بلوچستان،کے پی میں 5اہلکاروں سمیت 9قتل(پنجاب میں خوارج کاحملہ پسپا)

پشاور/کوئٹہ/ تونسہ:کے پی میں دہشت گردوں کی فائرنگ،5پولیس اہلکار شہید،بلوچستان کے سرحدی علاقے سے چار افراد کی لاشیں برآمد،پنجاب میں خوارج کا حملہ پسپا کردیا گیا۔

لکی مروت اور بنوں میں فائرنگ کے واقعات میں 4پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ لکی مروت پولیس کے ترجمان کے مطابق سرائے نورنگ شہر میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے فائرنگ کی جس سے ڈیوٹی پر مامور3ٹریفک پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے میں انچارج ٹریفک پولیس نورنگ جلال خان،کانسٹیبل عزیز اللہ اور کانسٹیبل عبداللہ شہید ہوئے۔ ترجمان کے مطابق نامعلوم موٹرسائیکل سوار دہشت گرد فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے، شہید پولیس اہلکاروں کی لاشیں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال سرائے نورنگ منتقل کردی گئی ہے۔

دوسری جانب بنوں پولیس کا کہنا ہے کہ منڈان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہوگیا،کانسٹیبل رشید خان گھر سے ڈیوٹی پر تھانا منڈان جا رہا تھا کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہوگیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لکی مروت میں فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے، انہوں نے دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ٹریفک پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔سہیل آفریدی نے کہا واقعہ افسوسناک ہے، شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

بزدلانہ حملوں سے ملک دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکار فرنٹ لائن پر قربانیاں دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا،صوبائی حکومت پولیس فورس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، شہدا کے لواحقین کو ہرممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔

ادھرگوادر کے علاقے جیونی پانوان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا ۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار موٹر سائیکل پر گشت کر رہے تھے کہ دہشت گردوں نے فائرنگ کردی جس سے ایک اہلکار موقع پر شہیدہوگیا۔

فائرنگ سے موٹر سائیکل پر سوار دوسرا اہلکار شدید زخمی ہوگیا۔واقعے کے بعد دہشت گرد فرار ہوگئے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔دریں اثناء ضلع ژوب میں موسیٰ خیل کے سرحدی علاقے سے 4 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق تمام افراد کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ژوب اور موسیٰ خیل کے سرحدی علاقے سے چار لاشوں کی اطلاع ملی جس پر ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ایمبولینسز کو فوری طور پر موقع پر روانہ کر دیا گیا۔

ریسکیو اہلکاروں نے لاشوں کو ضروری کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چاروں افراد کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تاہم واقعے کی اصل نوعیت پولیس اور متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے بعد واضح ہوگی۔ انتظامیہ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔

علاوہ ازیںپنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی نے تونسہ میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے سرحدی چیک پوسٹ پر بڑا دہشت گرد حملہ ناکام بنادیا ۔بتایا گیا ہے کہ 15 سے 20 خارجی دہشت گردوں نے سرحدی حدود میں قائم پولیس چیک پوسٹ پر منظم حملہ کیا۔

خارجی دہشت گرد چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم ہو کر چاروں اطراف سے چیک پوسٹ پر حملہ آور ہوئے۔دہشت گردوں نے حملے کے دوران راکٹ لانچرز اور بھاری اسلحے کا بے دریغ استعمال کیا،پولیس اہلکاروں کے الرٹ رہنے کے باعث تھرمل امیج کیمروں سے دہشت گردوں کی بروقت نشاندہی کی گئی۔پولیس نے مشین گنز اور مارٹر گنز سے بھرپور فائرنگ کر کے فوری جوابی کارروائی کی۔