کابل/ اسلام ا باد/واشنگٹن:بین الاقوامی کرائسز گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر کے اوائل میں شدید جھڑپیں ہوئیں، جب اسلام آباد نے پاکستانی سرزمین پر حملوں میں اضافے کا الزام افغانستان میں موجود شدت پسندوں پر عائد کیا۔
اگرچہ اس وقت جنگ بندی برقرار ہے، تاہم عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث پاکستان کی جانب سے دوبارہ حملے کا خدشہ برقرار ہے۔یہ امر بظاہر حیران کن ہے کہ افغانستان میں 2021 ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ثابت ہوا۔
2001 ء کے بعد اسلام آباد نے طالبان قیادت کو پناہ دی جب وہ امریکا کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے تھے۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد پاکستان کے انٹیلی جنس چیف کابل کا دورہ کرنے والے اولین غیر ملکی حکام میں شامل تھے۔
تاہم اب دونوں ممالک کے تعلقات شدید تنا ئوکا شکار ہیں جس کی بنیادی وجہ طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی سے انکار ہے۔ ٹی ٹی پی 2007 ء میں پاکستانی ریاست کے خلاف لڑنے کے لیے قائم ہوئی تھی۔
یہ زیادہ تر پشتون اسلام پسند عسکریت پسندوں کا اتحاد ہے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2,570 کلومیٹر طویل، دشوار گزار سرحد پر آزادانہ نقل و حرکت رکھتے ہیں۔ 2014 ء تک پاکستانی فوج نے بڑی حد تک ٹی ٹی پی کو پسپا کر دیا تھا جس کے نتیجے میں وہ مشرقی افغانستان میں منتقل ہو گئے اور پاکستان نے قبائلی علاقوں میں ریاستی کنٹرول مضبوط کر لیا۔
2021 ء میں کابل پر قبضے کے بعد طالبان نے پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کرائے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں 2022 ء میں عارضی جنگ بندی ہوئی، تاہم اپریل 2022 ء میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ عمل ناکام ہو گیا۔
اسلام آباد میں مذاکرات کے سب سے بڑے حامی عمران خان ہی تھے۔ اس کے بعد ٹی ٹی پی نے دوبارہ مطالبہ کیا کہ پاکستان خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں سے اپنا کنٹرول واپس لے جو پاکستانی سیاست دانوں، عسکری قیادت اور مقامی آبادی کے لیے ناقابل قبول ہے۔
تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ2022 ء کے بعدہوا۔ صرف 2025 ء میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں 600 سے زائد پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار مارے گئے جن میں اکثریت خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تھی جو افغانستان سے متصل صوبے ہیں۔
اسلام آباد ان حملوں کا ذمہ دار ٹی ٹی پی کو ٹھہراتا ہے جبکہ بلوچ عسکریت پسندوں پر بھی الزام ہے جن کے بارے میں پاکستان کا دعویٰ ہے کہ انہیں بھارت کی حمایت حاصل ہے۔اقوام متحدہ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کو طالبان کی حمایت حاصل ہے تاہم طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہی نہیں اور پاکستان میں تشدد اندرونی مسئلہ ہے۔ تاہم نجی سطح پر طالبان حکام ٹی ٹی پی کی موجودگی تسلیم کرتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ دونوں ریاستیں سرحد پار نقل و حرکت کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتیں۔
کابل کا کہنا ہے کہ اس نے 2024 ء میں پاکستان کی سرحد کے قریب سے کئی پاکستانی عسکریت پسندوں، ان کے خاندانوں اور دیگر بے گھر افراد کو افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقل کیا۔ اس کے باوجود طالبان سرحد پار حملے روکنے میں ناکام رہے ہیں اور ٹی ٹی پی قیادت کو پاکستان کے حوالے کرنے سے بھی انکار کرتے ہیں جو اسلام آباد کا بنیادی مطالبہ ہے۔
طالبان کے نزدیک ٹی ٹی پی بہت بڑی تنظیم ہے، اس کے طالبان سے تعلقات مضبوط ہیں اور سرحدی علاقوں کے کئی افغان باشندے بھی پاکستانی ریاست کے خلاف اسی نوع کی ناراضی رکھتے ہیں۔ طالبان کو خدشہ ہے کہ سخت کریک ڈائون الٹا اثر ڈال سکتا ہے اور طالبان جنگجو یا ٹی ٹی پی عناصر داعش کے ساتھ مل سکتے ہیں۔
سرحدی حملے اور خطرناک تصادم8 اکتوبر کو ٹی ٹی پی کے ایک حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکار شہید ہوئے، جس کے بعد پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملے کیے، جن میں پہلی بار کابل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود تھا۔ جواباً افغانستان نے پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔
ان جھڑپوں میں دونوں جانب فوجی اور شہری ہلاکتیں ہوئیں۔اطلاعات کے مطابق ترکیہ اور قطر کے دبائو نے پاکستان کو مزید وسیع حملوں سے روک دیا جن کا مقصد ٹی ٹی پی کی قیادت کو ختم کرنا تھا۔اس وقت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات معطل ہیں اور تجارت مکمل طور پر بند ہے۔
