کوئی دس برس پہلے لاہور میں ایک دوست کے ہاں تامل فلم دیکھی۔ میزبان دوست نے کہا تھا کہ یار ذرا دیکھو، بالی وڈ سے الگ ہے، اپنا رنگ ہے۔ فلم کا نام یاد نہیں رہا مگر ایک منظر آج تک ذہن پر نقش ہے۔ ایک لمبا تڑنگا نوجوان، گھنگھریالے بال، بائیک پر بیٹھا ہوا اور پچھلی سیٹ پر کوئی غنڈہ، ہاتھ میں ڈنڈا۔ پھر ایک منٹ کی کارروائی، دس آدمی زمین پر۔ ٹپیکل ساؤتھ انڈین فلمی ایکشن۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ سپرہٹ تامل فلم ہے۔ اس ہیرو کا نام پوچھا تو بتایا گیا کہ وجے مگر اسے تھلاپتی بھی کہتے ہیں، تھلاپتی وجے۔ تھلاپتی مطلب کمانڈر۔ خطاب فلمی تھا مگر تیرہ مئی 2026ء کو وہ حقیقی کمانڈر بن گیا۔ ایک سو چالیس ملین آبادی والی بھارتی ریاست تامل ناڈو کا وزیراعلیٰ۔
صاحبو! یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ تامل ناڈو میں پچھلے پچاس پچپن برسوں میں صرف دو پارٹیاں باری باری حکومت کرتی رہیں۔ ایک کا نام ڈی ایم کے اور دوسری اے آئی اے ڈی ایم کے۔ میں نے مخفف ہی لکھ دیے ہیں، ان کے اصل تامل نام اُردو قارئین کے لئے خاصے مشکل ہیں۔ یہ دونوں پارٹیاں وہاں کی سیاست کا ایسا پتھر تھیں جس پر تمام تر سیاسی عمارت کھڑی تھی۔ وہ پتھر اب ہل چکا۔ تھلاپتی وجے مشہور تامل سپرسٹار اداکار کی سیاست میں انٹری زیادہ پرانی نہیں۔ صرف دو سال قبل یعنی فروری 2024ء میں وجے نے پارٹی بنائی۔ اپریل 2026ء میں 234نشستوں میں سے 108جیت لیں۔ ایک سو اٹھارہ سیٹیں چاہیے تھی، اس نے کانگریس کو ساتھ ملایا، آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد کیا، لیفٹ کی دونوں پارٹیوں کی حمایت لی اور گزشتہ روز تیرہ مئی کو اعتماد کے ووٹ میں ایک سو اکیس ووٹ لے لئے۔ وزارت اعلیٰ کا حلف وہ پہلے ہی لے چکا ہے۔
ہمارے ہاں تامل ناڈو کی سیاست خاص کر دراوڑین سیاست سے زیادہ واقفیت نہیں۔ تامل ناڈو کی سیاست میں ‘دراوڑین’ نظریہ ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ای وی راماسوامی المعروف ‘پیریار’ نے یہ تحریک اٹھائی کہ جنوبی ہند کے دراوڑی لوگ شمالی ہند کے آریائی برہمنوں سے نسلی، ثقافتی اور لسانی اعتبار سے الگ ہیں اور برہمنوں نے ذات پات کے ذریعے ہم پر صدیوں ظلم کیا ہے۔ پیریار کی یہ تحریک ذات پات مخالف، برہمن مخالف، ہندوتوا مخالف اور ہندی زبان کی زبردستی کے خلاف تھی۔ پیریار نے مندروں کی مورتیاں توڑیں، پنڈتوں کے بغیر شادیاں کروائیں اور انیس سو سینتالیس کی بھارتی آزادی کو ‘یوم سوگ’کہا کہ انگریزوں کا اقتدار محض برہمنوں کے اقتدار میں بدلا ہے۔ پیریار کی فکر اور سوچ کو تامل ناڈو کی دونوں بڑی جماعتوں نے آگے بڑھایا۔ ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے دونوں اسی فکری روایت کے وارث تھے۔ یہی ان کی شناخت، یہی ان کی طاقت اور یہی ان کی سیاست رہی ہے۔ اسی وجہ سے تامل ناڈو کی سیاست خالصتاً سیکولر رہی ہے، وہاں مذہب کے نام پر سیاست نہیں ہوسکتی، بی جے پی کو تمام تر کوشش کے باوجود تامل ناڈو میں کبھی ووٹ نہیں ملے۔ وہاں دراوڑی یعنی اینٹی بی جے پی، اینٹی نارتھ انڈیا، اینٹی ہندو برہمن سیاست ہی چلتی رہی ہے۔
