بھارتی مہم جوئی سے ہوشیار رہنے کی ضرورت

بین الاقوامی امن اور خطے کی سلامتی کے لیے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے جس کا حالیہ نتیجہ امریکا کی جانب سے ضبط کردہ ایرانی جہازوں کی پاکستان کو حوالگی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت کا امکان ظاہر کیا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی اپنی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہوکر انھوں نے دھمکی آمیز الفاظ کا استعمال بھی ضروری سمجھا ہے جس کے جواب میں پاسداران انقلاب کے ترجمان کی جانب سے بھی بلند بانگ دعوے کیے گئے ہیں۔ دو انتہا پسند مزاج رکھنے والی ریاستی قوتوں کے درمیان تناؤ، کشیدگی اور تصادم کے خطرات سے دنیا کے بیشتر عوام کو مہنگائی، اشیائے ضرورت کی گرانی اور زندگی کی نئی پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا ہے لیکن دونوں ریاستیں ایک دوسر ے کو نیچا دکھانے کی کدو کاوش میں مصرو ف ہیں۔ امریکا کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کو شکست فاش دے چکا ہے اور اب صرف معاہدے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ ایران کی جوہری قوت کے خطرے سے دنیا کو محفوظ رکھا جا سکے جب کہ اس کے بالمقابل ایرانی انقلابی دستے اپنی عظمت کے پھیریرے لہرا رہے ہیں۔

اس پیچیدہ ماحول میں پاکستان دوست ممالک کے ساتھ مل کر خطے کو تصادم اور تباہی سے محفوظ رکھنے کی سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی کوششوں کے نتائج فریقین کے مابین جنگ بندی کی صورت میں ظاہر ہوئے بصورت دیگر اس وقت عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں دوسو پچاس ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہوتیں۔ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکی انتظامیہ آبنائے ہرمز سے غیر جانب دار ممالک کے پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے پر تیار ہو چکی ہے جبکہ ایرانی جہاز کی پاکستان کو سپردگی بھی ایک مثبت علامت ہے جس سے امن کے لیے بات چیت کے آگے بڑھنے کا تاثر تقویت پا رہا ہے۔ پاکستان کی امن کوششوں کے باوجود بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کسی مہم جوئی کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں بھارت کسی بھی وقت تصادم کا آغاز کر سکتا ہے۔ پاکستان کے خلاف بھارت نے بالواسطہ جنگ افغانستان کے راستے ویسے ہی چھیڑ رکھی ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق اس وقت افغانستان بھارتی پراکسی کا کردار ادا کر رہا ہے جہاں سے پاکستان پر مسلسل حملے جاری ہیں۔ افغانستان پاکستان کے خلاف فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کو استعمال کر کے پاکستان کی افواج کو مصروف رکھنا چاہتا ہے تاکہ بھارت کے لیے حملے کی راہ ہموار ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان سرزمین سے روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف خوارج کی تشکیلات سامنے آ رہی ہیں اور ہماری مغربی سرحد پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔

دراصل معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی بھارت کو کسی طور ہضم نہیں ہو پا رہی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت نے گزشتہ مئی کے بعد سے اب تک کا دورانیہ جنگ کی تیاریوں ہی میں صرف کیا ہے اور اب جبکہ وہ نئے حملے کے لیے پر تول چکا ہے، گزشتہ برس کے معرکے سے جڑے حقائق کے متعلق بھارتی قیادت نے دبے لفظوں میں لب کشائی بھی کی ہے تاکہ بھارت کے ممکنہ ردعمل سے قبل عالمی میڈیا کو اپنے حق میں استعمال کیا جا سکے۔ بھارت کی جنگی تیاروں کو دیکھتے ہوئے قیاس یہی کہتا ہے کہ اس مرتبہ بھارت جدید جنگوں کے متعارف کردہ حربوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر میزائلوں سے حملہ آور ہوگا جبکہ دوسری سمت سے بھارتی بحریہ پاکستان کی ناکہ بندی کی کوشش کرے گی۔ بفضلہ تعالیٰ پاکستان کی عسکری قیادت ان حربوں سے نابلد نہیں ہے۔ پاکستان نے فتح دوم اور ابدالی میزائلوں کے تجربات کیے ہیں تاکہ دشمن کو پیغام مل سکے کہ حماقت کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ علاوہ ازیں چین سے حاصل کردہ جدید آبدوزوں کے علاوہ نئے سمندروں کی حفاظت کے لیے جدید ترین آلات، طیارے اور میزائل نظام بحریہ کو دیے جا رہے ہیں تاکہ دشمن کی عددی برتری کو پیشہ ورانہ مہارتوں اور ملی اور قومی جذبوں کے امتزاج سے شکست فاش دی جا سکی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان چین سے بارہ ارب ڈالر مالیت رکھنے والے جدید ترین جنگی جہاز، آبدوزیں، ریڈار اور الیکٹرانک حربے حاصل کر رہا ہے تاکہ خطے میں مشرکانہ تہذیب کو بزور قوت نافذ کرنے اور اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والی مودی قیادت کی طبیعت صاف کی جا سکے۔ یہ بھارتی قیادت کی بیمار ذہنیت ہی ہے جس نے پاکستان کے ساتھ دشمنی مول لے کر نہ صرف اپنی فضائی انڈسٹری کے لیے مسائل پیدا کر دیے ہیں بلکہ چار بہار جیسی بندرگاہ سے محرومی اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک تجارتی رسائی کے امکانات بھی کم کر چکا ہے جبکہ آپریشن سندور میں منہ کی کھانے کی وجہ سے جگ ہنسائی اس کے علاوہ ہے۔ بھارتی قیادت میں رتی بھر عقل و شعور ہوتا تو وہ بدلتے ہوئے حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے علاقائی سطح پرامن کے لیے بھارت جیسے بڑے ملک کے کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی اور افغانستان کے راستے پاکستان میں ٹانگیں اڑانے کی بجائے پاکستان کے ساتھ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے یا کم از کم محدود کرنے پر توجہ دیتی لیکن تعصب اور عناد کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔

ان حالات میں جبکہ بھارتی فوج پاکستان پر حملے کے لیے پر تول چکی ہے، ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے جہاں آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورت حال کا تدارک اہمیت رکھتا ہے وہاں افغانستان کے راستے ہونے والی دراندازی کا ازالہ بھی قابلِ تو جہ امر ہے۔ پاکستان کو بیک وقت کئی چیلنجوں کا سامنا ہے اور ان مسائل کا حل باہمی اتحاد کے ساتھ ہی مشروط ہے۔ ریاستی اداروں اور حکومتی صفوں میں موجود ایسے عناصر جو کہ ذاتی، طبقاتی، سیاسی یا گروہی مفادات کو قومی سلامتی اور ریاستی مفادات پر ترجیح دیتے ہوں، اس وقت زہرِ قاتل سے کم نہیں ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بھارتی قیادت کی بیمار ذہنیت نہ تو عالمی امن کے لیے پاکستان کے کردار کو قبول کر سکے گی اور نہ ہی ملک میں موجود امن کی صورت حال اسے ہضم ہوگی۔ مقامِ شکرہے کہ قومی زندگی کے ان نازک ایام میں پاکستان کو سیاسی و عسکری قیادت کے مابین مکمل ہم آہنگی کی دولت نصیب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی و عسکری امور کے درمیان توازن اور اعتدال کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیوں میں یکسانیت پیدا کی جائے اور کسی بھی طبقے یا گروہ کو اس قدر چھوٹ نہ دی جائے کہ وہ قومی وحدت کو نقصان پہنچا سکے۔