انتہاپسند رجحانات، مصالحت کی راہ میں بڑی رکاوٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری بات چیت بہت جلد کسی نتیجے پر پہنچ جائے گی۔ انھوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو امریکا ایران پر پہلے سے زیادہ شدید حملے کرے گا۔ امریکی صدر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پاکستان کے کہنے پر پروجیکٹ فریڈم روکا۔ دوسری طرف روس نے سلامتی کونسل میں امریکا کی جانب سے پیش کردہ ایران مخالف قرار داد کو مسترد کردیا ہے۔ امریکی قرارداد میں آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے روکنے اور ٹول ٹیکس کے خاتمے کے لیے اقدام کا کہا گیا تھا۔ امریکی ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس ایک خطرناک معاملہ ہے کیونکہ یہ دنیا میں ایک نیانظام لانے کی کوشش ہے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی نیوی نے اپنے تین جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزار لیے ہیں۔ اس دوران امریکی جہازوں پر ایرانی کشتیوں کے حملے ناکام بنا دیے گئے جبکہ قشیر اور بندرعباس کے جزائر پر ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے امریکی جہازوں پر حملوں کی کوششیں کی گئی تھیں۔ امریکی ذرائع کے مطابق یہ جھڑپیں باضابطہ جنگ نہیں بلکہ اپنے دفا ع میں اٹھایا گیا اقدام تھا۔ اسی پر امریکی صدر نے بھی ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوئی بات نہیں کی بلکہ توقع ظاہر کی ہے کہ بہت جلد دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت ہوجائے گی۔ البتہ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایرانی قیادت جذباتی اور انتہاپسند ہے جس کی وجہ سے اُن کے ساتھ بات چیت میں مشکل ہورہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکا کسی بھی صورت ایران کو ایٹمی طاقت حاصل نہیں کرنے دے گا۔ امریکی صدر کے بیانات کے جواب میں ایرانی قیادت کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ ایران اپنے مفادات کا بہرصورت تحفظ کرے گا۔ ذرائع کے مطابق اس وقت دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان کسی حتمی معاہد ے سے قبل ابتدائی بات چیت، کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ بنیادی متنازع اُمور کے حل سے قبل بات چیت کو جاری رکھنے کے لیے جنگی ماحول کے خاتمے پر اتفاق پایا جاتاہے۔

یہ امر واضح ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے امریکا اور ایران کے مابین جنگ کو رکوانے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کااعتراف دونوں ملکوں کی قیادت کرچکی ہے۔ امریکی کانگریس نے بھی امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تحسین اور حمایت میں ایک قرار داد منظور کی ہے جبکہ روس کے ترجمان کی جانب سے بھی امریکا، ایران جنگ کے درمیان مصالحت کے لیے پاکستانی قیادت کی ستائش کی گئی ہے۔ پاکستان کی اس عالمی پذیرائی سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ عالمی طاقتیں ہوں یا دنیا کے دیگر طاقت رکھنے والے ممالک، بہرحال وہ امن، مصالحت اور بقائے باہمی کے اُصولوں کو درست سمجھتے ہیں اور امن کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کوشش کرنے والوں کی تائید اور حمایت بھی کرتے ہیں۔ پاکستان نے اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر جس جنگ کو روکنے کی کوشش کی وہ ایک غیرمعمولی صورتحال ہوسکتی تھی جس کی وجہ سے پوری دنیا ہی متاثر ہوتی۔ اس وقت جبکہ آبنائے ہرمز میں تنازع جاری ہے تیل کی قیمتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں پریشانی کی کیفیت ہے۔ عالمی توانائی ادارے نے تنبیہ کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے جو بحران اٹھ کھڑا ہوا ہے جنگ کے خاتمے کے باوجود اس کے اثرات دیر تک رہ سکتے ہیں جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان کی کوششیں مکمل طورپر ناکام ہوجائیں اور اسرائیل کے منصوبے کے مطابق امریکا اور ایران میں جنگ چھڑجاتی ہے تو اس کے بھیانک اثرات پوری دنیا کی معیشت کو ڈبو دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک امن کے لیے پاکستان کے کردار کی حمایت کررہے ہیں۔ پاکستان کا یہی وہ کردار ہے جو کہ موجودہ عالمی صورتحال میں مسلم ریاستوں کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے جہاں امن، سلامتی، بقائے باہمی، انسانیت کے احترام اور عام لوگوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے کوشش کی ہے وہاں اس نے اپنی مضبوط دفاعی قوت اور پیشہ ورانہ عسکری صلاحیت کے بل پر فتنہ و فساد پھیلانے والے ان گروہوں پر بھی قابو پایا ہے کہ جو کہ خطے میں بھارت اور اسرائیل کی پراکسی بن چکے تھے اور اس وقت بھی وہ افغان سرزمین کو استعمال کرکے پاکستان میں شر اور فساد پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان نے اپنی مضبوط دفاعی قوت کا اظہار بھارت جیسے بڑے ملک کی جارحیت کے خلاف بھی کیا اور آپریشن بنیان مرصوص میں تاریخی فتح حاصل کی۔ جنگ میں شاندار کامیابی حاصل کرنے اور بھارت کو گھٹنوں کے بل بٹھا دینے کے باوجود جب امریکا نے پاکستان کو جنگ بندی کی دعوت دی تو پاکستانی قیادت نے کسی حیل و حجت کے بغیر عالمی امن کی خاطر یہ دعوت قبول کرلی۔ پاکستان کے اس مجموعی کردا ر نے واضح کردیا کہ وہ قوت اور طاقت رکھنے کے باوجود ایک ذمہ دار ملک ہے جو نہ صرف عالمی امن کے ساتھ ہے بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات کا نظریہ بھی رکھتاہے۔ پاکستان کی اس مثال سے سبق سیکھتے ہوئے ایرانی قیادت کو بھی موجودہ بحران میں علاقائی امن، خطے کی سلامتی اور پڑوسی ممالک کی آزادی و خودمختاری کے احترام کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

اِس وقت ایران اور امریکا دونوں ہی انتہاپسندانہ رجحانات کا اظہار کررہے ہیں۔ امریکا ایران کو جھکانے پر بضد ہے اور ایرانی قیادت اپنی سیاسی قوت، عسکری طاقت اور ملک پر اپنی گرفت کو مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ بلاشبہ ایران کو امریکا کے تمام مطالبات منظور نہیں کرنے چاہئیں لیکن اسے اپنی اَنا کی خاطر علاقائی امن، خطے کی سلامتی اور مجموعی قومی مفادات کو بھی داؤ پر لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ جہاں تک امریکا کا تعلق ہے تو ڈونلڈٹرمپ کی قیادت میں امریکا اس وقت ایک بد مست بیل کی مانند دیکھا جارہا ہے جس کے ساتھ بلاوجہ کا تصادم مول لینا آبیل مجھے مار ہی مترادف ہوگا۔ تیل کی گرانی اور معاشی چیلنج خود ڈونلڈٹرمپ کی سیاسی مقبولیت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں اور سروے رپورٹوں کے مطابق ساٹھ فیصد سے زائد امریکی عوام عالمی سطح پر ہونے والی مہنگائی کا ذمہ دار امریکی صدر کو سمجھ رہے ہیں۔ چنانچہ امریکی قیادت کو بھی اپنی سیاسی ساکھ کی بحالی کا چیلنج درپیش ہے لیکن دونوں ملکوں کی قیادت کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ انتہاپسندانہ رجحانات ہی امن مذاکرات اور مصالحت کے سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی بدولت ایک یقینی جنگ بظاہر ٹل چکی ہے۔ اگر دونوں ریاستیں بنیادی تنازعات کے حل اور حتمی معاہدے سے قبل ابتدائی بات چیت کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کرلیں تو یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