اب معرکہ تعمیر وطن کی ضرورت ہے!

چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ معرکہ حق صرف دو ممالک کے درمیان جنگ نہ تھی بلکہ یہ دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں دشمن کو عبرت ناک شکست دی گئی۔ جی ایچ کیو میں معرکہ حق کی یاد میں منعقد کی گئی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا آج کا دن ہم سب کیلئے باعث افتخار ہے، ایک سال قبل ہمیں بے مثال کامیابی ملی، دشمن نے ہمارے قومی عزم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس کا ہماری فورسز نے منہ توڑ جواب دیا۔ الحمد اللہ آج پاکستان کا دفاع کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابل تسخیر ہے، دشمن جان لے پاکستان کے خلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں ہوں گے، بلکہ انتہائی خطرناک، دور رس اور تکلیف دہ ہوں گے۔

پاکستان کی عسکری، سفارتی اور قومی تاریخ میں معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص ایک ایسے روشن باب کی حیثیت اختیار کرچکا ہے، جس نے نہ صرف دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ پوری قوم کو نئی خود اعتمادی، وحدت اور استقامت بخشی۔ معرکہ حق میں پاکستان کی تاریخی کامیابی اور شاندار فتح کے ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو میں منعقدہ قومی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہایت جامع، مدلل، ولولہ انگیز اور دو ٹوک انداز میں اس تاریخی معرکے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ان کا خطاب پوری قوم کے عزم، حوصلے، دفاعی سوچ اور قومی پالیسی کی ترجمانی تھا۔ فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ معرکہ حق صرف دو ممالک کے درمیان روایتی جنگ نہ تھی بلکہ یہ دو نظریات، دو طرز فکر اور دو مختلف رویوں کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ ایک طرف جارحیت، تکبر، بالادستی اور دھونس کی پالیسی تھی جبکہ دوسری طرف امن، دفاع، خودمختاری اور قومی وقار کا جذبہ تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ دشمن نے پاکستان کے قومی عزم کو توڑنے، اس کی سا لمیت کو نقصان پہنچانے اور خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی، مگر پاکستان کی بہادر افواج، شاہینوں اور دفاعی اداروں نے چند ہی گھنٹوں میں دشمن کو ایسا دندان شکن جواب دیا کہ اس کی طاقت کا زعم اور بالاتری کا تکبر ریزہ ریزہ ہو کر رہ گیا۔

فیلڈ مارشل نے پاکستان کی دفاعی پالیسی کو نہایت وضاحت کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کی تمام تر عسکری قوت صرف اور صرف امن کے دفاع کیلئے ہے۔ پاکستان کبھی جارح ملک نہیں رہا، نہ ہی اس نے اپنی تاریخ میں کسی پڑوسی پر طاقت کے زور پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان کے دفاعی اخراجات، عسکری تیاریوں، اسلحہ سازی، میزائل پروگرام حتیٰ کہ ایٹمی صلاحیت تک کا مقصد صرف اپنی آزادی اور سا لمیت کا تحفظ ہے۔ یہی پاکستان کی دفاعی پالیسی کا اصل جوہر اور بنیاد ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کو آغاز ہی سے بیرونی خطرات، جارحانہ عزائم اور دشمن کی سازشوں کا سامنا رہا۔ ایسے حالات میں پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط بناتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود فوجی تنظیم، جنگی حکمت عملی، انٹیلی جنس نیٹ ورک، میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کے میدان میں ایسی غیر معمولی ترقی کی کہ آج اس کی عسکری صلاحیت دنیا بھر میں تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ معرکہ حق میں دنیا نے عملاً دیکھا کہ کس طرح پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو چند گھنٹوں میں گھٹنوں پر آنے پر مجبور کردیا۔ فیلڈ مارشل نے نہایت ذمہ داری کے ساتھ اس امر کی بھی وضاحت کی کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، مگر اگر کسی نے پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کی تو اسے ایسا جواب دیا جائے گا جس کے اثرات نہ صرف شدید بلکہ دور رس اور تکلیف دہ ہوں گے۔ یہ دشمن کیلئے واضح تنبیہ بھی ہے اور قوم کیلئے اعتماد و اطمینان کا باعث بھی۔

فیلڈ مارشل نے سفارتی میدان میں پاکستان کی کامیابیوں کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو مشترکہ سلامتی کی علامت قرار دیا اور اس امر پر زور دیا کہ دونوں ممالک کا دفاع ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے ثالثی کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری کے اعتماد کو پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے کردار سے دنیا پر واضح کردیا کہ وہ جنگ نہیں بلکہ امن و استحکام کا خواہاں ملک ہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کوششوں کے باوجود پاکستان نے اپنا دامن جنگ کے شعلوں سے محفوظ رکھا۔ آج عالمی سطح پر پاکستان کی عزت، وقار اور اعتبار میں جو اضافہ ہوا ہے، اس میں اسی ذمہ دارانہ پالیسی کا بنیادی کردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اگر دنیا کسی ملک سے امن و استحکام کے قیام کی امید رکھتی ہے تو وہ پاکستان ہے۔ فیلڈ مارشل نے افغانستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بجا طور پر افسوس کا اظہار کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان دشمن عناصر اور بھارتی پراکسیز کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ آئے دن خارجی دہشت گرد اور شرپسند عناصر پاکستان میں خونریزی کرتے ہیں اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج پاکستان کا دفاع اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ناقابل تسخیر ہاتھوں میں ہے اور قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ تاہم موجودہ حالات کا تقاضا یہ بھی ہے کہ دفاعی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام پر بھی بھرپور توجہ دی جائے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کمزور گورننس اور معاشی مشکلات نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ فیلڈ مارشل نے بجا طور پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پوری قوم ”معرکہ تعمیر وطن” کیلئے اسی اتحاد، یکسوئی اور قربانی کے جذبے کے ساتھ میدان میں اترے جس طرح معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کے دوران قوم متحد ہوئی تھی۔ معاشی طاقت کے بغیر مضبوط دفاع کا تصور بھی محال ہے، چنانچہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہر شعبے میں بددیانتی، کرپشن، اشرافیہ کے اسراف، عیاشیوں اور بیوروکریسی اور حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات کا باب بند کرکے معاشی میدان میں ترقی، خوشحالی اور استحکام کیلئے عملی کوششوں کا آغاز کیا جائے۔ ملک کو معاشی قوت بنانے کیلئے وہی جذبہ درکار ہے، جو جذبہ ملک کے قیام میں بروئے کار آیا تھا۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