معرکہ حق: پاکستان کے عروج کے پیچھے ایک جادوئی محرک

معرکہ حق کے زیر اثر پاکستان کا راستہ ایک ردِعملی اور محدود ریاست سے بدل کر ایک پُراعتماد، پُرعزم اور تزویراتی طور پر بااثر ریاست کی طرف گامزن ہورہا ہے۔ جوہری صلاحیت سمیت دیرینہ فوجی طاقت کے باوجود سابقہ کوششیں اس قوت کو مستقل عالمی اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے کے لیے جدوجہد کرتی رہیں اور اکثر دفاعی انداز تک محدود رہیں، خاص طور پر بھارت کے حوالے سے۔ معرکہ حق متعدد شعبوں میں تیز رفتار، درست اور مربوط جوابی کارروائیوں کو ممکن بنا کر ایک فیصلہ کن تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جو کہ محض جارحیت روکنے کے عمل سے آگے بڑھ کر سکیورٹی کے نتائج کو فعال طور پر مرتب کرنے کی طرف پیش قدمی ہے۔ یہ تبدیلی عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مضبوط کرتی ہے اور اس کی آواز کو توانا بناتی ہے جس سے وہ امریکا اور ایران جیسی بڑی طاقتوں کے ساتھ زیادہ خودمختاری کے ساتھ رابطہ کرنے اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں میں حصہ ڈالنے کے قابل ہوتا ہے جو کہ علاقائی اور عالمی استحکام میں ایک وسیع تر کردار کا اشارہ ہے۔

اعتماد کا یہ اُبھار سفارت کاری، اخلاقی موقف اور معاشی مواقع تک پھیلا ہوا ہے۔ عالمی سطح پر مقام بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ مظلوم گروہوں کے لیے پاکستان کی وکالت پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے جس سے اسلامی دنیا اور آزادانہ راستوں کے متلاشی ترقی پذیر ممالک میں اس کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی دفاعی صلاحیتیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جا رہی ہیں جس سے پہلے نظرانداز کی گئی فوجی مصنوعات اپنی ثابت شدہ تاثیر کے بعد انتہائی مطلوبہ اثاثوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ تزویراتی شراکت داریاں خاص طور پر سعودی عرب اور خلیج کے دیگر ممالک کے ساتھ، مکمل سیکورٹی تعاون میں وسعت اختیار کر رہی ہیں جبکہ جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ سمیت دیگر خطوں میں بھی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ یہ رفتار دفاعی شعبے کو ایک بڑے معاشی محرک میں تبدیل کر رہی ہے جس سے برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، جدت کو فروغ مل رہا ہے اور ایک سکیورٹی فراہم کنندہ اور عالمی اُمور میں ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہورہی ہے۔

تاہم یہ معاشی خوشحالی مساوات کا صرف ایک حصہ ہے۔ معرکہ حق کا سب سے گہرا اور وسیع اثر پاکستانی عوام کی نفسیات پر ہے۔ ایک ایسی قوم کے لیے جس نے بہت کچھ سہا ہے دہائیوں کا سیاسی عدم استحکام، 1971ء کی علیحدگی کا صدمہ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ہولناکی اور بین الاقوامی سطح پر اچھوت قرار دیے جانے کی ذلت ان کے لیے معرکہ حق ایک روحانی اور نفسیاتی آزادی ہے جو مسلسل ظاہر ہو رہی ہے۔ پاکستان کے لوگ کراچی کی مصروف گلیوں سے لے کر ہنزہ کی پُرسکون وادیوں تک، فیصل آباد کے صنعتی مراکز سے لے کر لاہور کی قدیم گلیوں تک فخر کی ایک ایسی لہر محسوس کر رہے ہیں جس کا تجربہ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ یہ صرف جھنڈے لہرانے والی کھوکھلی قوم پرستی نہیں ہے، یہ اس قوم کا گہرا اور کمایا ہوا فخر ہے جس نے اپنے ملک کو آگ میں آزمائے جاتے دیکھا اور اسے کندن بن کر نکلتے ہوئے پایا۔ ‘معرکہ حق’ کا نام قومی تجدیدِ نو کا استعارہ بن گیا ہے۔ دادا دادی اپنے پوتوں پوتیوں کو اس واقعے کی کہانیاں جنگ کے قصے کے طور پر نہیں بلکہ بیداری کی داستان کے طور پر سناتے ہیں۔ اسکول کی نصابی کتابوں کو دوبارہ لکھا گیا ہے تاکہ اس تزویراتی مہارت کے ابواب شامل کیے جا سکیں جس کا مقصد جنگ کی تعریف کرنا نہیں بلکہ شجاعت، تیاری اور اصولی جواب کے اصول سکھانا ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج جن کا ہمیشہ احترام کیا جاتا تھا اب ایک بالکل نئی سطح پر عقیدت کی مستحق سمجھی جاتی ہیں۔ وہ اب صرف سرحدوں کے محافظ نہیں بلکہ ایک نئی قومی تقدیر کے معمار ہیں۔ عوام ان وردی پوش مردوں اور عورتوں کے لیے شکر گزاری اور ستائش کا بے پناہ جذبہ رکھتے ہیں جنہوں نے پاکستان کو یہ پُروقار دن دکھائے۔ پریڈز منعقد کی جاتی ہیں، تمغے دیے جاتے ہیں اور قوم اجتماعی طور پر اپنی فوج کو اپنی خودمختاری اور صلاحیت کے حتمی اظہار کے طور پر گلے لگاتی ہے، لیکن یہ فخر صرف فوج تک محدود نہیں ہے۔ ہر پاکستانی اس کامیابی میں خود کو شریک محسوس کرتا ہے۔ وہ انجینئر جو جے ایف17 کے لیے ایک پرزہ ڈیزائن کرتا ہے، وہ کوڈر جو سافٹ ویئر لکھتا ہے، وہ سفارت کار جو مذاکرات کرتا ہے، وہ کسان جو ٹیکس ادا کرتا ہے، وہ استانی جو اپنے طلبا میں حب الوطنی پیدا کرتی ہے، یہ سب جانتے ہیں کہ وہ اس ماحول میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں جس نے معرکہ حق کو ممکن بنایا۔ یہ اجتماعی فخر ٹھوس طریقوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ ‘برین ڈرین’ میں نمایاں کمی آئی ہے، وہ نوجوان تعلیم یافتہ پاکستانی جو ملک چھوڑنے کا منصوبہ بنا رہے تھے اب ایک ایسے ملک میں مستقبل دیکھ رہے ہیں جو بالآخر عروج پر ہے۔