اب آ کر ایک تبدیلی آئی ہے کہ وجے نے دراوڑین سیاست کا پرچم اٹھانے سے انکار کردیا، تاہم وہ اینٹی نارتھ انڈیا اور اینٹی بے جے پی اور اینٹی ہندوتوا سوچ پر قائم ہے۔ ویسے وجے بھی تامل ہے مگر وہ مذہبی طور پر ہندو نہیں عیسائی ہے۔ وجے نے کہا ہے : میں بھی تامل ہوں، سماجی انصاف بھی چاہتا ہوں، بی جے پی کا مخالف بھی ہوں مگر پیریار کا جھنڈا نہیں اٹھاؤں گا، پرانی ذات پات کی سیاست نہیں کروں گا۔ ‘ اب اسے وجے کی سیاسی جرأت کہیں یا چالاکی کہ اس نے جین زی کو اپنے ساتھ کنیکٹ کیا جسے ان پرانی چیزوں، پرانی دراوڑین سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ نتیجہ سامنے ہے کہ نئی نسل نے پیریار کی کتاب بند کر کے انسٹاگرام کھول لیا تھا اور وجے انسٹاگرام کی زبان بولتا تھا۔
سوال یہ ہے کہ وجے کی کامیابی کے اصل راز کیا ہیں؟ پہلی وجہ تو اس کی پندرہ سال کی خاموش تیاری ہے۔ 2009ء میں جب وجے محض ایک مقبول فلمی اداکار تھا، اس نے اپنے پچاسی ہزار فین کلب کو ایک فلاحی تنظیم کے تحت جوڑا۔ اپنے ان فین کلب کے چیرٹی کاموں کے ذریعے وجے کے نوجوان مداح اسپتالوں میں مریضوں کی مدد کرتے، سیلاب زدگان کو امداد دیتے، طلبہ کو وظائف دیتے رہے۔ 2021ء میں انہی کلبوں نے بلدیاتی انتخابات میں ایک سو پندرہ نشستیں جیتیں۔ یعنی جب فروری 2024ء میں باقاعدہ پارٹی بنی تو بوتھ سطح کا نیٹ ورک پہلے سے موجود تھا۔ دوسرے لوگ پارٹی بناتے ہیں پھر تنظیم بناتے ہیں، وجے نے پہلے تنظیم بنائی پھر پارٹی بنائی۔ دوسرا بڑا سبب تنہا لڑنے کا فیصلہ تھا۔ دو سو تینتیس حلقوں میں اکیلے صرف اپنی نئی نویلی جماعت کے بل پر الیکشن لڑنا بہت بڑا رسک تھا۔ کوئی اتحادی نہیں، کوئی بیساکھی نہیں۔ ناقدین نے کہا خودکشی ہے مگر یہی فیصلہ سب سے بڑی طاقت بنا۔ اس کے ساتھ چلے ہوئے کارتوس نہیں تھے، یہ پلس پوائنٹ بنا۔
تھلاپتی وجے کی کامیاب کا تیسرا بڑا سیکرٹ یا سبب ڈیجیٹل مہم اور نوجوانوں سے براہ راست رابطہ تھا۔ وجے کی پارٹی نے خود کو کرپشن سے پاک، تازہ متبادل کے طور پر پیش کیا۔ پچھلی حکمران پارٹی ‘ڈی ایم کے’ بڑی بدنام ہوچکی تھی۔ پہلی بار ووٹ دینے والے، شہری نوجوان، خواتین، سب اس نئے چہرے وجے کی طرف کھنچے گئے۔ چوتھا سیکرٹ وجے کی اپنی فلمیں تھیں۔ وجے کے پردے کے کردار ہمیشہ کرپشن مخالف، غریب نواز، نظام کو للکارنے والے تھے۔ ووٹروں نے اسی اسکرین ہیرو کو اصل زندگی میں ووٹ دیا جو چالیس فلموں میں سسٹم کے خلاف لڑتا رہا تھا۔ پانچواں سبب اس کی ایک پارٹی ریلی میں ہونے والے ایک سانحے کو عزم میں بدلنا تھا۔ ستمبر 2025ء میں کارور کے جلسے میں بھگدڑ سے اکتالیس افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ کسی کا بھی سیاسی کیریئر ختم کر سکتا تھا۔ وجے نے متاثرین کو بیس بیس لاکھ روپے دیے، خود جا کر ملا، خاموشی سے سوگ منایا اور الٹا ہمدردی کی لہر بنا لی۔
