غزہ میں جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ، اسرائیل کی رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں

رپورٹ: علی ہلال
امریکی انتظامیہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے اس پیش رفت کو محض ’علامتی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی عملی اہمیت کم کرکے دکھانے کی کوشش کی ہے۔
اسرائیل نے تاحال پہلے مرحلے میں طے شدہ بنیادی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ ان میں مسلسل فضائی حملے، رفح کراسنگ کی بحالی میں رکاوٹیں اور دیگر متعدد خلاف ورزیاں شامل ہیں جنہوں نے جنگ بندی کے عمل کو غیرمستحکم اور سیاسی و عسکری حساب کتاب کا محتاج بنا دیا ہے۔اسی تناظر میں یہ رپورٹ 10 اکتوبر 2025ء سے شروع ہونے والے پہلے مرحلے کے دوران اسرائیلی خلاف ورزیوں کی نوعیت کا جائزہ لیتی ہے اور یہ تجزیہ کرتی ہے کہ یہ اقدامات کس طرح دوسرے مرحلے میں منتقلی کو متاثر کر رہے ہیں، نیز کن عملی رکاوٹوں اور سیاسی کشمکش کے باعث منصوبہ محض اعلان کی حد تک محدود ہو کر رہ جانے کا خدشہ رکھتا ہے۔
جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی صورتِ حال
خیال رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا پہلا مرحلہ 10 اکتوبر 2025ءکو شروع ہوا۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر قتلِ عام میں کمی آئی تاہم اسرائیلی قبضہ فوج نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق پندرہ جنوری 2026ء تک اسرائیل کی جانب سے 1244 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جاچکی ہیں یعنی اوسطاً روزانہ 13.1 خلاف ورزیاں رونما ہوئی ہیں۔ذرائع کے مطابق مجموعی شہدا میں 92.2 فیصد شہری تھے بچوں، خواتین اور بزرگوں کی شرح 51.9 فیصد رہی جبکہ زخمیوں کے حوالے سے 99.2 فیصد شہری تھے۔ ان میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کی شرح 58.4 فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب اسرائیلی خلاف ورزیاں نہ ہوئیں ہوں۔ گزشتہ 95 دنوں میں 1244 سے زائد خلاف ورزیاں ہوئیں ۔
اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں داخل ہونے والی امداد ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ اسرائیل نے نہ تو طے شدہ مقدار پوری کی اور نہ ہی امداد کی نوعیت کے حوالے سے معاہدے پر عمل کیا۔بڑی تعداد میں آنے والا سامان غیرضروری یا لگژری اشیاءپر مشتمل ہے جبکہ منجمد گوشت، انڈے، مویشی جیسی بنیادی اشیاءپر بدستور پابندی عائد ہے۔ ایندھن خصوصاً کھانا پکانے کی گیس کی شدید قلت کے باعث غزہ کے 60 فیصد سے زائد باشندے کچرا جلا کر کھانا پکانے پر مجبور ہیں جو صحت کے سنگین خطرات پیدا کررہا ہے۔ اسرائیل نے شمالی غزہ میں بین الاقوامی اداروں کی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگا رکھی ہے جبکہ ملبہ ہٹانے اور سڑکیں کھولنے کے لیے درکار بھاری مشینری کے داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ البتہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی تلاش کے لیے محدود مصری مشینری کو اجازت دی گئی۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے 53,970 ٹرک داخل کیے مگر عرب میڈیا کے مطابق حقیقت میں صرف 24,611 ٹرک غزہ پہنچے جو طے شدہ مقدار کا 43.6 فیصد بنتا ہے۔ یعنی اوسطاً 261.8 ٹرک روزانہ۔ ایندھن کے حوالے سے صرف 601 ٹرک داخل ہوئے جو یومیہ طے شدہ مقدار کامحض 12.8 فیصد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی فوج کی عارضی تعیناتی کے لیے جس علاقے کو ’زردلکیر‘ قرار دیا گیا تھا اس کا مقصد محض عارضی طور پر زمینی کشیدگی کم کرنا تھا۔ لیکن عملی طور پر اسرائیلی حکومت نے اسے مستقل شکل دینے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ علاقے میں ’زردبلاکس‘ نصب کیے جا رہے ہیں اور بعض اسرائیلی بیانات میں اسے ‘’نئی برلن دیوار‘ سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر کے مطابق یہ لکیر اب اسرائیل اور غزہ کے درمیان ’نئی سرحد‘ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ یاد رہے کہ تقریباً دو برس تک جاری رہنے والی نسل کشی کی اس جنگ کے بعد بدھ کے روز جنگ بندی معاہدہ ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ یہ مرحلہ محض فوجی کشیدگی میں کمی سے آگے بڑھ کر طویل المدتی سیاسی اور سلامتی انتظامات کی طرف منتقلی کا ہدف رکھتا ہے جن میں اسلحہ تلفی، عبوری انتظامیہ کی تشکیل اور تعمیرِ نو کا آغاز شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بدھ کی شام معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا۔