حماس ترجمان ابوعبیدہ شہید کی اہلیہ ’اسراء جبر‘ کی عظمت و ہمت کی لازوال داستان

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
وہ نقاب پوش آواز جسے دنیا ابوعبیدہ کے نام سے جانتی ہے، برسوں تک دشمن کی آنکھوں سے اوجھل رہی۔ لیکن اس آواز کے پیچھے ایک خاموش وجود بھی تھا…. ایک عورت، جس نے نہ کبھی کیمرہ دیکھا نہ مائیک۔ جس کا نام خبروں میں نہیں آیا۔ مگر جس کی زندگی، قربانی اور صبر اس داستان کی اصل روح ہیں۔الجزیرہ نے ابوعبیدہ کے ساتھ شہید ہونے والی ان کی باوفا اہلیہ اور رازوں کی امین ’اسراء جبر‘ خاتون کے بارے میں ’نقاب پوش کے پیچھے کھڑی عورت‘ کے عنوان سے پہلی بار ایمان افروز تفصیلات منظر عام پر لائی ہیں۔
غزہ کے ایک تنگ سے کمرے میں جس کا رقبہ بارہ مربع میٹر سے زیادہ نہ تھا، اسراءنے ایک کاغذ دیوار پر چسپاں کیا۔ یہ وہی پرچہ تھا جو اسرائیلی طیاروں نے فضا سے گرایا تھا۔ اس پر ایک تصویر تھی۔ ایک نام اور ایک لالچ۔ جو بھی اس تصویر والے شخص کی خبر دے گا، انعام پائے گا۔ اسراءکے ہاتھ میں چھوٹی سی قینچی تھی۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے تصویر کے کنارے تراشے۔ پھر اسے دیوار پر لگا دیا۔ دنیا کے لیے وہ تصویر ایک مطلوب شخص کی تھی، اُس کے لیے وہ اس کے شوہر کی تصویر تھی۔ وہ اپنے سرتاج کو ابوعبیدہ نہیں، حذیفہ کحلوت کے نام سے پکارتی تھی۔ سات سالہ یمان خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں تصویر سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔ جیسے وہ اپنے باپ کو دیکھ کر دل ہی دل میں پکار رہا ہو…. بابا…. بابا۔ اسراءنے دل ہی دل میں کہا: ’یمان! اپنے باپ کو مت بھولنا‘ …. مگر خود اس کا دل پگھل رہا تھا۔ مہینوں سے وہ اپنے شوہر کے چہرے کو چھو نہیں سکی تھی۔تصویر کے ساتھ دیوار پر دعائیں بھی لٹک رہی تھیں۔ وہ دعائیں جو اسراء ہر وقت پڑھتی تھی کیونکہ اس کے گرد ہر طرف خوف تھا۔ کوئی سہارا نہ تھا۔ نہ والدین قریب تھے۔ نہ کوئی فون۔ نہ کوئی خبر۔ وہ دنیا سے کٹ چکی تھی اور دنیا اس سے۔ یہ ایک مطلوب شخص کی بیوی کی زندگی تھی جسے دشمن ہر لمحہ تلاش کر رہا ہو۔ کئی ماہ گزر چکے تھے وہ گھر نہیں آسکا تھا۔پھر وہ دن آیا جس کا انتظار ایک سال سے زیادہ عرصے سے تھا۔ جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ شمال اور جنوب کے درمیان رکاوٹ ہٹ گئی۔ خوف کی دیوار گر گئی۔ اسراءکے دل میں جو آگ بجھ گئی تھی اُس میں پھر سے حرارت آئی۔
حذیفہ جنوبی غزہ پہنچنے والوں میں سب سے پہلے تھا۔ ہاتھوں میں بچوں کے لیے تحفے تھے۔ چار بچوں کے لیے اور اسراءکے لیے ایک خاص تحفہ۔ ایک بھاری سونے کا جھمکا۔ یہ صبر کا انعام تھا۔ جدائی کا بدل اور مداوا۔ یہ وہی محبت تھی جو بیس سال پہلے شروع ہوئی تھی۔ اس وقت اسراءسترہ برس کی تھی۔ اس نے حذیفہ کے سائے میں تعلیم حاصل کی۔ اسکول مکمل کیا۔ پھر جامعہ سے صحافت اور ابلاغیات میں تعلیم حاصل کی۔ وہ ایک ذہین طالبہ تھی مگر اس کی اصل پہچان اس کا کردار بنا۔ اسراءاور حذیفہ کی زندگی ہمیشہ غیرمعمولی رہی مگر ان کے درمیان رشتہ نہایت سادہ تھا؛ احترام، خاموشی، اعتماد۔ جنگ لوٹی …. مگر اسراءنے فیصلہ کرلیا تھا اب وہ جدائی نہیں سہے گی۔ اس کا دل ہر لمحہ یہی کہتا تھا میں تمہارے ساتھ ہوں۔ ہمیشہ، موت تک۔نو ماہ بعد وہ قیامت آئی جس نے سب کچھ بدل دیا۔