تھلاپتی وجے اب وزیراعلیٰ بن گیا ہے۔ اس نے ابتدائی دنوں میں ہی کئی بڑے فیصلے اور اعلانات کئے ہیں۔ حلف کے دوسرے دن سات سو سترہ شراب کی دکانیں بند کرنے کا حکم دیا، مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور اسکولوں کے پانچ سو میٹر یعنی آدھے کلومیٹر کے دائرے میں شراب نہیں بکے گی۔ خواتین کی حفاظت کا خصوصی دستہ بنایا جو انہیں ہراسمنٹ سے بچائے گا۔ اس نے دو سو یونٹ مفت بجلی کا اعلان کیا۔ وجے نے جو کابینہ بنائی ہے، وہ دلچسپ ہے، سب پروفیشنل لوگ۔ نو وزیر، ان میں ایک معروف دیانت دار سابق انکم ٹیکس افسر جس نے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لی۔ ایک دانتوں کا ڈاکٹر، ایک اعداد شماریات کی ماہر جو پہلی بار ایم ایل اے بنی اور پرانے سیاستدان کو گیارہ ہزار ووٹوں سے ہرایا۔ روایتی سیاستدانوں کی بجائے ماہرین، یہ پیغام واضح ہے۔
پاکستانی سیاست اس سے کیا سیکھ سکتی ہے؟ یہ سوال کئی پہلوں سے دلچسپ ہے۔ تھلاپتی وجے نے جو کیا وہ عمران خان نے بھی کیا تھا یعنی شہرت سے سیاست میں انٹری۔ نظام کے خلاف بیانیہ، نوجوانوں کا جذبہ۔ وجے نے وہ غلطیاں نہیں کیں جو تحریک انصاف اور عمران خان نے بعد میں کیں۔ وجے نے ریاستی اداروں سے ٹکراؤ نہیں لیا، عدالتوں کو للکارا نہیں، مخالفین کو جیل بھیجنے کی باتیں نہیں کیں۔ اس نے دشمن وہی رکھا جو واقعی دشمن تھا یعنی دہلی کی مرکزی حکومت اور بی جے پی کا ہندوتوا، باقی سب سے گزارے کا راستہ نکالا۔ کم از کم ابھی تو یہی لگ رہا ہے، آگے جا کر وہ ٹکراو پر مجبور ہوجائے تو الگ معاملہ ہوگا۔ پاک وہند کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ ہر نیا چہرہ آتے ہی لگتا ہے تبدیلی آئی، پھر کچھ عرصے بعد وہی پرانا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ وجے کا اصل امتحان ابھی شروع ہوا ہے۔ پہلے سو دن دیکھیں گے، پہلا سال دیکھیں گے۔ البتہ جو بنیاد اس نے پندرہ سال کی محنت سے بنائی ہے، جو ڈیجیٹل نسل سے رابطہ ہے، جو غیرروایتی ماہرین کی کابینہ ہے۔ یہ سب نشانیاں امید کی ہیں۔ تامل ناڈو کی نئی نسل نے پیریار کی کتاب بند کی مگر ہندوتوا کے خلاف دیوار قائم رکھی۔ وجے نے پرانا نظریہ چھوڑا مگر نئی امید دی۔ پاکستان کی نئی نسل بھی انتظار میں ہے کہ کوئی آئے جو بارہ تیرہ سال پہلے سے بیج بوئے، بوتھ سطح تک جائے، ماہرین پر اعتماد کرے اور جیتنے کے بعد اداروں سے ٹکر لینے کی بجائے عوام کی خدمت کرے۔ افسوس کہ ہمارے گلوکار، اینکرز وغیرہ بھی سیاست میں آتے ہیں مگر کوئی ٹھوس کام کے بجائے نوٹنکی پر زیادہ فوکس رہتا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ دوسروں کو لعن طعن کے بجائے پہلے خود کو قابل اعتبار بنایا جائے، اچھا ٹھوس پلان دیں اور لڑائی جھگڑوں کے بجائے نرمی، پیار اور دلیل سے دل جیتیں۔ افسوس کہ ہم اس لحاظ سے بدنصیب رہے ہیں۔
بہرحال تامل ناڈو کے عوام کے لئے بیسٹ آف لک۔ اچھی بات یہ ہے کہ وہاں ایک سیکولر حکومت ہی بنی ہے جہاں مسلمانوں کے معاملات بہتر رہیں گے۔ تامل ناڈو کے اس نئے میسحا پر ہر ایک کی نظر ہے۔ یہ کامیاب ہو تو ایک اچھی مثال سامنے رہے گی۔

