5 جنوری کا دن کشمیریوں کے لیے محض ایک تاریخ نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے اس ادھورے وعدے کی یاد دہانی ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے وفا ہونے کا منتظر ہے۔ بھارتی فوج نے جنت نظیر کشمیر کو عملاً جہنم بنا رکھا ہے مگر کسی بین الاقوامی انسانی حقوق کی خودساختہ چیمپیئن تنظیم کو مظلوم کشمیری نظر آتے ہیں نہ امریکا کی باندی اقوامِ متحدہ کو کبھی اپنے وعدے کی تکمیل کا خیال آیا ہے۔ کشمیری آزادی کی دلہن کو بیاہنے کے لیے لاکھوں سروں کا حق مہر بھی ادا کر چکے مگر دنیا کا قاضی عالمی چودھریوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔
تاریخ کے اوراق میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو قوموں کی تقدیر بدلنے کی ضمانت دیتے ہیں لیکن اگر ان پر عمل نہ ہو تو وہ عالمی اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ 5 جنوری 1949ء کا دن بھی ایک ایسا ہی سنگِ میل تھا جب اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے ہند و پاکستان (UNCIP ) نے ایک قرارداد منظور کی جس میں کشمیریوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ ایک آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ آج اس تاریخی وعدے کو 77 برس بیت چکے ہیں مگر کشمیری عوام کے لیے ‘حقِ خود ارادیت’ کا وہ خواب ہنوز تعبیر سے محروم ہے۔
5 جنوری کی قرارداد کا لبِ لباب یہ تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ عوام کی آزادانہ مرضی سے کیا جائے گا۔ اس قرارداد کو نہ صرف عالمی برادری نے تسلیم کیا بلکہ اس وقت کے بھارتی قیادت نے بھی عالمی فورمز پر اسے تسلیم کرنے کا عہد کیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت اپنے وعدوں سے منحرف ہوتا گیا اور کشمیریوں کی آواز کو طاقت کے زور پر دبانے کی پالیسی اختیار کر لی۔ اس نے زور اور جبر کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کا ہر حربہ آزمایا۔ مقبوضہ کشمیر کے چپے چپے پر بھارتی فوج تعینات کر دی۔ آزادی کے ہر نام لیوا کو اذیتیں دے دے کر شہید کر دیا کہ دوسرے اس انجام سے عبرت پکڑیں مگر 77سالوں میں آزادی کی خواہش کی یہ شمع روشن سے روشن تر ہوتی رہی ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ کسی دھونس، جبر حتٰی کہ موت سے بھی کشمیریوں کو نہیں ڈرایا جا سکتا۔
مودی حکومت نے 5اگست 2019ء کو آرٹیکل 370اور 35ـAکا خاتمہ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت چھین لی۔ یہ اقدام نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی تھا بلکہ حقِ خود ارادیت کے مطالبے کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں انٹرنیٹ کی بندش، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں معمول بن چکی ہیں۔ ان حالات میں عالمی ضمیر کی خاموشی نہ صرف لمحہ فکریہ ہے بلکہ دردناک بھی ہے۔ 5جنوری کا دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج انسانی حقوق صرف مخصوص خطوں کے لیے ہیں؟ فلسطین ہو یا کشمیر، عالمی طاقتوں کا دوہرا معیار انسانیت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ جب مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں رائے شماری کرائی جا سکتی ہے تو کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق دینے میں کیا رکاوٹ ہے؟
پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کو اپنی ‘شہ رگ’ قرار دیا ہے۔ ہر سال 5جنوری کو ‘یومِ حقِ خود ارادیت’ منا کر پاکستان دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کشمیری تنہا نہیں ہیں۔ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی محاذ پر پاکستان کی جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک سری نگر کے چوراہوں پر کشمیریوں کی اپنی مرضی کا سورج طلوع نہیں ہوتا۔ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینا کوئی مراعات نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق کی نوک پر زمینوں کو تو فتح کیا جا سکتا ہے مگر دلوں اور نظریات کو زیر نہیں کیا جا سکتا۔ 5جنوری کا دن اقوامِ متحدہ کے لیے ایک تقاضا ہے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے ورنہ تاریخ اسے ایک ایسے ادارے کے طور پر یاد رکھے گی جو امن کے قیام میں ناکام رہا۔اقوامِ عالم کی بے حِسی اگرچہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے سفر کو طویل کر رہی ہے مگر جلد یا بدیر اس سفر کو ختم ہونا ہے۔ کشمیری ایک دن آزادی کی منزل کو ضرور پائیں گے۔کشمیریوں کی قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی کیونکہ آزادی کی جو شمع جلا دی گئی ہے اسے اب کوئی طوفان بجھا نہیں سکتا۔