الجزیرہ نے ابوعبیدہ کے گھر کے واحد زندہ بچے سے بات کی۔ ابراہیم اٹھارہ برس کا نوجوان۔ ابوعبیدہ کا فرزند اجمند۔ اس کے جسم میں لوہے کی سلاخیں لگی تھیں۔ چہرہ زرد تھا۔ آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ وہ ابوعبیدہ کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ چار بہن بھائی تھے۔ لیان پندرہ سال۔ منة اللہ بارہ سال۔ یمان سات سال اور ابراہیم۔ اب سب شہید ہوچکے تھے۔ وہ اکیلا رہ گیا تھا۔جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ کیسے بچ گیا تو اس نے مسکرا کر کہا۔ کاش مجھے بھی معلوم ہوتا۔ اس نے کئی منظر سوچ رکھے تھے یا تو سب شہید ہوں گے یا والد یا وہ خود۔ مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ سب جائیں گے اور وہ باقی رہے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ کاش کہ وہ بھی والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ چلا جاتا۔ اسے یاد آیا کہ حملے سے ایک رات پہلے اس نے خواب دیکھا تھا۔ وہ ہوا میں پانچ گولیاں چلا رہا تھا۔ اب اسے سمجھ آیا۔ پانچ جانیں؛ ماں، باپ، بہن، بہن، بھائی ….اور وہ اکیلاا
آخری دن کی یادیں اس کے لیے زخم تھیں۔ بینگن کی ایک سادہ سی ڈش۔ لکڑی کی آگ۔ سب اکٹھے تھے۔ عصر کی نماز پڑھی گئی۔ اسراءنے قرآن کھولا۔ سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کی۔ یمان، ابراہیم کے ساتھ چمٹا بیٹھا تھا۔ پھر آسمان پھٹا۔ بم گرے۔ دھواں، چیخیں، یمان دور جا گرا۔ ابراہیم زخمی تھا۔ ہل نہیں سکتا تھا۔ وہ پکار رہا تھا۔ کلمہ پڑھو یمان۔ جواب نہ آیا۔ پھر کسی کی آواز نہ آئی۔ اسے معلوم ہوگیا سب چلے گئے۔ خواب سچ ہوگیا۔ابراہیم کہتا ہے۔ ہمیں معلوم تھا کہ ابو کے ساتھ رہنا خطرہ ہے مگر عجیب سکون تھا۔ جب وہ ہمارے ساتھ ہوتے تھے ہم نہیں ڈرتے تھے۔ جب دور ہوتے تھے دل کانپتا تھا۔
شدید بمباری میں ابوعبیدہ بچوں کو دلاسہ دیتے تھے۔ کہتے تھے؛ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ ہم اکٹھے مر جائیں گے۔ موت دردناک نہیں اور رب کریم سے ملاقات خوبصورت ہے۔ یہ ایک قرآنی گھر تھا۔ اسراءنے جنگ کے دنوں میں بچوں کو حافظ بنایا۔ ابراہیم نے پہلے مہینے میں حفظ مکمل کیا۔ لیان نے درمیان میں۔ منة نے آخر میں۔وہ راتوں کو اٹھتی تھیں، دعا کرتی تھیں۔ بچوں کو اذکار سکھاتی تھیں۔ نماز کی پابندی کرواتیں۔ دین کے معاملے میں سخت تھیں۔ابو عبیدہ بچوں سے آہستہ بات کرتے تھے، ڈرونز کے خوف سے۔ حق تعالیٰ کے نام سکھاتے تھے۔ روز دو نام اور ان پر غور۔ عقیدہ، یقین، صبر۔ دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ ابراہیم کو چند سال پہلے معلوم ہوا تھا کہ اس کے والد کون ہیں۔ ماں نے سیکورٹی کے اصول سکھائے۔ خاص فون، کیمرے بند، سب لوکیشن بند۔ اس گھر کا سب سے اہم اصول تھا انکار۔ نام کا انکار، رشتے کا انکار، حتیٰ کہ علاج کے بستر پر بھی اس نے انکار کیا کہ میں ابوعبیدہ کا بیٹا ہوں۔ ابوعبیدہ بار بار جگہ بدلتے تھے۔ امن میں زندگی معمول کی ہوتی۔ جنگ میں مکمل رازداری۔ کئی بار جان بچی؛ ایک بار اغوا کی کوشش، ایک بار دشمن اسی عمارت میں تھا؛ چودہ دن محاصرہ مگر رب نے آنکھیں اندھی کردیں۔
اسراء اور حذیفہ کا رشتہ مثالی تھا۔ ابراہیم کے مطابق ماں کہتی تھیں کہ بیس سال میں کبھی شکایت نہیں سنی۔ بھائی کہتا کہ اسراء نے کبھی بوجھ محسوس نہیں کیا۔اس کی سہیلیاں نہیں جانتی تھیں کہ وہ کس کی بیوی ہے۔ وہ خاموش تھی؛ کم گو۔ محتاط۔ اس کے جانے کے بعد سب کو حقیقت معلوم ہوئی۔ وہ نرم تھی، سادہ تھی، مضبوط تھی۔ اس نے خاموشی سے تاریخ رقم کی۔ یوں نقاب اٹھا۔ صرف چہرہ نہیں ایک عورت کی کہانی بھی سامنے آئی۔ اسراءجبر۔ وہ عورت جو پردے کے پیچھے کھڑی رہی۔ جس نے صبر کو ہتھیار بنایا۔ خاموشی کو ڈھال اور محبت کو قربانی۔
بلاشبہ نقاب پوش ابوعبیدہ کی کہانی صرف ایک مرد کی نہیں، یہ ایک عورت کی عظمت کی بھی گواہی ہے۔