10مئی۔ مکار دشمن پر پاکستان کی شاندار فتح کا دن

اپنے ازلی اور موذی دشمن بھارت کے خلاف پاکستان کی شاندار فتح کو ایک سال کا عرصہ مکمل ہوگیا ہے۔ ایک سال پہلے آج ہی کے دن بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کے کامیاب آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل اس جنگ بندی کی صورت میں ہوگئی تھی جو بھارت کی مودی سرکار نے پاکستانی شاہینوں سے غضب کی مار کھانے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کے پاؤں پڑ کر ان کے ذریعے کروائی تھی۔ اگرچہ بھارتی حکومت اور فوج نے گزشتہ ایک سال کے دوران کبھی بھی کھل کر اس بات کا اعتراف نہیں کیا کہ پاکستان نے کس طرح اسے دن میں تارے دکھائے تھے اور اس کے کتنے جہاز گرائے گئے تاہم امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے جن کو اس بات پر غصہ تھا کہ بھارت نے ان کی منت سماجت کرکے ان کے ذریعے پاکستان سے اپنی گلو خلاصی تو کروائی مگر اس کا اعتراف نہیں کیا، درجنوں بار دنیا کو بتایا کہ پاک بھارت جنگ میں (بھارت کے) 8قیمتی جہاز گرائے گئے اور اگر وہ بیچ میں نے آتے تو(بھارت کے ) لاکھوں افراداپنی جانوں سے ہاتھ دھوسکتے تھے۔

چار روزہ گھمسان کی جنگ کے بعد 10مئی 2025ء کو جنگ بندی کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان دشمن کو اس کی سرزمین پر بھر پور جواب دے چکا تھا اور مودی سرکار پاکستان کی جانب سے لگنے والے زخم سہلارہی تھی اور ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کے ملک بھارت میں سوگ اور خوف و ہراس کی کیفیت طاری تھی۔ساتھ ہی پوری دنیا کے عسکری ماہرین یہ تجزیہ کر رہے تھے کہ یہ جنگ پاکستان جیت چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ایک سال کا عرصہ مکمل ہونے کے بعد بھی بھارت اس شکست کے صدمے سے نہیں نکل سکا ہے اورکھسیانی بھارتی قیادت مسلسل کھمبا نوچنے میں مصروف ہے۔ اس چار روزہ جنگ میں جس طرح بھارت کے جنگی جنونی وزیر اعظم نریندر مودی کی مٹی پلید ہوئی ،جس انداز سے پاکستان کی مسلح افواج بالخصوص پاک فضائی نے بھارت کی تمام غلط فہمیاں دور کردیں اور جس طرح بھارت کے اربوں ڈالرز کے وہ ہتھیار جن پر اسے بڑا ناز تھا، پاکستان کے مقابلے میں کھلونوں کی مانند ثابت ہوئے، اس سے بھارت کوہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک سبق ملا ہے۔مودی سرکار کے غرور کا سر نیچا ہوا ہے اورپاکستان اور اس کی مسلح افواج کی عزت و قار میںا ضافہ ہوا ہے اور ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے جس کی پیشہ وارانہ قابلیت اور شجاعت کا کوئی جواب نہیں ہے۔

