پشاور : وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کی سرکاری رہائش گاہوں اور سرکاری گاڑیوں پر غیر متعلقہ افراد کے قابض ہونے کے انکشاف پر فوری اور سخت اقدامات کی ہدایت جاری کر دی۔
وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق ریٹائرڈ ہونیوالے یا خیبرپختونخوا سے تبادلہ پانے والے سرکاری ملازمین سے سرکاری رہائش گاہیں فوری خالی کرائی جائیں اور سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں، مراسلے میں تمام محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ سرکاری رہائش گاہیں حاصل کرنے والے ملازمین کے کیسز کا بھی جائزہ لیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ایسے کیسز کی نشاندہی کی جائے جن میں شوہر اور بیوی کو الگ الگ سرکاری گھر الاٹ کیے گئے ہوں جبکہ پشاور میں ذاتی گھر رکھنے کے باوجود سرکاری رہائش گاہ حاصل کرنے والوں سے بھی سرکاری گھر واپس لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو گزشتہ دس سالوں کے دوران خریدی گئی سرکاری گاڑیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، کابینہ اراکین اور انتظامی سیکرٹریز کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے، بعض سرکاری ملازمین ریٹائرمنٹ یا تبادلوں کے بعد بھی سرکاری گاڑیاں اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ سرکاری وسائل کے غلط استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور حقیقی آزادی کے حصول کیلئے سیاسی جدوجہد آئینی، پرامن اور منظم انداز میں جاری رہے گی، عوام سے رابطے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ عوامی آواز ہر فورم پر موثر انداز میں سامنے آ سکے۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی سے کراچی سے آئے ہوئے وفد نے ملاقات کی۔وفد میں عطا اللہ ایڈووکیٹ، سیف الرحمن، سعید آفریدی، الیاس خلیل اور دیگر شامل تھے، ملاقات کے دوران وزیراعلی کے دورہ کراچی و سندھ سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

