خیبر پختونخوا پولیس کی آڈٹ رپورٹ میں کروڑوں روپوں کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس میں کروڑوں روپے کی بےقاعدگیاں ہوئی ہیں، آڈیٹر جنرل نے متعدد کیسز میں انکوائری اور کارروائی کی سفارش کردی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پانچ اضلاع میں پولیس نے 35 کروڑ روپےکی غیر قانونی ادائیگیاں کیں۔ سول، گورنر اور وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں 114 اہلکار تعینات کیے گئے، 114 کی بجائے177 اہلکاروں نے 14ہزار 500 روپے ماہانہ وصول کیے، پولیس اہلکاروں کو 57 لاکھ 42 ہزار کی ادائیگی کی گئی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق آسامائی بازار میں 24 دکانیں500، 600 اور 1600 روپے ماہانہ کرائے پر دی گئیں، کرائے 2015 میں مارکیٹ ریٹ پر وصول کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، کرائے کی رقم سرکاری خزانہ میں جمع نہ کرنے سے 58 لاکھ 50 ہزار کا نقصان ہوا۔
گاڑیوں کا ٹھیکہ جعلی سیلز ٹیکس دستاویزات پیش کرنے والے ٹھیکیدار کو دیا گیا، سیلز ٹیکس کی مکمل کٹوتی نہ کرنے سے 25 لاکھ 99 ہزار کا نقصان ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مختلف دفاتر میں تعینات اہلکاروں کی تنخواہیں ان اداروں سے وصول نہیں کی گئیں، 16 کروڑ31 لاکھ 64 ہزار روپے ان اداروں کے ذمہ بقایا جات ہیں، محرم اور الیکشن ڈیوٹی کیلئے گاڑیوں کے کرایوں پر خرچ ایک کروڑ 25 لاکھ 18ہزار روپے کا ریکارڈ نہیں، الاؤنس اور تنخواہوں کی مد میں اختیارات کے برعکس ایک کروڑ 25 لاکھ روپے نکالے گئے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ہری پور میں ٹریفک چالان کی مد میں 22 لاکھ 51 ہزار روپے خزانے میں جمع نہیں کیے، خوشحال گھڑپل کی سیکیورٹی پر ریلوے سے 8 کروڑ 36 لاکھ 83 ہزار روپے وصول نہیں کیے جا سکے۔
گیارہ گاڑیوں کے لیے تیل کی مد میں ایک کروڑ 23 لاکھ 73ہزار نکالے گئے، ان گاڑیوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، جس کی مد میں پیسے دیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبر میں غیر قانونی طور پر اسپیشل الاؤنس کی مد میں 22 لاکھ روپے ادائیگی کی گئی، 8 ہزار 400 یونیفارم کا ٹھیکہ غیر رجسٹرڈ ٹھیکیدار کو دے کر پیشگی ادائیگی کی گئی، یونیفارم کی مد میں 44 لاکھ 28 ہزار کا نقصان قومی خزانے کو پہنچایا گیا ہے، اسٹور میں 3 ہزار 522 یونیفارم بنانے کیلئے کپڑا موجود تھا، ملازمین کی تنخواہیں بند کرنے کے باوجود 77 لاکھ روپے کی مشکوک ادائیگیاں کی گئیں۔

