کراکس/واشنگٹن/نیویارک/روم:وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کی عدالت عظمیٰ نے نائب صدر ڈیلسی کو عارضی طور پر عہدہ سنبھالنے کا حکم دے دیاجس کے بعد انہوں نے عہدہ سنبھال لیا اور اعلان کیا کہ ان کا ملک کسی صورت امریکا سمیت کسی کی کالونی نہیں بنے گا۔
وینزویلا کی سپریم کورٹ نے رات گئے حکم نامہ جاری کیا کہ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز انتظامی تسلسل اور ملک کے ہمہ جہت دفاع کی ضمانت کے لیے قائم مقام کی حیثیت سے صدارتی دفتر سے وابستہ تمام تر صفات، فرائض اور اختیارات سنبھالیں اور ان کا استعمال کریں۔
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے ملک پر ہونے والی مسلح جارحیت کی مذمت کی اور کہا کہ ملک کی دفاعی کونسل کو فعال کر دیا گیا ہے۔روڈریگز نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مزید ردعمل آئندہ چند گھنٹوں میں سامنے آنے کی توقع ہے، یہاں ایک واضح حکومتی نظام موجود ہے، وینزویلا باوقار اور قانونی مکالمے کے لیے تیار ہے۔
عدالت عظمیٰ کے ججوں نے مادورو کو مستقل طور پر عہدے سے غیر حاضر قرار دینے سے گریز کیا، کیوں کہ اس فیصلے کی صورت میں 30 دن کے اندر انتخابات کروانا ضروری ہوتا ہے۔ ڈیلسی روڈریگز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا کو چلانے کے دعوے کو مسترد کر دیا اور واضح کیا کہ وینزویلا کسی بھی ملک کی کالونی نہیں بنے گا۔
صدر مادورو کو اغوا کیا گیا ہے، نکولس مادورو ہی وینزویلا کے صدر ہیں۔ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے عوام صبر اور اتحاد سے کام لیں، امریکی فوج کی کارروائی کے بعد ہم وینزویلا کے دفاع اور اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئے تیار ہیں۔
دوسری جانبوینزویلا کی اپوزیشن سیاستدان اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریہ کورینا نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر کہا ہے کہ وینزویلا میں عوامی حکومت کے قیام کا وقت آ چکا ہے انٹرنیٹ پر وینزویلا کے عوام کے نام کھلے خط میں ماریہ کورینا نے اپوزیشن لیڈر ایڈمنڈو گونزالیز کی ملک کے نئے لیڈر کے طور پر حمایت کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ مادورو کو اب بین الاقوامی انصاف کا سامنا کرنا ہوگا۔
دریں اثناء امریکی حملے اور صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کی سیاست میں نیا موڑ آ گیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلاکی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو سے رابطہ نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے وینزویلا پر حملے اور صدر کی گرفتاری کے بعد میں وینزویلا کے سیاسی مستقبل پر ماریا کورینا ماچاڈو سے بات کی ؟ تو ٹرمپ نے صاف لفظوں میں جواب دیا کہ ‘نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ’میرے خیال میں ماچاڈو کے لیے لیڈر بننا بہت مشکل ہوگا۔ ان کے پاس ملک کے اندر وہ عوامی حمایت یا احترام موجود نہیں ہے جو وینزویلا کی قیادت کے لیے ضروری ہے۔
علاوہ ازیںاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا میں حالیہ کشیدگی میں اضافے، بالخصوص امریکا کی جانب سے کی گئی فوجی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بیان کے مطابق سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ اس پیش رفت کے خطے پر تشویشناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، وینزویلا کی صورتحال سے قطع نظر، اس نوعیت کی فوجی کارروائیاں ایک خطرناک نظیر قائم کرتی ہیں۔
ادھراطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کی حمایت کردی۔ غیرملکی میڈیاپورٹ کے مطابق وزیراعظم جارجیا میلونی نے وینزویلا کی صورتحال پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی جائز ہے، امریکی کارروائی کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہیں۔
جارجیا میلونی نے کہاکہ اٹلی نے وینزویلا صدر کی خود ساختہ انتخابی فتح کو تسلیم نہیں کیا، ہم وینزویلا میں جمہوری انتقالِ اقتدار کی حمایت کرتے ہیں۔اطالوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ البتہ فوجی مداخلت آمریت کے خاتمے کا حل نہیں، وینزویلا میں مقیم اطالوی برادری کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔
وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا کو کنٹرول میں رکھنے کے بیان پر امریکا سمیت مختلف ممالک میں زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے ، واشنگٹن میں وائٹ ہائوس کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔
نعرے لگانے کے ساتھ مظاہرین نے’وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں’ کے بینر بھی لہرائے ۔ادھر نیو یارک شہر کے ٹائمز اسکوائر میں مظاہرین نے ریلی نکالی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ پیرس میں بائیں بازو کے مظاہرین نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کی اور وینزویلا کے جھنڈے لہرائے۔
وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے خلاف یونان کے دار الحکومت ایتھنز میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا۔روم میں اٹلی کے شہریوں کا وینزویلا میں امریکی آپریشن کے خلاف احتجاج اور ارجنٹینا اور کولمبیا میں بھی امریکی حملے کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔
امریکا کی سابق نائب صدر اور ڈیموکریٹ سیاست دان کاملا ہیرس نے وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے اقدامات سے امریکا نہ محفوظ ہوا نہ مضبوط اور نہ ہی سستا۔ایک بیان میں کاملا ہیرس نے کہا کہ صدر مادورو کا غیرقانونی، ظالم اور آمر ہونا اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا کہ امریکی حملہ غیرقانونی اور غیر دانش مندانہ تھا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل آج ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی جس میں وینزویلا میں امریکا کی فوجی کارروائی پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش اور بین الاقوامی نظام کو لاحق ممکنہ خطرات پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس کولمبیا کی درخواست پر بلایا گیا جس کی چین اور روس نے حمایت کی جبکہ وینزویلا نے بھی باضابطہ طور پر سلامتی کونسل سے رجوع کیا ہے۔اجلاس بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کے ایجنڈے کے تحت ہوگا اور سیکریٹری جنرل کونسل کے ارکان کو بریفنگ دیں گے۔

