شیخ الحدیث مولانا ادریس ترنگزئی کی الم ناک شہادت

منگل کی صبح ملک کے دینی حلقوں کو یہ انتہائی الم ناک اور جانکاہ خبر سننے کو ملی کہ وطن عزیز پاکستان کے نامور عالم دین، پاکستان، افغانستان سمیت جنوبی ایشیا میں پھیلے ہزاروں علماء کے استاذ، جامعہ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور جامعہ نعمانیہ چار سدہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس ترنگزئی بھی سفاک اور شقی القلب قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے اور ان کے محافظوں کو گہرے زخم لگے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کے مقام و مرتبے کا اندازہ صرف امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ پاکستان میں حدیث کی سب سے بڑی مسند کے صدر نشین تھے اور جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں 1500سے زائد جبکہ جامعہ نعمانیہ میں 1000کے قریب طلبہ کو روزانہ حدیث کا درس دیا کرتے تھے۔ مولانا ادریس ترنگزئی کا شمار ملک کے ممتاز ترین علماء میں ہوتا تھا اور خیبر پختونخوا کے دینی و علمی حلقوں میں انہیں علم حدیث اور دیگر اسلامی علوم کے امام کا درجہ حاصل تھا۔ وہ ایک انتہائی قابل اورمنجھے ہوئے مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مقبول اور ہر دلعزیز خطیب بھی تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ مولانا ادریس ترنگزئی کو نشانہ بناکر دشمن قوتوں نے وطن عزیز پاکستان کی اساس اور وحدت پر ضرب لگانے کی کوشش کی ہے اورپاکستان کے محب وطن دینی حلقوں کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا ہے۔ مولانا ادریس ترنگزئی شورش زدہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان کی سلامتی اور استحکام اور قومی وحدت کی ایک توانا آواز تھے، انہوں نے ہمیشہ اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی ترقی و استحکام کی بات کی اور ظاہری قرائن کے مطابق یہی ان کا وہ جرم ٹھہرا جس کی بنا پر انہیں دن دہاڑے سفاکیت کا نشانہ بنایا گیا۔ ابھی چند روزقبل انہوں نے مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران میں پاکستان کے سفارتی کردار اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کو ملنے والی پذیرائی پر مسرت کا اظہار کیا تھا اور اسے پاکستان کی نیک نامی کا باعث قرار دے کر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی اس سلسلے میں کی جانے والی کاوشوں کو سراہا تھا۔ حب الوطنی اور ملک کے ساتھ خیر خواہی کے جذبے کے تحت دیے گئے اس بیان پر یہ حیرت انگیز ردعمل سامنے آیا کہ سوشل میڈیا پر پاکستان، پاکستان کے ریاستی اداروں اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے خلاف زہر افشانی کا مستقل وتیرہ رکھنے والے بعض گروہوں نے ان کے خلاف بد تمیزی کا ایک طوفان برپا کردیا اور انتہائی گھٹیا اور نازیبا انداز میں ان کی کردار کشی کی کوشش کی گئی۔ اس مہم میں خوارجی فکر رکھنے والے عسکریت پسند گروپوں کے کارندوں کے علاوہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ افراد پیش پیش تھے جن کی پہچان ہی بدتمیزی اور یاوہ گوئی ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہورہا تھا کہ پاکستان میں مخصوص دیمک زدہ ذہنیت کس قدر خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے تاہم یہ اندیشہ شاید کم ہی لوگوں کو ہوا ہوگا کہ یہ منحوس ذہنیت پاکستان کی عزت و توقیر پر اظہار مسرت کے لیے ادا کیے گئے دوجملوں کی پاداش میں شیخ محمد ادریس جیسی عبقری علمی شخصیت کی جان کے بھی در پے ہوجائے گی اور ان کو خاک وخون میں تڑپادینے سے بھی باز نہیں آئے گی۔

