امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو خلیج میں اپنے رویے سے پیچھے ہٹنے پر قائل کرنے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کے بحران کا حل براہ راست بیجنگ کے اقتصادی اور تزویراتی مفادات میں ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ چین کے متعدد جہاز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گذشتہ دنوں ایک چینی مال بردار جہاز پر حملہ بھی کیا گیا تھا، ان کے مطابق موجودہ کشیدگی ایشیا میں تجارت اور توانائی کے استحکام کے لیے براہ راست خطرہ بن چکی ہے۔
BREAKING: Secretary of State Marco Rubio stresses the critical need for America to strategically navigate its complex relationship with China:@seanhannity : “You view China as our top geopolitical foe.”
RUBIO: “Yeah, it’s both our top political challenge geopolitically and… pic.twitter.com/DswsSw593b
— Fox News (@FoxNews) May 13, 2026
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ عدم استحکام کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اور یہ خطہ ایشیا کو کسی بھی دوسرے خطے سے زیادہ غیر مستحکم کرنے کی دھمکی دے رہا ہے کیونکہ ایشیا توانائی کے شعبے میں اس آبنائے پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مارکو روبیو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ وہ چین کو اس بات پر قائل کر لے گا کہ وہ ایران کو خلیج میں موجودہ سرگرمیوں سے باز رکھنے کے لیے زیادہ فعال طریقے سے متحرک ہو۔
یہ بھی پڑھیں: اماراتی حکام نے نیتن یاہو کے دورۂ یو اے ای کی تردید کردی
واضح رہے کہ مارکو روبیو کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خلیج میں ایران کے ساتھ جنگ اور بحری جہاز رانی میں خلل کے باعث کشیدگی عروج پر ہے، عالمی سطح پر یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی کشیدگی سے تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی برآمدات کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، دوسری جانب چین اپنی بڑی صنعتی معیشت کو چلانے کے لیے خلیج اور ایران سے آنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
واشنگٹن اور بیجنگ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی پر محصولات عائد نہ کرنے کے حوالے سے ایک مفاہمت پر پہنچ گئے ہیں تاکہ فوجی کشیدگی کے معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے۔