وٹکوف نے امریکی کمپنی ’ایکس‘ کے پلیٹ فارم پر کہا کہ یہ مرحلہ ’جنگ بندی سے اسلحہ تلفی، ٹکنوکریٹ حکمرانی اور تعمیرِ نو‘ کی جانب منتقلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اناطولیہ خبر رساں ادارہ اس معاہدے کے دوسرے مرحلے کی اہم شقوں کا جائزہ پیش کرتا ہے جس کا آغاز 10 اکتوبر گزشتہ سال ہوا تھا۔ اس میں بین الاقوامی امن کونسل کا قیام بہت اہم ہے۔ یہ ایک عبوری ادارہ ہوگا جس کا مقصد غزہ سے اسرائیلی انخلا کو مکمل کرنے کے لیے سیاسی و سلامتی بنیادیں فراہم کرنا ہے، ساتھ ہی اسلحہ تلفی کے انتظامات پر عمل درآمد کرانا بھی اس کے فرائض میں شامل ہوگا۔ جمعرات کو اسرائیلی اخبار یدعوت احرونوت نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ ایک ‘امن کونسل’ کے قیام کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی سربراہی وہ خود کریں گے جبکہ اقوام متحدہ کے سابق مشرقِ وسطیٰ ایلچی اور بلغاریہ کے سابق وزیر خارجہ و دفاع نکولائی ملادینوف عملی طور پر اس کی نگرانی کریں گے۔ اخبار کے مطابق ملادینوف ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی کریں گے اور فلسطینی ٹکنوکریٹ انتظامیہ اور امن کونسل کے درمیان رابطے کا کردار ادا کریں گے۔متوقع ہے کہ 23 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں اس کونسل کی باضابطہ تشکیل کا اعلان کیا جائے گا۔
دوسرے نمبر پر اسرائیلی افواج کا مزید انخلا شامل ہے۔اس مرحلے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مزید علاقوں سے انخلا متوقع ہے حالانکہ وہ اب بھی غزہ کے جنوبی اور مشرقی پٹیوں، شمالی علاقوں کے بڑے حصوں سمیت 50 فیصد سے زائد رقبے پر قابض ہے۔تاہم اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیل حماس کے اسلحے کے خاتمے میں پیش رفت کے بغیر ان علاقوں سے انخلا کا ارادہ نہیں رکھتا۔یدعوت احرونوت کے مطابق اگر فلسطینی دھڑوں نے اسلحہ ڈالنے سے انکار کیا تو تل ابیب طاقت کے ذریعے مداخلت پر بھی غور کر رہا ہے۔ فلسطینی دھڑوں کا اسلحہ اہم موضوع ہے۔حماس اپنے اسلحے کو برقرار رکھنے پر مصر ہے اور اس کا مو¿قف ہے کہ وہ ایسے کسی بھی حل کے لیے تیار ہے جو اس حق کو محفوظ رکھتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دے۔حماس خود کو اسرائیلی قبضے کے خلاف ایک مزاحمتی تحریک قرار دیتی ہے جبکہ اقوام متحدہ اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں ’قابض طاقت‘ تسلیم کرتی ہے۔
فلسطینی ٹکنوکریٹ حکومت کا قیام بھی اہم مرحلہ ہے۔ ترکی، مصر اور قطر نے بدھ کے روز ایک مشترکہ بیان میں غزہ کے انتظام کے لیے فلسطینی ٹکنوکریٹ کمیٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کیا جس کی سربراہی علی شعث کر رہے ہیں۔یہ کمیٹی غزہ کے مقامی افراد پر مشتمل ہوگی اور ان علاقوں میں شہری اُمور اور بنیادی خدمات کی نگرانی کرے گی جہاں سے اسرائیلی فوج انخلا کرے گی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ نومبر میں منظور کی گئی قرارداد میں واضح کیا تھا کہ غزہ ایک عبوری فلسطینی ٹکنوکریٹ حکومت کے زیر انتظام ہوگا جو ٹرمپ کی قیادت میں قائم ’امن کونسل‘ کی نگرانی میں کام کرے گی۔ غزہ کی تعمیرِ نوبھی دوسرے مرحلے میں شامل ہے۔ اس مرحلے میں غزہ کی وسیع پیمانے پر تعمیرِ نو کا آغاز متوقع ہے جہاں اسرائیلی حملوں سے 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کی لاگت تقریباً 70 ارب ڈالر ہوگی۔تاہم امریکی ایلچی نے رفح سرحدی گزرگاہ کی دوبارہ بحالی کا ذکر نہیں کیا جسے اسرائیل آخری اسرائیلی قیدی کی لاش کے حصول کے لیے دباو¿ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
بین الاقوامی استحکام فورسکہ تشکیل بھی اس فہرست کا حصہ ہے۔امریکا غزہ میں استحکام کے لیے ایک بین الاقوامی فورس کی تشکیل پر کام کر رہا ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق واشنگٹن جلد اس فورس کے قیام کا اعلان کر سکتا ہے جس کے لیے کم از کم تین ممالک افواج بھیجنے پر آمادہ ہیں جن میں اٹلی، بنگلادیش اور آذربائیجان کے نام سامنے آئے ہیں۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق یہ فورس 2027ءکے اختتام تک غزہ میں تعینات رہ سکتی ہے۔ فلسطینی دھڑوں نے غزہ کے انتظام کے لیے عبوری قومی کمیٹی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل پر دباو ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ جارحیت بند کرے، گزرگاہیں کھولے، امداد کی فراہمی یقینی بنائے اور مکمل انخلا کرے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں 451 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر جنگ میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار زخمی ہوئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