اس سے شاید بہت سے لوگوں کو یہ بات بھی سمجھ میں آگئی ہوگی کہ ایک حدیث میں خوارجی ذہنیت کے حامل انسان نما جانوروں کو ”جہنم کے کتے” کیوں کہا گیا ہے۔ امت مسلمہ کی تاریخ کا ایک طائرانہ جائزہ لیا جائے تو عالم اسلام کو داخلی سطح پر جن فتنوں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے، ان میں خوارج کا فتنہ سر فہرست ہے۔ اس فتنے کی پیش گوئی خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر فرما دی تھی کہ ایک گروہ ایسا پیدا ہوگا جو دیکھنے میں تو بڑا کٹر دیندار ہوگا، ان کی عبادات اور جفاکشیوں کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہوگا لیکن یہ لوگ درحقیقت دین سے ایسے نکلے ہوئے ہوں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔ چنانچہ یہ سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور میں ظاہر ہوا، اس نے سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی اور شیر خدا حضرت علی کو نہروان کے تاریخی معرکے میں ان کے ساتھ دودو ہاتھ کرنے پڑے۔ اس کے بعد بنو امیہ کے تقریباً سوسال اور بنو عباس کے ابتدائی دو سو برسوں میں کوئی خلیفہ اور حکمران ایسا نہیں گزرا جس کے دور میں خوارج کا کوئی گروہ کہیں سے نہ اٹھا ہواور مسلم سماج میں فتنہ و فساد نہ پھیلایا ہوا۔ یہاں تک کہ حجاج بن یوسف جوکہ بڑا ہی سخت گیر، سنگدل اور بے رحم اموی کمانڈر رہا، خوارج نے عراق میں ایک سال تک ان کے بھی ناک میں دم کیے رکھا۔ آج خوارج کے لیبل کے ساتھ کوئی مخصوص فرقہ تو موجود نہیں ہے تاہم خوارج کا نظریہ آج بھی زندہ ہے۔ وہ نظریہ ہے امت کے اجتماعی دھارے سے ہٹ کر قرآن، سنت، شریعت اور جہاد کی من مانی تعبیر کرنا، اپنی اس من مانی تعبیر ہی کو حق سمجھنا اور اختلافی نقطہ نظر رکھنے والوں کو خواہ وہ کتنے ہی بڑے علمائ، مشایخ اور متقی وپرہیزگار لوگ کیوں نہ ہوں کافر، مرتد، زندیق اور واجب القتل سمجھنا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے خوبصورت چہرے کو یہ خارجی ذہنیت جس قدر نقصان پہنچا رہی ہے، اتنا تو شاید امریکا اور اسرائیل بھی نقصان نہیں پہنچا رہے ہوں گے۔ اللہ کے گھروں، مساجد کے اندر تخریب کاری کرکے درجنوں بے گناہ لوگوں کو اڑا دینا، مولانا حسن جان، مولانا نور محمد، مولانا معراج الدین، مولانا رحیم اللہ حقانی، مولانا سمیع الحق اور مولانا حامد الحق جیسے علماء ومشایخ کو بے دردی سے شہید کرنا، عام مسلمانوں، پولیس والوں اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو شہید کرکے ان کے بچوں کو یتیم اور بیویوں کو بیوہ کر دینا۔ کوئی بھی ایسا شخص جس نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہو، وہ اتنی سفاکیت، بہیمیت اور جنونیت کا مرتکب کیسے ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دور حاضر کا سب سے بڑا فتنہ ہے اور اس فتنے کا سر کچلنا اب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

یہاں تھوڑا سا گلہ وطن عزیز پاکستان کے حکمرانوں اور مقتدر حلقوں سے بھی بنتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھ بھی رہے ہیں اورمحب وطن علماء و مشایخ کو تحفظ دینے کے لیے ان کی جانب سے کوئی فکر مندی دکھائی نہیں دیتی۔ مولانا ادریس ترنگزئی کو جب ملک سے محبت و وفاداری کے اظہار کی پاداش میں کھلی دھمکیاں دی جا رہی تھیں تو کیا ان کے تحفظ کے لیے ٹھوس بندوبست کرنا سیکیورٹی اداروں اور انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں تھی؟ حکومت اور ریاستی اداروں نے مولانا حسن جان شہید سے لے کر مولانا حامد الحق شہید تک کتنے علماء کے قاتل گرفتار کیے، اگر نہیں کیے تو کیوں؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہمارے ارباب اختیار کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور پاکستان کی سرزمین پر علماء حق کو دہشت گردوں کا آسان ہدف بننے سے بہرصورت بچانا ہوگا۔