امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے نئی ایرانی تجاویز مسترد کرنے پر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئے۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نئی تجاویز کو ‘مکمل طور پر ناقابلِ قبول’ قرار دیا جبکہ ایرانی حکام نے امریکی تجاویز کو ‘ایران کی خودمختاری کے خلاف مطالبہ’ کہہ کر مسترد کر دیا ہے جس کے بعد خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور نئی جنگ کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔دونوں ممالک میں سے نہ کوئی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے اور نہ کوئی امن تجاویز کو ماننے کے لیے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ موجودہ جنگ بندی معاہدہ برقرار رہنے کے سوال پر کہا کہ یہ معاہدہ ”لائف سپورٹ” پر ہے اور کسی بھی وقت ختم ہوسکتا ہے۔امریکی صدر نے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے حالیہ امن منصوبے کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بے وقوفانہ تجویز ہے اور کوئی بھی اسے قبول نہیں کرے گا۔
ان سطور کی تحریر کے وقت پوری دنیا کی نظریں امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس پر لگی ہوئی ہیںجس میں ممکنہ طور پر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے یا آپریشن فریڈم کا پھر سے آغاز کرنے کا فیصلہ متوقع ہے البتہ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکا شاید ایران کے خلاف کسی بڑی کارروائی سے فی الوقت گریز کرے گا کیونکہ رواں ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورۂ چین طے ہے اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی تجارت کے لیے کھولنا امریکا اور چین کے درمیان مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے۔اس سے بعض تجزیہ نگاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شاید امریکا ایران جنگ کے مستقبل کا فیصلہ بھی بیجنگ میں ہوگا۔
چین نے اگرچہ اس جنگ میں ایران کا زیادہ کھل کر اور علانیہ طور پر ساتھ نہیں دیا تاہم خود امریکی صدر ٹرمپ سمیت بہت سے لوگوں کو یقین ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ میں ایران کی ثابت قدمی اور مذاکرات کے دوران اس کے بظاہر بے لچک موقف کے پیچھے دراصل چین اور روس کی پشت پناہی کی قوت کارفرما ہے۔عالمی میڈیا میں متعدد رپورٹوں میں انکشاف کیا جاچکا ہے کہ کس طرح خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کی نشاندہی چینی سٹیلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے ممکن ہوئی اور کس طرح روسی طرز کے ایرانی ڈرونز نے امریکا اور اسرائیل کی فضائی برتری کو نیچا دکھایا۔ عسکری میدان کے علاوہ سفارتی میدان میں بھی چین اور روس نے ایران کے موقف کی حمایت کی،شاید یہی وجہ ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں چین کو ضامن بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرق وسطی اور خلیج میں بظاہر ایران اور امریکا کے درمیان چلنے والی کشمکش درحقیقت دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان طاقت اور بالادستی کی جنگ بن چکی ہے ۔امریکا اسرائیل کے ورغلانے پر اس جنگ میں خود اپنے لاو لشکر کے ساتھ کودا اور اب بری طرح پھنس گیا ہے جبکہ چین اپنے مزاج اور افتاد طبع کے عین مطابق پس منظر میں رہ کراور اپنا ایک بھی سپاہی میدان میں بھیجے بغیر یہ جنگ لڑ رہا ہے اور بھرپور طریقے سے لڑ رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد چین کے ساتھ جس طرح کا مخاصمانہ رویہ اختیار کیا اور جس انداز سے پہلے وینزویلا اور پھر ایران میں مہم جوئی کرکے چین کو تیل فراہم کرنے والے ممالک کا بازو دبوچا،اس کے بعد اس بات کی توقع نہیں کی جارہی تھی کہ مسٹر ٹرمپ چین کے دورے پر جائیں گے مگر اس کے باوجود انہوں نے چین جانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اس کی بڑی وجہ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق یہی ہے کہ اب شاید امریکی صدر کو اندازہ ہوگیا ہے کہ ایران جنگ سے گلوخلاصی کا راستہ بیجنگ سے ہی ہوکر جائے گا۔ مسٹر ٹرمپ کے ہاتھ سے اب وقت نکلتا جارہا ہے۔اس وقت امریکا میں کیے گئے تمام سروے بتارہے ہیں کہ ایران جنگ نے صدر ٹرمپ کی مقبولیت زمین بوس کردی ہے اور خود امریکا میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے امریکیوں کی چیخیں نکال دی ہیں۔اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو شرم ناک شکست ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں امریکی سینیٹ اور ایوان نمایندگان میں پارٹی کی اکثریت ختم ہوسکتی ہے۔اس کے نتیجے میں وہ ساری من مانیاں ختم ہوجائیں گی جو مسٹر ٹرمپ اس وقت پارلیمنٹ میں معمولی اکثریت کے بل بوتے پر کر رہے ہیں۔اس بنا پر ایران جنگ کو ہرصورت میں سمیٹنا اب شاید ٹرمپ انتظامیہ کی مجبوری بن چکی ہے۔چین اور ایران کو بھی مسٹر ٹرمپ کی اس مجبوری کا اندازہ ہے،شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ٹرمپ کی دھمکیوں کو زیادہ خاطر میں نہیں لارہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے دورۂ چین سے کیا برآمد ہوتا ہے اور دنیا کوجنگ،تباہی اور معاشی بحران کی مصیبت سے بچانے کی کیا سبیل نکلتی ہے۔
مہنگائی حکومت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے!
صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو مہنگائی میں کمی، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے ممکنہ اقدامات کی ہدایت کردی۔ ایوان صدر میں وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقات کے دوران صدرِ مملکت نے کہا کہ مشکل جغرافیائی و علاقائی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی چین متاثر ہونے کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ صدر مملکت کی جانب سے مہنگائی پر تشویش کا اظہار بے جا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے غریب عوام بے لگام مہنگائی کے آگے عاجز آچکے ہیں اور عام آدمی کے لیے اب دووقت کی روٹی کا حصول بھی کارے دارد بن چکا ہے۔ عوام کو موجودہ عالمی حالات کا اندازہ ہے مگر ساتھ میں وہ اس احساس کا بھی شکار ہیں کہ ملک کے ارباب اختیار نے عالمی حالات کا سارا بوجھ عوام کے ناتواں کندھوں پر لادا ہوا ہے اور وہ خود کچھ قربانی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ احساس عوام میں حکومت اور موجودہ سیاسی بندوبست کے خلاف غم وغصے کی لہر میں بدل سکتا ہے اور یہ خدانخواستہ ملک میں افراتفری کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی میں کمی بالخصوص پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عائد ناجائز لیوی اور ٹیکس کم کرکے عوام کو کچھ ریلیف دینے پر توجہ دے۔

