اسٹریٹجک شہر الطبقہ اور اس کے فوجی ہوائی اڈے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ کرد قیادت والی فورسز ’قسد‘ کو علاقے سے نکال دیا گیا ہے۔شام کے وزیرِ اطلاعات حمزہ المصطفیٰ نے اتوار کی صبح سویرے تصدیق کی کہ شامی فوج نے الرقة کے دیہی علاقے میں واقع اسٹریٹجک شہر الطبقہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے جس میں الفرات ڈیم بھی شامل ہے جو شام کا سب سے بڑا ڈیم ہے۔اسی تناظر میں میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر الرقة کے مختلف محلوں میں قبائلی جنگجووں اور قسد (کرد ڈیموکریٹک فورسز) کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جبکہ شامی فوج کے الرقة کے جنوبی داخلی راستے تک پہنچنے کے بعد وہاں بھی شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔اس سے قبل شامی فوج کی آپریشنز اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ اس کی فورسز نے سدّ المنصورة (سابقہ سدّ البعث) اور الرقة کے دیہی علاقوں میں واقع قصبات رطلة اور الحمام پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور اب وہ شہر الرقة کے مغربی داخلی راستے سے پانچ کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہیں۔
شامی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی فورسز نے متعدد محاذوں سے شہر الطبقہ میں داخل ہونا شروع کر دیا ہے اور اسی دوران کردستان ورکرز پارٹی سے وابستہ جنگجووں کو الطبقہ کے فوجی ہوائی اڈے کے اندر محاصرے میں لے لیا گیا ہے۔یہ پیش رفت ہفتے کے روز ہونے والی کئی اہم تبدیلیوں کے بعد سامنے آئی جن میں شامی فوج کا ’الرصافہ‘ کے نواحی دیہات پر کنٹرول حاصل کرنا، قسد قیادت سے دریائے فرات کے مشرقی کنارے تک مکمل انخلا کا مطالبہ اور الرقہ کے شہریوں کو تنظیم اور ”کردستان ورکرز پارٹی کی ملیشیاوں“ کے ٹھکانوں سے دور رہنے کی اپیل شامل ہے۔
دوسری جانب قسد فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ الرقہ کے مغربی دیہی علاقے پر توپ خانے اور راکٹوں سے شدید اور مسلسل گولہ باری کی جا رہی ہے جبکہ دبسی عفنان اور الرصافہ کے اطراف شامی فوج کے ساتھ سخت جھڑپیں جاری ہیں۔ ادھر قسد کی خود مختار انتظامیہ نے بین الاقوامی اتحاد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائے اور دمشق کی حامی فورسز کی مبینہ خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے اقدامات کرے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق شامی افواج نے ملک کے مشرقی علاقوں میں تیل اور گیس کے دو اہم میدانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اتوار کے روز تین سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ شامی فوج نے ملک کے سب سے بڑے تیل کے میدان العمر اور گیس کے میدان کونیکو پر قبضہ جما لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شامی افواج کرد قیادت والی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شامی فوج نے ہفتے کے روز شمالی شام میں واقع صوبہ الرقة میں داخل ہونا شروع کیا جو مشرقی حلب کے دیہی علاقوں سے قواتِ جمہوریہ شام (قسد) کے انخلا کے بعد ممکن ہوا جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔
شامی سرکاری فورسز کی اس پیش قدمی کو بہت اہم سمجھاجاتا ہے کیونکہ اس میں جہاں اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل علاقوں پر کنٹرول ہوا ہے وہیں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر بھی دمشق حکومت کے کنٹرول میں آگئے ہیں جس سے شامی حکومت کے اقتصادی ومعاشی طور پر مستحکم ہونے میں مدد ملے گی۔ خیال رہے کہ شامی فورسز کی یہ پیش قدمی ایسے وقت ہوئی ہے جب شامی صدر احمد الشرع نے ایک خصوصی فرمان جاری کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کرد نژاد شامی شہری شامی قوم کا ایک بنیادی اور اصل حصہ ہیں۔ ان کی ثقافتی و لسانی شناخت کثیر جہتی اور متحد شامی قومی شناخت کا اٹوٹ انگ ہے۔
سال 2026 کے فرمان نمبر13 میں مزید کہا گیا کہ ریاست ثقافتی اور لسانی تنوع کے تحفظ کی پابند ہے اور قومی خودمختاری کے فریم ورک کے اندر کرد شہریوں کے اپنے ورثے، فنون کے احیاءاور اپنی مادری زبان کو فروغ دینے کے حق کی ضمانت دیتی ہے۔ فرمان کے آرٹیکل 3 میں کہا گیا ہے کہ کرد زبان کو ایک قومی زبان تصور کیا جائے گا اور ان علاقوں میں جہاں کردوں کی نمایاں آبادی ہے وہاں کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں اسے اختیاری نصاب کے حصے کے طور پر یا ثقافتی تعلیمی سرگرمی کے طور پر پڑھانے کی اجازت ہوگی۔اسی طرح آرٹیکل 4 کے ذریعے ان تمام قوانین اور غیر معمولی اقدامات کو منسوخ کر دیا گیا جو صوبہ حسکہ میں 1962ء کی مردم شماری کے نتیجے میں نافذ ہوئے تھے۔ یہ بھی طے پایا ہے کہ شام میں مقیم تمام کرد نژاد شہریوں جن میں مکتوم القید (جن کا ریکارڈ موجود نہیں تھا) بھی شامل ہیں، کو شامی شہریت دی جائے گی اور انہیں حقوق و فرائض میں مکمل برابری حاصل ہوگی۔
آرٹیکل 5 کے تحت 21 مارچ کو ’نوروز‘ کے تہوار کو پورے جمہوریہ شام میں سرکاری تعطیل ہوگی۔ اسے بہار اور بھائی چارے کے مظہر کے طور پر ایک قومی تہوار تسلیم کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 6 کے مطابق ریاست کے میڈیا اور تعلیمی اداروں کو ایک جامع قومی بیانیہ اپنانے کا پابند کیا گیا ہے۔ اس کے تحت قانوناً نسلی یا لسانی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز یا اخراج پر پابندی ہوگی اور قومی فتنہ انگیزی پر اکسانے والے کسی بھی شخص کو نافذ العمل قوانین کے مطابق سزا دی جائے گی۔آرٹیکل 7 کے تحت متعلقہ وزارتیں اور حکام اس فرمان کی دفعات پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہدایات جاری کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ شامی صدر نے شام میں موجود کردوں کے نام ایک پیغام بھی جاری کیا جس میں انہوں نے اپیل کی کہ وہ فتنہ انگیز باتوں پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو کوئی انہیں نقصان پہنچائے گا وہ ریاست کا دشمن تصور ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ شام کی بہتری، ترقی اور اتحاد چاہتے ہیں۔