خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں دھماکے میں 9 افراد شہید ہو گئے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق دھماکے میں شہید ہونے والوں میں 2 ٹریفک پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتال لائے گئے زخمیوں میں خاتون اور بچے بھی شامل ہیں۔دریں اثنا وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سرائے نورنگ بازار میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے خاتمہ کیلئے ادارے اور حکومت بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں، دہشت گردوں کو ملک کے امن و ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب خیبر پختونخوا بالخصوص صوبے کے قبائلی اور جنوبی اضلاع اور بلوچستان کے مختلف علاقے مسلسل دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں اور حالات روز بروز زیادہ سنگین رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ان علاقوں میں رات کا اندھیرا پھیلتے ہی ریاستی عملداری معطل ہوجاتی ہے۔ بالخصوص کے پی کے کے سرحدی اور قبائلی علاقوں میں ایسا تاثر پیدا ہوچکا ہے کہ انتظام حکومت کی بجائے مسلح جتھوں اور دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ میں ہے۔ آئے دن پولیس چوکیوں، سیکورٹی پوسٹوں، سرکاری تنصیبات اور عوامی مقامات پر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز بنوں میں درجنوں دہشت گردوں کا پورا ایک ٹولہ پولیس چوکی پر حملہ آور ہوا اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے بعد باآسانی فرار ہوگیا۔ اس کے اگلے ہی دن سرائے نورنگ کا یہ زیر تبصرہ واقعہ پیش آیا ہے اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب قوم اس نوعیت کی خبروں کی اس قدر عادی ہوگئی ہے کہ ہر نئے واقعے کے بعد یہ خدشہ موجود رہتا ہے کہ اگلی صبح کسی اور ضلع یا شہر سے ایسی ہی خونچکاں خبر نہ آجائے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ واضح ہے کہ سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کا فرنٹ سے مقابلہ کر رہی ہیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور آئے دن فورسز بروقت کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کے منصوبے ناکام بناتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں بڑی تعداد میں خارجی دہشت گرد مارے گئے اور ان کے ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں۔ ہمارے جوان اور افسر روزانہ کی بنیاد پر قربانیاں دے رہے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ چھاپا مار جنگ میں حملہ آور کو نفسیاتی اور عملی برتری حاصل ہوتی ہے۔ حملہ آور اپنے وقت، مقام اور حکمت عملی کا انتخاب خود کرتے ہیں، اچانک حملہ آور ہوتے ہیں اور کارروائی کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس فورسز دفاعی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں ہوتی ہیں۔ دوسرا اور زیادہ پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ یہ دہشت گرد کسی الگ دنیا سے نہیں آتے بلکہ ہمارے ہی درمیان رہتے ہیں، ان کے حلیے عام شہریوں جیسے ہوتے ہیں، وہ مقامی آبادی میں باآسانی گھل مل جاتے ہیں اور مناسب وقت ملتے ہی خونریز کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف جنگ محض عسکری کارروائیوں سے نہیں جیتی جاسکتی۔ جب تک سماجی، سیاسی، فکری اور انتظامی سطح پر ایک جامع حکمت عملی اختیار نہیں کی جاتی، یہ ناسور کسی نہ کسی شکل میں سر اٹھاتا رہے گا۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ قوم اس معاملے پر مکمل یکسو نہیں ہے۔ ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں، عوام نشانہ بن رہے ہیں، معیشت متاثر ہو رہی ہے، مگر اس کے باوجود دہشت گردی کے مسئلے پر قومی سطح پر واضح اور متفقہ بیانیہ موجود نہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں، حلقے اور طبقات اپنے اپنے زاویوں سے صورتحال کو دیکھتے ہیں۔ کہیں سیاسی مصلحتیں حائل ہیں اور کسی کو جائز تحفظات اور حقیقی شکایات ہیں۔ ایسی صورتحال میں دہشت گرد عناصر کیلئے ماحول مزید سازگار ہوجاتا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک منقسم قوم ان کیخلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرسکتی۔
یہ مسئلہ صرف خیبر پختونخوا یا بلوچستان کے چند اضلاع کا نہیں۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ جن علاقوں میں دہشت گردی جاری ہے وہاں کے لوگ بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ ان کی جان، مال اور عزت کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی بڑے شہر کے شہری کا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان علاقوں میں مسلسل بدامنی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کاروبار تباہ ہو رہے ہیں، تعلیم متاثر ہے، سرمایہ کاری رک چکی ہے اور لوگ خوف کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دہشت گردی کے ان واقعات کا ایک اور خطرناک پہلو پاکستان کا عالمی تاثر ہے۔ دنیا پہلے ہی پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر دیکھتی ہے۔ مسلسل دھماکوں، حملوں اور خونریزی کی خبریں بیرونی سرمایہ کاروں، سیاحوں اور عالمی اداروں کے اعتماد کو کمزور کرتی ہیں۔ ایک ایسا ملک جو دہائیوں سے معاشی مشکلات کا شکار ہو، وہ بدامنی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ سرمایہ کاری، تجارت، سیاحت اور ترقی سب کا دارومدار امن و استحکام پر ہوتا ہے۔ جب دنیا کو یہ پیغام جائے کہ ملک کے بعض حصوں میں رات کے وقت ریاستی عملداری کمزور پڑ جاتی ہے تو اس کے اثرات پوری قومی معیشت کو جکڑ لیتے ہیں۔
اب وقت آچکا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کو صرف عسکری زاویے سے دیکھنے کی بجائے وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ایک وسیع البنیاد قومی مجلس مشاورت منعقد کی جائے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں، عسکری قیادت، مذہبی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔ اس فورم پر کھلے دل کے ساتھ تحفظات، غلطیوں، خدشات اور تجاویز کا تبادلہ ہونا چاہیے۔ اگر ایک متفقہ قومی پالیسی بنانے میں دنوں کی بجائے مہینے بھی لگ جائیں تو یہ قیمت زیادہ نہیں، کیونکہ اس کے بدلے ملک کو مستقل امن اور استحکام مل سکتا ہے۔ پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کیخلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں شہریوں، پولیس و فوجی اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ اب اس کے مکمل خاتمے کی سبیل نکالی جائے۔ اگر قوم ایک آواز اور ایک موقف کے ساتھ کھڑی ہوگئی تو دہشت گردی کا یہ عفریت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ سرائے نورنگ جیسے سانحات محض خبریں بن کر رہ جائیں گے اور وزیراعظم اور حکومت رسمی مذمتی بیانات جاری کرکے مطمئن بیٹھے رہیں گے۔

