اطلاعات کے مطابق پاکستان کی وساطت سے امریکی انتظامیہ کو امن معاہدے سے متعلق ملنے والی تجاویز مسترد کردی گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایرانی تجاویز انہیں پسند نہیں آئیں۔ وہ اس کے علاوہ مزید کچھ چاہتے ہیں۔ ایران کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق ایرانی تجاویز ایران کے عوام اور ملک کے مفادات کے پیش نظر مرتب کی گئیں نہ کہ امریکی صدر کی منشا اور چاہت کے مطابق ، اس لیے امریکی صدر کی پسند اور ناپسند کی اس معاملے میں کوئی اہمیت نہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ ان تجاویز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ،صلح اور امن معاہدہ ممکن ہوسکتاہے یا نہیں ؟مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت یورنیم کی افزدہ شرح میں کمی پر رضامند ہوچکی ہے اور اس سلسلے میں یورنیم کے ذخائر کسی تیسرے ملک کے پاس رکھوانے پر آمادگی کا اظہار بھی پایا جاتاہے نیز ناکہ بندی ختم کرنے پر ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر بھی آمادہ ہے،تاہم ایران کی جانب سے اپنے حق میں مزید کچھ شرائط بھی شامل کی گئی ہیں ۔ ایک غیر ملکی جریدے کے مطابق ایران عارضی طورپر یورنیم کی افزودگی میں کمی لانے پر تیار ہوچکاہے لیکن دوسری جانب امریکی صدر کا اصرار ہے کہ ایران کوجوہری قوت پر امریکی منشا کے مطابق ہی سمجھوتہ کرنا ہوگا۔ امریکی صدر کے مطابق ایران میں موجود ستر فی صد اہدا ف جنگ میں حاصل کیے جاچکے ہیںجبکہ جنگ پھر سے شروع ہوئی تو امریکا ایران پر مزید خطرناک حملے کرے گالہذاایران کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ وہ امریکی شرائط کے مطابق مذاکرات اور امن معاہدے پر رضا مند ہوجائے۔ خبروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایرانی تجاویز کو مسترد کرتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا جارہاہے جو ظاہر کرتاہے کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال پوری دنیا کے لیے توانائی کے بحران اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے ۔ جنگ بندی کے باوجودآبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا میں تیل کی قیمتو ں میں ہوش ربا اضافے اور عام انسانوں کو اس سے لاحق ہونے والی تکالیف اور پریشانی کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر اس خطے میں جنگ کی آگ بھڑک اٹھے تو اس کے مزید کیسے تکلیف دہ نتائج برآمد ہوں گے ؟۔ترک صدر رجب طیب اردوان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ہوئی تو یہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آجائے گا لہذا ترکیہ ہر گز جنگ کے حق میں نہیں ہے۔ فی الواقع کوئی بھی صاحب الرائے اس جنگ کے حق میں نہیں ہوگا کیوں کہ اول تو ایران پر امریکا کی جارحیت دراصل اسرائیل کی خوشنودی کے لیے تھی ورنہ جو مقاصد جنگ کے ذریعے مطلوب تھے ،وہ ناکہ بندی سے بھی ممکن تھے جیسا کہ اب ایرانی قیادت امریکا کے ساتھ مذاکرات پر مجبور دکھائی دے رہی ہے ۔ غالباً پاکستانی قیادت نے ایران کی مذہبی و سیاسی قیادت کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بے قابو اور غیر محتاط زبان اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے لیکن وہ جس ایران کی جس قیادت کو اب نام نہاد کہہ رہے ہیں دراصل یہ خود امریکا اور اسرائیل کی غلطیوں کا ہی نتیجہ ہے ۔ اسرائیل نے امریکی مدد کی بدولت ایران کی اہم قیادت کو چن چن کر نشانہ بنا ڈالا۔ اب ایران میں داخلی سطح پر قیادت کے بحران کی خبریں گردش میں ہیں۔ بتایا جارہاہے کہ سیاسی قائدین کی بہ نسبت پاسداران ِ انقلاب اپنی بات منوارہی ہے۔پاسداران کی سیاسی مقبولیت کی بحالی کا تقاضا ہے کہ مسائل مکمل طورپر حل نہ ہوں تاکہ ایرانیوں کی مظلومیت کا منظر پاسداران کی جدوجہد کا جواز بنا رہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں ایران بہرحال دباؤ کا شکار ہے جس کی سب سے بڑی وجہ ان کی اقتصادی و معاشی ناکہ بندی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر ایرانی قیادت کو معاشی ناکہ بندی کے ذریعے مذاکرات اور معاہدے پر آمادہ کیا جاسکتا تھا تو ان پر جنگ مسلط کرنے میں غیر معمولی تیزی کیوں دکھائی گئی اور بات چیت کو پہلے ہی موقع کیوں نہ فراہم کیا گیا؟اب جبکہ امریکا جاری مذاکرات کے درمیان ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی بنیادی وجہ سمجھا جا رہا ہے تو ایران کس بنیاد پر ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد کرسکتاہے ؟فریقین کے درمیان یہی بداعتمادی دراصل تناؤ اور کشیدگی کاباعث ہے اور پاکستان بھرپور کوشش کے باوجود دونوں ممالک کی قیادت کو کسی فارمولے پر متفق نہیں کرپارہا ۔
امریکا اور ایران دونوں ملکوں کی قیادت انا کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس کشیدگی اور تناؤ کی کیفیت میں عام انسانوں کو کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے ؟غالباً دونوں ہی ملکوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کئی ممالک میں سنگین بحران پیدا کردیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارت میں حکومت کی جانب سے عوام کو پیسہ بچانے،تیل کم خرچ کرنے اور سونے کی خریداری جیسے امور کو مؤخر کرنے کی اپیل کی گئی ہے کیوں کہ بھارت میں بحران بہت بڑھ چکاہے ۔خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان فی الحال توانائی کے کسی سنگین بحران سے دوچار نہیں اور اس کے تیل اور گیس سے لدے ہوئے جہاز آسانی سے آبنائے ہرمز عبور کررہے ہیں تاہم ملک میں مہنگائی شدید ہوچکی ہے ۔ مہنگائی کی حالیہ لہر نے شہریوں کی زندگی دوبھر کردی ہے۔ مہنگائی، ٹیکسوں کی بھرمار ، بجلی کی قلت ، پٹرول کی گرانی اور روزگار کی کمی جیسے مسائل لوگوں کونفسیاتی مسائل سے دوچار کررہے ہیں جس کا اظہار جرائم کی رفتار میں اضافے کی صورت دکھائی دے رہاہے۔ ایسے موقع پر حکومت کو اپنے عوام کا بھرپور تعاون درکار ہے تا کہ دشمن سے نبر دآزما افواج پاکستان کے جوانوں کے حوصلے بلند رہیں لیکن آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے سرنگوں ہو کر حکومت عوامی حمایت کھو رہی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اربابِ حل و عقد سے بحرانی کیفیت سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آبنائے ہرمز کی صورت حال کو جلد از جلد معمول پر لانے کے لیے کوشاں ہے تاہم امریکا اور ایران دونوں ہی کے رویے سے ایسا ظاہرہوتاہے کہ وہ موجودہ حالات میں گویا بلی اور چوہے کے کھیل میں مصروف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کے اہم ممالک توانائی اور اقتصادی وسائل کے نقل و حمل کے متبادل ذرائع پر توجہ دیں۔ پاکستان گوادر پورٹ کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ سی پیک سے جڑ ے منصوبوں کو جلد تکمیل تک پہنچائے اور ایران کے ساتھ تجارتی راہ داریوں کے ساتھ ساتھ تیل کی تجارت کے منصوبے پر بھی عمل کیا جائے تا کہ گرانی،تیل کی قلت اورتوانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے کیوں کہ لگتا یہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بلی او ر چوہے کا کھیل طوالت اختیار کرجائے گا۔

