کور کمانڈرز کانفرنس میں علاقائی کشیدگی سے بچا ئو اور تحمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کا دار ومدار باہمی تحمل، ذمہ داری اور خودمختاری کے احترام پر مبنی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت 275ویں کور کمانڈر ز کانفرنس ہوئی جہاں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصوم شہریوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمانڈرز اور فارمیشنزکے عزم، مستعدی اور کامیابی کو سراہا۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے، ان کے معاون انفرا اسٹرکچر کی تباہی اور پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی شر انگیز کارروائی سے روکنے کے لیے موجودہ آپریشنل رفتار برقرار رکھی جائے گی۔
پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کا داعی و مناد رہا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی کی بنیادی روح یہی رہی ہے کہ تنازعات کو گفت و شنید اور سفارتی چینلز سے حل کیا جائے اور خطے کو ترقی، خوشحالی اور تعاون کی سمت لے جایا جائے، تاہم بدقسمتی سے جنوبی ایشیا اور اس کے گرد و نواح کا جغرافیائی و سیاسی ماحول طویل عرصے سے کشیدگی، عدم اعتماد اور پراکسی تنازعات کی زد میں رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ پاکستان برداشت کرتا آیا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان دہشت گردی کی ایک پیچیدہ، منظم اور مسلسل لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ اس جنگ میں نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ عام شہریوں، معیشت اور سماجی ڈھانچے نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی، اور داخلی سلامتی پر بے پناہ وسائل صرف کرنا پڑے۔ یہ حقیقت اب عالمی سطح پر تسلیم کی جا چکی ہے کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ بدقسمتی سے اس پورے عرصے میں علاقائی سیاست نے بحران کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مختلف علاقائی عوامل اور ریاستی مفادات نے اس آگ میں ہوا دینے کا کردار ادا کیا اور یہ بدنما سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
خطے میں بھارت اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس مجموعی صورتحال میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی طور پر تنازعات اور عدم اعتماد کا شکار رہے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت اپنے بعض اسٹریٹجک مفادات کے لئے خطے میں پراکسی نیٹ ورکس چلا رہا ہے، جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان بخوبی سمجھتا ہے کہ اس کا دشمن کھل کر خود سامنے آنے سے کتراتا ہے، مگر دشمنی نبھانے سے باز بھی نہیں آتا، چنانچہ وہ اپنے ٹروجن گھوڑوں کے ذریعے پاکستان میں سبوتاژ کی کارروائیوں کو پلان کرتا ہے اور یہ سلسلہ عشروں پر پھیلا ہوا ہے۔ اسی طرح افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی ایک پیچیدہ تاریخی پس منظر رکھتے ہیں۔ پاکستان نے دہائیوں تک افغان عوام کی میزبانی کی، ان کے لئے انسانی، تعلیمی اور معاشی سہولتوں کا دروازہ کھلا رکھا۔ تاہم حالیہ برسوں میں پاکستان کی جانب سے یہ تشویش مسلسل ظاہر کی جا رہی ہے کہ افغان سرزمین میں ایسے عناصر موجود ہیں جو پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ پاکستان کا مطالبہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے دے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے بارہا اور مختلف انداز میں سمجھانے کے باوجود طالبان رژیم کسی صورت پاکستان کے تحفظات دور کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی، جس کے نتیجے میں آئے دن پاکستان کے اندر افغانستان سے آنے والے گھس بیٹھئے دہشت گرد بے امنی میں ملوث پائے جا رہے ہیں، چنانچہ ہر طرف سے اتمام حجت کے بعد پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے چھپے مراکز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جو نہایت کامیابی سے جاری ہے اور اس سلسلے کو عوام نے خاموش حمایت کے ذریعے اپنی کلی تائید فراہم کر دی ہے۔
پاکستان کے اندرونی سیکورٹی چیلنجز میں داعش اور اس سے منسلک گروہوں سمیت مختلف شدت پسند نیٹ ورکس بھی شامل ہیں، جو سرحد پار روابط اور بد قسمتی سے پاکستانی معاشرے کے بعض حصوں میں نظریاتی اثر و نفوذ کے ذریعے سرگرم اور مضبوط ہیں۔ ان نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ ایک مسلسل اور طویل المدتی عمل ہے جس کیلئے صرف فوجی طاقت کافی نہیں، سماجی، تعلیمی اور فکری سطح پر بھی حکمت عملی درکار ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کیلئے امن معاشی بقا کی بنیادی شرط ہے۔ سرمایہ کاری، تجارتی سرگرمی، روزگار اور سماجی استحکام سب کا انحصار پرامن ماحول پر ہوتا ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت جس مرحلے سے گزر رہی ہے، اس میں استحکام اور امن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ جیسا کہ آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے علاقائی سطح پر ابھرتی ہوئی جیو پولیٹیکل تبدیلیاں بھی صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہیں۔ عالمی طاقتوں کے مفادات، توانائی کے راستے اور علاقائی اتحاد نئے توازن پیدا کر رہے ہیں، جن کے اثرات براہ راست جنوبی ایشیا پر پڑ رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان مسلسل یہ کوشش کرتا رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور اعتماد کی فضا بحال ہو۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ بھی نہیں کر سکتا۔ افغانستان کی موجود انتظامیہ کو زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ پاکستان کا امن کیلئے کردار کسی وقتی حکمت عملی کا حصہ نہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں استحکام کیلئے اپنی بساط سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے اور سیکورٹی کو بھی دفاع کی ضرورت کی حد تک ہی رکھا ہے اور آئندہ بھی یہ کوشش جاری رکھے گا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پائیدار امن یکطرفہ کوششوں سے قائم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کیلئے تمام علاقائی ممالک کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ امن، استحکام اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو پھر امن کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ طالبان رژیم کو بھی دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے امن کو ترجیح دینا ہوگی اور دہشت گردی کا کاروبار ترک کرنا ہوگا۔