2019ء کی مہم جوئی میں بھی جب پاکستان کی فضائیہ نے بروقت اور بھر پور جوابی کارروائی میں بھارت کا ایف 16 طیارہ مار گرایا تھا تو اس وقت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ بھارت کو رافیل کی کمی محسوس ہوئی ہے۔یہ وہ وقت تھا جب فرانس کے ساتھ رافیل طیاروں کے سودے میں اربوں روپے کے گھپلے کے الزام میں مودی سرکار تنقید کی زد میں تھی،ایف سولہ کی ناکامی کو بنیاد بناکر مودی سرکار نے فرانس کے ساتھ رافیل کی ڈیل مکمل کی اور دنیا کے مہنگے ترین جہازوں میں سے ایک رافیل بڑی تعداد میں خرید لیے۔اس کے بعد سے ایسا لگتا تھا جیسے مودی سرکار کو پاکستان کے خلاف مہم جوئی کا جنون طاری ہوگیا ہو۔ پہلگام کے مشکوک واقعے کو بنیاد پر بھارت نے پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی باتیں شروع کردیں تو دنیا کے بہت سے ممالک نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ پاکستان کے خلاف جارحیت سے باز رہے۔ پاکستان نے نہایت فراخدلی کے ساتھ بھارت کو پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں مدد کی پیشکش کی اور بار ہا پیغام دیا کہ وہ بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی سے گریز کرے اور پاکستان پر حملہ کرنے کی غلطی سے باز رہے مگر مودی سرکار جانے کس غلط فہمی میں تھی کہ اس نے دوست ممالک کی نصیحت پر کان دھرے نہ پاکستان کی مخلصانہ پیشکش کو در خور اعتنا جانا۔بھارتی میڈیا نے جس کو خود وہاں کے سنجیدہ حلقے اب ”گودی میڈیا” کہتے ہیں،پاکستان کے خلاف ایک عجیب خون آشامی کی فضا قائم کردی اور عقل و شعور کی کوئی آواز اٹھنے ہی نہیں دی۔حقیقت یہ ہے کہ جنگ چہار روزہ میں خود بھارتی میڈیا کے ذریعے بھارتی سماج کا جو چہرہ دنیا کے سامنے آیا،وہ موجودہ مہذب دنیا کے کیے نہایت خوفناک تھا اور اس سے یہ بات عیاں ہوگئی کہ کس طرح ایک انتہا پسند گروہ نے ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی پر محیط ایک ملک کو جذباتیت، انتہا پسندی اور جنگی جنون کی دلدل میں پھنسایا ہوا ہے۔ ایک ایسا ملک جوکہ ایٹمی قوت بھی ہے، کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کی ذہنی صلاحیت تو ایک طرف ذہنی صحت ہی محل نظر ہے۔ یہ وہ حقیقی خطرہ ہے جو آج بھی برصغیر پاک و ہند کے پونے دو ارب انسانوں کو درپیش ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عالمی قوتیں اس خطرے کا ادراک کرتیں اور مودی سرکار کو پاکستان کے خلاف مہم جوئی کے خیال سے ہی باز رکھتیں، لیکن شاید وہ بھی مودی سرکار کے جھوٹے دعووں اور بھڑک بازیوں کے فریب میں آگئی تھیں اور ان کا خیال تھا کہ بھارت پاکستان کو نیچا دکھانے میں کامیاب ہو گا جس کے بعد ان کے لیے بھی پاکستان کا بازو مروڑنا آسان ہوجائے گا۔ اگر پاکستان مودی سرکار کی ترکتازیوں کا موثر جواب نہ دیتا تو شاید ان کا نفسیاتی عارضہ مزید بڑھ جاتا اور جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو شدید خطرات لا حق ہوجاتے۔پاکستان نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بھر پور عزم کے ساتھ اپنی دفاعی طاقت کو بروئے کار لاکر بھارت اور اس کے عالمی سرپرستوں کو دکھا دیا کہ پاکستان کوئی ترنوالہ نہیں ہے جس کو بھارت یا کوئی بھی دشمن قوت ہڑپ کرسکے۔بھارت کو ایک بار پھر دھول چٹانے پر پاکستان کو اپنی مسلح افواج پر فخر ہے اور پاکستان نے ایک بار پھر دنیا پر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بھارت سمیت کسی بھی علاقائی یا عالمی سورما سے دبنے والا نہیں ہے۔

آج عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کو جو اعلیٰ مقام اور تمام متعلقہ فریقوں کا اعتبار و اعتماد حاصل ہوا ہے اور پاکستان نے جس طرح ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کرائی اور دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچایا ہے،یہ دراصل اس جرأمت مندانہ کردار کا ثمرہ ہے جو پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور ہماری مسلح افواج نے آپریشن بنیان مرصوص کے دوران متحد اور پر عزم رہ کر ادا کیا۔آج عالمی سیاست میں بھارت کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے جبکہ پاکستان پوری دنیا کے سفارتی و صحافتی حلقوں کے لیے مرکز نگاہ ہے۔ یقینا یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم اور فضل ہے جو ہمارے شہداء کی قربانیوں اور ہمارے شاہینوں کی بہادری اور جوانمردی کے صلے میں ہمیں عطا ہوا ہے۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشائ۔