سرمایہ کاری مسلسل آ رہی ہے، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی ہے اور قومی کرنسی پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم ایک نئی جارحیت کے ساتھ کھیلتی ہے اور جب حارث رف جیسا کھلاڑی 6-0 کا اشارہ کرتا ہے یا جہاز گرنے کی نقل اتارتا ہے، تو قوم صرف کھیلوں کی خوشی میں نہیں بلکہ ایک محنت سے حاصل کی گئی قومی سچائی کی تصدیق میں جھوم اٹھتی ہے۔ فنکاروں، شاعروں اور فلم سازوں نے اپنی توجہ اندرونِ ملک مرکوز کر لی ہے اور وہ ایسے فن پارے تخلیق کر رہے ہیں جو نئے پاکستان کا جشن مناتے ہیں۔ معرکہ حق کی توانائی سے ایک ثقافتی نشاة ثانیہ جاری ہے۔ لوگوں کا اپنے وجود کے ہر ریشے کے ساتھ یہ یقین ہے کہ وہ دن دور نہیں جب یہ ثابت شدہ طاقت، فوجی مہارت، سفارتی بصیرت اور قومی اتحاد کا یہ مجموعہ ملک کو اس کا پورا حق لوٹائے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ خوشحالی جس کا انہوں نے ستر سال سے خواب دیکھا تھا اب آخرکار پہنچ میں ہے۔ وہ ایک ایسا مستقبل دیکھ رہے ہیں جہاں پاکستان نہ صرف محفوظ بلکہ معاشی طور پر متحرک ہو، نہ صرف معزز بلکہ قابلِ رشک ہو، نہ صرف ایک کھلاڑی بلکہ ایک لیڈر ہو۔ قوم کو ایک تحفہ دیا گیا ہے، اعتماد کا تحفہ اور وہ اس تحفے کو ہر شہری کے لیے بہتر زندگی کی تعمیر کے لیے استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ احساس متفقہ ہے کہ معرکہ حق ایک اختتام نہیں بلکہ ایک آغاز ہے۔

یہ وہ جادوئی محرک ہے جس نے پاکستان کی صلاحیتوں کے تالے کھول دیے ہیں اور اب جبکہ وہ صلاحیتیں آزاد ہوچکی ہیں کچھ بھی ناممکن نظر نہیں آتا۔ دنیا نے اسے تسلیم کر لیا ہے، کمزوروں کو ایک محافظ مل گیا ہے، دشمن کو خبردار کر دیا گیا ہے اور پاکستان کے عوام طویل عرصے کے بعد پہلی بار مستقبل کی طرف بے چینی سے نہیں بلکہ اس غیرمتزلزل یقین کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ ان کے بہترین دن ابھی آنے والے ہیں۔ پاکستان کا نام جو کبھی احتیاط سے سرگوشیوں میں لیا جاتا تھا اب ہر براعظم پر فخر سے پکارا جاتا ہے اور پوری قوم ہر صبح اپنی داستان کے اگلے اور بھی زیادہ شاندار ابواب لکھنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہالوں سے لے کر میلبورن کے کرکٹ گراؤنڈز تک، تہران میں مذاکرات کی میزوں سے لے کر ریاض میں دفاعی نمائشوں تک پیغام واضح اور مستقل ہے کہ پاکستان آ چکا ہے۔ اس نے خود کو ثابت کر دیا ہے اور وہ کبھی پیچھے نہیں مڑے گا۔