پاکستان میں افغان شہریوں کے خلاف اقدامات، جن میں بڑے پیمانے پر بے دخلیاں بھی شامل ہیں نے کابل کو مزید مشتعل کیا ہے۔ ادھر طالبان کی جانب سے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات نے بھی اسلام آباد کے شکوک و شبہات میں اضافہ کیا ہے۔
افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں تاہم ان کا استعمال یقینا ًپاکستان کی جانب سے کہیں زیادہ سخت ردعمل کو جنم دے گا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے کئی بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تاہم جنوبی ایشیا میں پاکستان کی صورتِ حال نہایت پیچیدہ ہے۔
2025 ء میں افغانستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مختصر جنگوں کے بعد، کسی بھی بڑے عسکریت پسند حملے سے پاکستان اور اس کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان قائم نازک امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کسی آئندہ حملے کا سراغ افغانستان سے جوڑتا ہے تو اسلام آباد کا دوبارہ فوجی کارروائی کرنا تقریباً یقینی ہے اور ایسی کسی بھی جھڑپ کے نتائج پورے خطے کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب سگارکی حتمی رپورٹ نے یہ حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی ہے کہ افغانستان میں لڑی جانے والی 20 سالہ جنگ صرف ایک عسکری مہم جوئی نہیں بلکہ کھربوں ڈالر کی منظم بدعنوانی کا ایک ایسا باب تھی جس کی مثال نہیں ملتی۔
امریکا نے افغانستان میں مجموعی طور پر 2400 ارب ڈالر خرچ کیے جس میں سے تعمیرِ نو کے لیے مختص 144 ارب ڈالر کی رقم یورپ کو بحال کرنے والے ‘مارشل پلان’ سے بھی زیادہ تھی، مگر اس خطیر رقم کے باوجود وہاں نہ کوئی پائیدار ادارہ بن سکا اور نہ ہی عوام کی زندگی بدل سکی۔
یہ رپورٹ پاکستان کے اس دیرینہ اور سچے موقف کی تائید کرتی ہے کہ امریکا کی جلد بازی میں واپسی سے 7.1 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگا، جو اب ٹی ٹی پی جیسے گروہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹ نے ‘افغان نیشنل آرمی’ کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے جس میں ہزاروں فرضی ملازمین موجود تھے اور جو صرف کاغذوں پر ایک طاقتور فوج دکھائی دیتی تھی مگر حقیقت میں وہ کرپشن کی بنیاد پر کھڑی ایک مصنوعی قوت تھی جو غیر ملکی سہارے کے بغیر ایک دن بھی نہ ٹک سکی۔
افغانستان میں ہونے والی تاریخی کرپشن کا عالم یہ تھا کہ گاڑیوں کے تیل سے لے کر عوامی فلاح کے فنڈز تک سب ملی بھگت سے ہڑپ کیے گئے جس کی وجہ سے امداد کا بڑا حصہ عام افغان شہری تک پہنچنے کے بجائے مخصوص گروہوں اور بدعنوان حکمرانوں کے بینک اکائونٹس کی نذر ہو گیا۔
موجودہ صورتحال میں بھی تشویشناک بات یہ ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے دی جانے والی انسانی ہمدردی کی امداد شفافیت کے فقدان کی وجہ سے افغان عوام کے بجائے دوبارہ انہی کرپٹ راستوں پر جا رہی ہے جس سے خطے میں مزید انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔
ادھرامریکی انسپکٹر جنرل کی جانب سے افغانستان میں 2001ء سے 2021ء تک جاری جنگ اور تعمیر نو کے حوالے سے حتمی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کی مبینہ کوششوں کے باوجود افغان حکومت کو دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ریاستی ڈھانچے کی کمزوری پیدا ہوئی۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی سرکاری رپورٹ کے مطابق 2002ء سے 2021ء تک امریکا نے افغانستان میں تعمیر نو کے لیے مجموعی طور پر 144.7 ارب ڈالر مختص کیے جن میں سے 137.3 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔
اس دوران تعمیر نو کے اخراجات یورپ کے مارشل پلان سے بھی زیادہ رہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان حکومتوں میں کرپشن تعمیر نو میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی۔افغانستان میں جاری جنگی کارروائیوں پر امریکا نے 763 ارب ڈالر خرچ کیے جبکہ افغان سیکورٹی فورسز کے لیے 90 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔
اربوں ڈالر کے اخراجات کے باوجود غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہ ہوا اور امریکی انخلا کے بعد افغان فورسز تیزی سے بکھر گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان سیکورٹی اداروں میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود رہے اور فورسز کے لیے مختص ایندھن بڑے پیمانے پر چوری ہوتا رہا۔
افغان فورسز کیلئے گاڑیاں، ہزاروں عسکری آلات اور ہتھیار فراہم کیے گئے جن میں 162 طیارے بھی شامل ہیں، لیکن انخلا کے بعد یہ تمام سازوسامان افغانستان میں چھوڑ دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک نے 12.16 ارب ڈالر کے وعدے کیے تاہم انسدادِ منشیات پروگرام پر 7.3 ارب ڈالر خرچ ہونے کے باوجود وہ غیر موثر رہے اور اسٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ ہونے کے بعد بھی نتائج مایوس کن رہے۔

